( ملفوظ 394 )رسومات کا غلبہ

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل رسمی پیروں کی بدولت لوگوں کے قلب میں طریق کی عظمت و قدر نہیں رہی بلکہ رسم کا غلبہ ہو گیا ۔ ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ جی ہاں سادات کی عظمت بھی رسم کے ماتحت ہے بلکہ قرآن کی عظمت بھی وہی رسمی ہے اگر حقیقتا عظمت ہوتی تو اس کی تعلیم پر تو عمل ہوتا حالانکہ دونوں چیزوں کے جمع کرنے کی ضرورت ہے یعنی عظمت بھی ہونی چاہیے اور عمل بھی ۔ اسی طرح بزرگی کا معیار بھی رسمی رہ گیا جہاں ایک دو کرامت ظاہر ہوئی خواہ حقیقی یا خیالی اور بزرگی کی رجسٹری ہوئی کیا خرافات اور اگر کہیں کسی بزرگ نے لڑے لڑکی بیوی نوکر سے کنارہ کر لیا پھر تو تارک دنیا ہی ہو گئے ۔ اگر غلبہ سے ایسا ہو تب بھی کمال نہیں ، سالک تو وہ ہے کہ اس کے مقام کو غلبہ ہو اور اس کا حال مغلوب ہو ۔