( ملفوظ 74 )رونق تو خلوت و وحدت میں ہے

ایک صاحب نے عرض کیا کہ اس زمانے میں اہل علم اور طلبہ کا کافی مجمع رہا بڑی رونق رہی فرمایا کہ یہ بھی کوئی رونق ہے کہ مجمع رہا تھا اس سے بڑھ کر یہ رونق ہے کہ اب کوئی نہیں سوائے ایک کے مگر ایک بات اس جماعت کی قابل قدر ہے کہ کثرت کے کوئی بات کلفت کی پیش نہیں آئی نہایت ادب اور تہزیب سے کئی روز گزار گئے مگر یہاں پر وہ رہ کر جانے والوں پر بعض لوگ اعتراضات کا نشانہ بنایا جاتا ہے اس قدر راجنبیت ہوگئی ہے طریق سے ـ