فرمایا کہ شورش کے زمانہ میں یہاں تک نوبت آ گئی تھی کہ ایک بہت بڑے علامہ نے
اسی زمانہ میں مجھ سے بیان کیا تھا فرماتے تھے کہ ہمارے یہاں ایک فتوی آیا کہ ولایتی کپڑا پہننا
جائز ہے یا نہیں ـ اب اگر یہ لکھا جاتا ہے کہ جائز ہے تب تو اپنے مقاصد میں خلل آتا ہے اورنا جائز
کیسے کہیں کیونکہ واقع میں تو جائز ہے اس لئے اس کے خلاف بھی نہیں کر سکتے تو اب کیا کریں
فرماتے ہیں کہ یہ جواب دیا گیا کہ ولایتی کپڑا پہننا قابل مواخذہ ہے ـ اور کہنے لگے کہ اس لکھنے
میں حکمت یہ تھی کہ وہ تو یہ سمجھیں کہ خدا کے یہاں کا مواخذہ ہوگا اور ہم یہ سمجھیں کہ اپنے دوستوں کا
مواخذہ ہوگا ـ میں نے کہا کہ مولانا توبہ کیجئے یہ تو شریعت میں تحریف ہے اور مسلمانوں کو
دھوکا دینا ہے فرمایا کہ ایسی ایسی باتیں سن کر دل کانپ جاتا تھا کہ اے اللہ ! دین کا ان لوگوں کے
دلوں سے احترام ہی جاتا رہا ـ حضرت عوام کی کیا شکایت کی جائے وہ تو بوجہ جہل کے ایک درجہ میں
معذور بھی سمجھے جا سکتے ہیں ـ مگر ان لکھے پڑھے جنوں کو کوئی کیا سمجھائے اللھم الحفظنا ـ
