شریعت و طریعت کے جامع کے لئے مشکل ہے فرمایا ! کہ ظاہری علماء کو کوئی مشکل نہیں کہ ظاہر دلائل پر فتوی دیدیں اور کہہ دیں کے ہمیں حال کی خبر نہیں ـ مشکل جامع بین الحقیقتہ والطریقتہ کو ہے جس کی یہ حالت ہے کہ ہر پہلو کی رعایت کرنا اس پر ضروری ہے حتی کہ بعض لوگوں نے ایسے اشکالات سے تنگ آ کر یہاں تک کہہ دیا ہے گرچہ ایسا کہنا سخت سوء ادب ہے ؎ القاہ فی الیم مکتو فا وقال لہ ٭ ایاک ایاک ان تبتل بالماء ( ہاتھ پیر باندھ کر دریا میں ڈال کر کہا جاتا ہے کہ خبر دار ! پانی کی نمی بھی نہ لگنے پائے درمیان قعر وریا بندم کردئی ٭ بازی گوئی کہ دامن ترمکن ہوشیار باش اور یہ تنگی عدم تحقیق کے سبب ہے ورنہ سب حقائق اپنے حدود پر ہیں ـ 16 رمضان المبارک 1350ھ بعد نماز ظہر یوم دو شنبہ
