ایک صاحب نے عرض کی کہ حضرت دعا میں جی نہیں لگتا فرمایا کہ جی نہ لگنے کی اصل وجہ یہ
ہے کہ اس کا اثر فورا نظر نہیں آتا مثلا کوئی دعا میں روپیہ مانگنے اور فورا جھجھن ہونے لگے یا سیب مانگنے
اور فورا آپڑے پھر دیکھیں کیسے جی نہ لگے بس جی نہ لگنا مترادف اس خیال کا ہے کہ اس کو کچھ ملے گا
نہیں سو یہ خیال خود محرومی کی دلیل ہے مانگنے کے وقت تو یہ استحضار ہونا چاہیئے کہ ضرور دیں گے باقی
دینے کی حقیقت یہ ہے کہ انکی طرف سے یہ وعدہ ہے کہ ہم سے جو کوئی خیر طلب کرتا ہے ہماری رحمت خاص اس طرف متوجہ ہو جاتی ہے تو دعا کا اثر رحمت خاصہ ہے کہ خاص قیود مطلوبہ مثلا کسی سائل نے کسی سے روپیہ مانگا اور اس نے اشرفی دیدی جنکی وہ قیمت نہیں جانتا تو اسکو غلطی ہوگی کہ روپیہ ہی کیوں نہ ملا تو جیسے وہاں حقیقت نہ جاننے کی وجہ سے نہیں سمجھا کہ روپیہ کے بجائے اس سے زیادہ قیمتی چیز یعنی اشرفی مل گئی ایسے یہاں حقیقت نہ سمجھنے کی بدولت اپنے کو محروم سمجھتا ہے مثلا مانگنے تھے سو روپے مگر دو نفلوں کی توفیق ہوگئی تو یہ کیا کچھ کم رحمت ہے مگر یہ سمجھتا ہے کہ میری درخواست منظور نہیں ہوئی ـ
