علم غیب سے متعلق ایک سوال کا جواب فرمایا ! کہ ایک صاحب کا خط آیا ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو مغیبات کثیرہ کا علم حاصل ہے اس کے اعتبار سے عالم الغیب کہنا صحیح ہے یا نہیں اور کچھ تقویتہ الایمان کی عبارتیں نقل کیں تھیں حضرت والا نے جواب میں تحریر فرمایا السلام علیلم ! جواب ہر سوال کا ہے اور سلیس اور نفیس ہے لیکن میرا معمول اس باب میں یہ ہے کہ سائل کی نسبت جب تک دو امر کا اطمینان نہ ہو جائے سکوت کرتا ہوں وہ دو امر یہ ہیں ایک سائل کی استعداد علمی تاکہ جواب کے رائیگاں جانے کا احتمال نہ رہے دوسرا امر سائل کی نیت کہ بجز تحقیق کے اس کا کوئی مقصود نہیں چونکہ آپ کے متعلق دونوں امر کے معلوم ہو نے کا میرے پاس کوئی ذریعہ نہیں لہذا جواب سے معافی کا طالب ہوں ـ
