فرمایا کہ میں ایک مرتبہ پانی پت سے چلا صرف ایک صاحب دہلی تک پہنچانے کے لیے ہمراہ تھے ۔ میں دہلی سٹیشن پر پہنچ کر شاہدرہ جانے والی گاڑی میں سوار ہو گیا ۔ اس ڈبہ میں ایک پنجاب کے رئیس بھی سوار تھے جب وہ پانی پت کے صاحب مجھ کو سوار کر کے واپس ہو گئے تو ان رئیس صاحب نے مجھ سے دریافت کیا کہ آپ کہاں کے رہنے والے ہیں ، میں نے کہا کہ ایک قصبہ ہے تھانہ بھون ، پوچھا کہ آپ اشرف علی کو بھی جانتے ہیں ، میں نے کہا کہ اشرف علی میرا ہی نام ہے میں نے سفر میں جیسے کبھی اپنے کو ممتاز نہیں بنایا ، اسی طرح کبھی اپنے کو چھپایا بھی نہیں یہ سن کر ان پر کچھ شگفتگی کے آثار نہیں معلوم ہوئے ، مکرر مجھ سے پوچھا کہ آپ ہی ہیں وہ اس وقت میرے اس کہنے کو جھوٹ سمجھے کہ یہ نام بتلا کر اپنی عزت چاہتا ہے ان کے ذہن میں یہ ہو گا کہ جس کا نام لے کر یہ اپنے کو ظاہر کرتا ہے وہ تو بڑا چوغہ پہنے ہو گا ، بڑا عمامہ سر پر ہو گا اور ایک بڑی تسبیح ہاتھ میں ہو گی ، جیسا کہ پنجاب کے پیر ہوتے ہیں مزاح کے طور پر فرمایا کہ ( وہ پیر تو کیا پیر بھی نہیں ہوتے ) ۔ میں نے کہا صاحب کیا اس شخص کا کوئی حلیہ ہے جو مجھ پر منطبق نہیں ، خاموش ہو گئے مگر متردد رہے ، تھوڑی دیر میں کہا کیا میں کچھ پوچھ سکتا ہوں ، میں نے کہا پوچھئے جو معلوم ہو گا عرض کر دوں گا ، اس کے بعد انہوں نے مجھ سے کچھ سوالات کیے ، میں نے ان کے جوابات دیئے تب ان کو یقین ہوا اور پھر تو بہت ہی گرویدہ ہوئے اور تمام راستہ بیچارے اپنے ہاتھ سے خدمت کرتے چلے آئے حتی کہ اسباب بھی سٹیشن تھانہ بھون پر خود ریل سے اتار کر رکھا یہ سب ان کی تواضع تھی بعض طبائع ایسی ہوتی ہیں کہ ان میں نخوت یا کبر نہیں ہوتا ، تکبر بھی بڑی ہی بلا کی چیز ہے مگر بعض دفعہ دیر میں سمجھ آتا ہے ایک شخص ۔
خود لکھا کہ آپ نے جو میرے اندر کبر کا مرض تجویز کیا تھا بالکل صحیح کیا تھا ۔ اب مجھ کو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت میرے اندر کبر کا مرض ہے میں نے اپنے دل میں کہا کہ جا بندہ خدا اب تو علاج بھی ہو جاتا ، پانچ سال تک بیٹھا ہوا اس کو پالتا رہا ۔ غرض یہ مرض نہایت خطرناک ہے اور لوگوں کو کثرت سے اسی میں ابتلا ہے اور اس کے ہی علاج سے غفلت ہے ۔
