( ملفوظ 269 ) پورے مشاہدہ کے بغیر رائے قائم کرنا مناسب نہیں

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بدون کافی مشاہدہ کے یہاں کے طرز کے متعلق لوگ رائے قائم کر لیتے ہیں اس ناتمام فیصلہ کی بالکل ایسی مثال ہے جیسے ایک شخص نے وعظ میں سنا تھا کہ قبر میں سوال جواب ہوتے ہیں اور منکر نکیر آتے ہیں وہ شخص امتحان کے لیے کسی ٹوٹی ہوئی قبر میں جا کر پڑ گیا ، بہت دیر ہو گئی نہ منکر نکیر نہ سوال جواب ، کچھ بھی نہیں ، اتفاق سے ایک سپاہی کا اس قبرستان کی طرف سے گزر ہوا وہ گھوڑی پر سوار تھا ، گھوڑی نے بچہ دے دیا اب اس کو فکر ہوئی کہ گاؤں تک بچہ کس طرح پہنچے ، اس فکر میں کھڑا تھا کہ گڑھے میں سے کچھ آہٹ محسوس ہوئی فوجی سپاہی دلیر ہوتے ہی ہیں جا کر دیکھا تو ایک شخص چادر اوڑھے لمبے پیر کیے لیٹا ہے سپاہی نے ڈانٹ کر کہا کہ کون پڑا ہے ، باہر نکل ڈر کے مارے باہر آیا اس نے ایک یا دو ہنٹر رسید کیے اور کہا کہ یہ گھوڑی کا بچہ فلاں گاؤں تک پہنچا ، بچے کو لے کر ساتھ ہو لیا ، گاؤں میں پہنچ کر سپاہی نے کچھ پیسے دیئے اور رخصت کر دیا ۔ اب مولوی صاحب کے پاس پہنچا کہ مولوی صاحب تم تو کہتے تھے کہ یوں قبر میں سوال و جواب ہوتے ہیں اور منکر نکیر آتے ہیں وہاں تو ان میں سے ایک بات بھی نہیں ہوتی ، خواہ مخواہ ہی ڈرا رکھا ہے میں تو امتحان کر آیا ہوں صرف یہ ہوتا ہے کہ کچھ دیر تو پڑا رہنا پڑتا ہے ، پھر ایک سوار آتا ہے وہ ڈانٹتا ہے باہر نکل آنے کا حکم کرتا ہے پھر ایک دو ہنٹر لگاتا ہے اور ایک گھوڑی کے بچے کو قبرستان سے اٹھوا کر گاؤں تک لے جاتا ہے اور کچھ پیسے دے کر واپس کر دیتا ہے تو جیسے اس شخص کو اس خلاصہ نکالنے میں غلطی ہوئی ایسے ہی یہاں جو لوگ تھوڑی دیر کے لیے آتے ہیں ان سے یہ غلطی ہوتی ہے کہ وہ حقیقت سے بے خبر رہتے ہیں اور میں یہ چاہتا ہوں کہ ان کو اپنی غلطی اور جہل پر اطلاع ہو جائے ورنہ ہر بات کو اس جہل ہی پر مبنی کرتا چلا جائے گا اس لیے اول ہی مرتبہ میں ہر بات کو صاف اور مقصود کو واضح کر دیتا ہوں کہ اس کو کوئی دھوکہ نہ ہو اور یہ غلط فہمی میں مبتلا نہ رہے اس کا نام ان جاہلوں نے تشدد رکھا ہے ۔