ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ لوگ میرے متعلق چاہتے ہیں کہ خوش اخلاقی اختیار کرے اور خوش اخلاقی بھی وہ جو آجکل مروج ہے مجھ سے یہ خوش اخلاقی نہیں ہوتی اس ہی وجہ سے لوگ مجھ سے خفا ہیں مگر میرا ہی کیا نقصان ہے ہاں نفع تو ہے کہ بد فہموں سے نجات ملی اگر میرا طرز پسند نہیں تو میں بلانے تو نہیں جاتا مت آؤ بہت پیر دنیا میں خوش اخلاق ہیں وہاں جاؤ وہاں آؤ ـ آؤ بھگت ہوگی ـ اعزاز و احترام ہوگا ـ بدتہذیبی پر روک ٹوک نہ ہوگی اعمال شنیعہ پر محاسبہ نہ ہوگا ـ اور یہاں پر تو یہی ہے اگر سو دفعہ خوشی ہو آؤ ورنہ مت آؤ خوب کہا ہے ؎ ہاں وہ نہیں وفا پرست جاؤ وہ بے وفا سہی ٭ جس کو ہو جان و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں فرمایا کہ یہاں پر تعلق رکھنے میں اول اول تو وحشت ہوتی ہے پھر مارے نہیں نکلتے بھگائے نہیں بھاگتے واقعی محبت ایسی ہی چیز ہے اس میں ایسی ہی ترقی ہو جاتی ہے ؎ یا رب چہ چشمہ ایست محبت کہ من ازاں ٭ یک قطرہ آب خور دم و دریا گریستم ( اے اللہ ! محبت کیسا چشمہ ہے کہ میں نے ایک قطرہ پیا ـ اور آنکھوں سے دریا بپا دئیے )
