( ملفوظ 312 )صحابہ کرام کا ایمان

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ صحابہ کے ایمان کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ حضرت حذیفہ اپنے دارالحکومت میں تشریف رکھتے ہیں ، بڑے بڑے رئیس اہل فارس دربار میں حاضر ہیں ، کھانے کا وقت آ گیا ، کھانا شروع فرمایا ۔ ایک لقمہ ہاتھ سے زمین پر گر گیا ، آپ نے اس کو اٹھا کر اور صاف کر کے کھا لیا ، بعض خادموں نے کان میں کہا کہ یہ متکبر کفار ایسی بات کو تحقیر کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ آپ نے بآواز بلند جواب دیا کہ کیا میں ان احمقوں کی وجہ سے اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت چھوڑ دوں گا کیونکہ حدیث میں ہے کہ اگر زمین پر کھانے کی کوئی چیز گر جائے اس کو اٹھا کر کھا لینا سنت ہے جس کو آج کل معیوب سمجھا جاتا ہے ۔ سبحان اللہ صحابہ نے عشق اور حکومت کو جمع کر کے دکھلا دیا ۔