ملفوظ 349: سہو ونسیان اور حسد و عیب جوئی

سہو ونسیان اور حسد و عیب جوئی ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اس کا کون دعوے کر سکتا ہے کہ میرے تصنیف میں کوئی لغزش یا کوتاہی نہیں بشریت ہے سہو نسیان ساتھ لگا ہوا ہے لیکن اسی کے ساتھ مدعی نسیان کے متعلق یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ واقعی نسیان ہے یا قصد سے ایسا دعوے کیا گیا ہے سو اگر کوئی محض حسد کی راہ سے کسی پر اعتراض ہی کرنا چاہے وہ بھی ملوم ہو جاتا ہے اور اس کا کسی کے پاس کوئی علاج نہیں ـ بہت سے لوگوں کا یہی مشغلہ ہے کہ عیب جوئی میں لگے رہتے ہیں ـ عیب چین کی مثال ایسی ہے جیسے باغ میں کوئی پھول سونگنے کی غرض سے کوئی پھل کھانے کی غرض سے ـ کوئی سیر و تفریح کی وجہ سے جاتا ہے اور سور جو جاتا ہے سونگھتے سونگھتے جہاں چاپاںہ ہو گا وہیں پہنچ جائے گا – اسی طرح حاسد کی کسی خوبی پر نظر نہیں پڑتی ـ اگرچہ کتنی ہی خوبیاں ہوں ہمیشہ عیب ہی کی جستجو میں رہتا ہے ـ