فرمایا ! کہ طریق میں مقصود حاصل کرنے کی دو صورتیں ہیں ایک مشکل اور ایک سہل ـ تو سہل کو کیوں نہ اختیار کیا جائے ایک صاحب نے عرض کیا کہ کچھ مجاہدہ بھی درکار ہے فرمایا مجاہدہ سے مراد یہ تھوڑا ہی ہے کہ مشقت یا سختی میں پڑو ـ مثال سے سمجھ لیجئے ایک کنواں یہاں مدرسہ میں ہے اور ایک جلال آباد میں ہے جو یہاں سے تقریبا دو ڈھائی میل کے فاصلے پر ہے تو کیا آپ اس کو افضل سمجھیں گے کہ وہاں سے آپ وضوء کے لئے پانی لایا کریں حالانکہ بقول آپ کے اس میں مجاہدہ ہے سہل کو چھوڑ کر شاق کے پیچھے پڑنا کونسی عقل مندی ہے ـ یہ مجاہدات وریاضات مقصود بالذات تھوڑا ہی ہیں ہاں مقصود کے معین ہیں ـ اصل چیز تو مقصود تک پہنچ جانا ہے ـ ایک اور مثال یاد آئی پہلے زمانہ میں ریل موٹر ، ہوائی جہاز نہ تھے تو لوگ چھکڑوں اور بہلیوں سے سفر کرتے تھے کس قدر دشواریاں ہوتی تھیں وقت صرف ہوتا تھا راستہ میں خطرات کا سامنا ہوتا تھا بڑا سفر مہینوں میں طے ہوتا تھا اب ریل موٹر ، ہوائی جہاز کی بدولت ہر طرح پر سفر میں سہولتیں پیدا ہو گئیں ـ اب ایک شخص ہے کہ وہ اس سہولت کوچھوڑ کر دشواری کو پسند کرے تو کیا اس کومحمود کہیں گے اگر کوئی تحکم کی راہ سے اس کو ہی محمود کہے تو اس کا کسی کے پاس علاج نہیں ـ
