( ملفوظ 379 )سچائی کا دوسرے کے دل پر اثر ہوتا ہے

ایک صاحب کی غلطی پر مواخذہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ صدق کا اور اثر ہوتا ہے کذب کا اور اثر ہوتا ہے صدق سے قلب کو اطمینان ہوتا ہے ، سکون ہوتا ہے کذب میں اضطراب ہوتا ہے بے اطمینانی ہوتی ہے ۔ خدانخواستہ مجھ کو کسی مسلمان کو ذلیل کرنا تھوڑا ہی مقصود ہے استغفر اللہ لیکن اگر میں اس طرح پر کھود کرید نہ کروں تو پھر آخر اصلاح ہو کیسے جو بات اس وقت آپ نے کہی دق کر کے تکلیف پہنچا کر پہلے ہی کیوں نہ کہہ دی تھی مجھ کو ، خدانخواستہ آپ سے بغض نہیں ، کینہ نہیں ، عداوت نہیں ، اب آپ نے سچ بات کہی سب کلفت دور ہو گئی ، یہ آپ کے صدق کا اثر ہے پہلی باتوں میں سے ایک بھی دل کو نہ لگی تھی ، بہت اچھا میں خدمت کے لیے حاضر ہوں ۔