( ملقب بشرط دخول الطریق ) یک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ان رسم پرست اور مدعیان طریق اور گمراہوں اور ڈاکوؤں سے بجائے دینی نفع کے بہت مخلوق گمراہ ہو چکی ہے اور نفع کیا ہوتا بقول شخصے جب سقاوہ ہی میں پانی نہ ہوتا تو بدھنی میں کیا آوے یہ لوگ فیض فیض گاتے پھرتے ہیں ہاں مرید سے ایسے پیر کو فیض ضرور ہو جاتا ہے مطلب یہ کہ دنیا حاصل ہوجاتی ہے ان لوگوں نے بچارے مریدوں کا دین تو خراب کیا ہی تھا لوٹ لوٹ کر ان کی دنیا بھی برباد کردی انکی آمدنیوں پر قبضہ کئے ہوئے ہیں مرید خواہ بیوی کو کچھ دے یا نہ دے خواہ بچے بھوکوں مریں مگر پیر صاحب کی خدمت فرض و واجب ہے جس کے نہ کچھ حدود ہیں نہ اصول نہ حرام کی خبر نہ حلال کی جائز کی تمیز نہ ناجائز کی غرض نہایت گڑ بڑ مچا رکھی ہے اور یہ اندھے مرید بھی ایسی ہی جگہ خوش یہتے ہیں سیدھی سادی باتیں ان کو پسند نہیں بس علاج بھیل ایسے بد فہموں کا یہی ہے اور تمام خرابی رسوم کی پابندی کی ہے ہم نے تو اپنے بزرگوکو ہمیشہ معاملہ میں مصالح پر شریعت کو مقدم رکھتے دیکھا اور رسوم مروجہ سے ہمیشہ ان کو طبعی نفرت رہی ان ہی رسوم میں سے آج کل اس پیری مریدی کا سلسلہ ہے اس میں بھی بالکل رسم کا اتباع کیا جاتا ہے چناچہ اصل مقصد کو چھوڑ بیٹھے اور محض مطلق بیعت کو مقصود بنالیا جس کا ایک نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بعض کو دیکھا کہ پہلے تو جوش کے ماتحت ہو کر مرید ہوگئے ہیں اور پھر بددل ہوکر پریشان پھر رہے ہیں اسی لئے مین لوگوں کو مشورہ دیا کرتا ہوںکہ بیعت میں جلدی نہ کرو حتی کہ جو شخص قرائن سے کامل بھی سمجھا جاتا ہو اس سے بھی بیعت کرنے میں جلدی نہ چاہیئے کیونکہ پہلے پیر کو بھی کامل سمجھ کر بیعت کی تھی پہلے عقلا جو نکاحوں میں کاوش کرتے تھے اس ہی لئے کہ کوئی بات بعد از نکاح کے ظاہر نہ ہو جس سے تعلقات میں بے لطفی پیدا ہو کیونکہ آخر زیست تک کا تعلق ہے سو بیعت کا قصہ تو اس سے بھی زیادہ نازک ہے اسلم یہ ہے کہ بیعت کا تعلق تو پیدا نہ کرےاور کام شروع کردے اس صورت میں سہولت ہے کہ جس روز اعتقاد بدلے سلسلہ تعلیم کا ختم کردے جس میں ضرورت اطلاع کی بھی نہیں اس طرز میں جانبین کو کتنی راحت ہے اسی طرح شیخ کو بھی چاہیئے کہ اگر مرید سے عدم مناسبت کا علم ہو جاوے اس کو اطلاع کردے کہ تم کو مجھ سے کوئی نفع نہ ہو گا کہیں اور جا کر تعلق پیدا کر لو اس طرز میں کوئی الجھن نہ ہوگی بخلاف اس کے اگر شروع ہی میں بیعت کا تعلق کرلیا اور بعد میں طرفین میں سے کسی کو عدم مناسبت محسوس ہوئی تو کلفت اور الجھن کا سبب ہوگا اور تمام متریہ خرابی عجلت کی ہے جو جوش سے پیدا ہوتی ہے اور واقع میں اعتقاد ہی معتبر ہے جو ہوش کے ماتحت ہو اور عجلت کی ہے جو جوش سے پیدا ہوتی ہے اور واقع میں اعتقادی ہی معتبر ہے جو جوش کے ما تحت ہو اس کا کیا اعتبار اسی لئے میں بیعت جلدی نہیں کرتا کیونکہ اگر میں بیعت کر بھی لوں تو عدم مناسبت کی بناء پر پھر تھوڑے دنوں کے بعد بیعت توڑنا پڑے گی اب اس احتیاط میں چاہیئے میر انقص ہو یا اس کا یہ دوسری بات ہے اور اس عدم مناسبت کی مثال ایسی ہے کہ بعض مرتبہ میاں بیوی میں باوجود صحت مزاج کے بوجہ عدم توافق انزالین کے اولاد نہیں ہوتی اسی طرح یہاں بھی باوجود صلاحیت شیخ و طالب کے بوجہ عدم تناسب کے نفع نہیں ہوتا جب یہ حالت ہے تو پھر بیعت پر اصرار کیوں کیا جاتا ہے اگر پیری مریدی میں یہ بھی اطمنان ہوجائے کہ ہمارا کبھی اعتقاد نہ بدلیگا تب بھی ہمیں کیا حرج ہے کہ بدون بیعت ہوئے پہلے تعلیم شروع کردے پھر اس تعلیم میں اگر دیکھے کہ نفع ہے اور روز افزوں محبت ہے جو دلیل ہے مناسبت کی بس اب لطف ہے بیعت کا ورنہ بیکار طریق کو بدنام کرنا ہے یہ ہے راز اس مشورہ کا اور ایک خرابی تعجیل میں یہ ہےکہ عقیدہ اکثر عوام کا یہ ہے کہ بدون بیعت نفع نہیں ہوتا اور بیعت ہوتے ہی ولی کامل ہوجائیں گے ان وجوہ سے میں اس میں احتیاط کرتا ہوں اس پر لوگ مجھ کو وہمی کہتے ہیں مگر جب بعد میں وہ احتمالات صحیح نکلتے ہیں تو اب یہ وہم کی باتیں ہوئیں فہم کی اور میرے احتمالات کا باوجود ظاھرا ان کے بعید ہونے کے صحیح نکلنا میرا کوئی کمال نہیں اللہ تعالی دل میں ڈال دیتے ہیں اس لئے ایک کے ساتھ کچھ معاملہ ہوتا ہے دوسرے کے ساتھ دوسرا معاملہ تیسرے کے ساتھ تیسرا معاملہ اور یہ فرق محض وجدانی ہے سب ان میں نہیں آسکتا اس بیان میں نہ آنے پر ایک شعر پڑھا کرتا ہوں مجھکو تو بہت ہی پسند ہے ـ
گر مصور صورت آں دلستان خواہد کشید لیک حیرانم کہ نازش را چسپاں خواہد کشید
( اگرچہ مصور اس محبوب کی تصویر تو کھینچ دے گا مگر میں حیران ہوں کہ محبوب کے ناز دادا کی تصویر کس طرح کھینچے گا 12 ـ)
حاصل یہ ہے کہ امور ذوقیہ بیان میں نہیں آسکتے ان میں محض دلائل ظاہرہ پر زیادہ مدار نہیں اصل مدار ذوق پر ہے خواہ وہ دلائل ہی سے پیدا ہوا ہوصحابہ کے مناظرہ کا یہی رنگ تھا جس کے متعلق ممکن ہے کہ آجکل یہ شبہ ہو کہ یہ کیسا منظرہ نہ دلیل کا زیادہ اہتمام نہ اس کا کافی جواب اور مناظرہ ختم دیکھے حضرت عمر فاروق اور حضرت ابوبکر صدیق کا مناظرہ مانعین زکوۃ سے قتال کے بارہ میں کس شان کا ہوا یہ اپنی کہتے رہے اور اپنی مگر اسی سے حضرت عمر فاروق کو شرح صدر ہو گیا جمع قرآن کے مشورہ میں بھی یہی ہوا کہ ایک فرمارہے ہیں ـ واللہ ھو خیر ۔ اور یہ ہی کہتے رہنے سے دوسری جانب شرح صدر ہوگیا ظاہرا کیا یہ کوئی مناظرہ تھا مگر درحقیقت علوم اصلی وہی تھے اصلی مناظرہ وہی تھا کہ واللہ ھو خیر ۔ کہنے ہی سے مناظرہ ختم ہو گیا یہ اثر طلب کی نیت کا تھا وعدہ ہے حق تعالی کا والذین جا ھدوا فینا لنھدینھم سبلنا مناظرے اب بھی ہوتے ہیں مگر حق واضح نہیں ہوتا اس کا اصلی سبب یہ ہے کہ طلب حق کا قصد نہیں ہوتا بلکہ حق کو قلب میں آنے سے دفع کرتے ہیں آجکل کے مناظرہ کا اصل مقصد غلبہ ہوتا ہے ہیٹی نہ ہو سکی نہ ہونی چاہیئے آخرت میں ذلت اور سبکی ہو حضرت امام صاحب نے اپنے صاحبزادے کو مناظرہ سے منع فرمایا تھا صاحبزادہ نے عرض کیا آپ بھی تو مناظرہ کرتے تھے امام صاحب نے عجیب بات فرمائی کہ بھائی ہمارے تمہارے مناظرہ میں فرق ہے ہم دل سے یہ چاہتے ہیں کہ خصم کے منہ سے حق بات نکلے اور ہم اس کو قبول کر لیں اور مناظرہ بند کردیں گو ہم ہار ہی جائیں اور تم یہ چاہتے ہو کہ خصم کے منہ سے حق بات نکلے کہ ہم کو قبول کرنا پڑے اس لئے ہمکو مناظرہ جائز تھا اور تم کو نا جائز اور اس وقت تو نہ وہ صورت رہی نہ یہ صرف یہ پیش نظر ہوتا ہے حق کو رد ہی کرنا پڑے او اسی نیت کی درستی کے لئے مناظرہ میں میں ایک اور شرط لگایا کرتا ہوں کہ جس سے گفتگو ہو اس سے بے تکلفی ہو اس میں یہ مصلحت ہے کہ بے تکلف دوست کی بات مان کر عدتا میں ہارتا ہوا شرماؤں اور نہ عجز کا اقرار کرتے شرماؤں اور ایسی بے تکلفی دوستوں میں ہوتی ہے یا استاد شاگرد میں ہوتی ہے باقی یہ آجکل جو اہل باطل سے مناظرہ کرتے پھرتے ہیں اگر اہل باطل کے اسکات کی ضرورت ہو تکہ دیکھنے والوں والوں پر ان کا عجز ظاہر ہو جاوے اس کو میں منع نہیں کرتا باقی قبول کی توقع سے بیکار ہے میرا جو طرز خاص اعتراض کے جواب میں مین اسکو ایک واقعہ کے پیرایہ میں بیان کرتا ہوں تحریکات کے زمانہ میں ایک مولوی صاحب سے مکاتبت ہوئی وہ یہاں پر اسی میں گفتگو کرنے کے لئے آنا چاہتے تھے میں نے ان کو جواب لکھا جس کا حاصل یہ ہے کہ گفتگو کی کئی قسمیں ایک افادہ اور ایک استفادہ اور ایک مناظرہ اب اگر افادہ مقصود ہے تو اجازت ہے مگر میرے ذمہ اس کا جواب نہ ہو گا بس سن لوں گا یہ تو آپ کی طرف سے تبلیغ ہو گی جب فرض ادا کردیا تو جائے اور اگر استفادہ مقصود ہے تو اس کے لئے تردد شرط ہے اور تردد آپ کو ہے نہیں اس لئے کہ آپ اپنی رائے کا اعلان کر چکے تردد کی حالت میں اعلان نہیں ہوا کرتا اور اگر اب تردد ہو گیا تو اب اعلان کر دیجئے کہ اب مجھ کو
تردد ہو گیا میری رائے سابق پر عمل نہ کیا جائے اس طرح جب یہاں پر آئیں تقریر کروں گا اور اگر مناظرہ مقصود ہے تو اس کے نافع ہونیکے لئے بے تکلفی شرط ہے اور آپ کی مجھ سے بے تکلفی ہے نہیں ایسی حالت میں گفتگو کا نتیجہ یہ ہو گا کہ آپ کو اپنی بات کی بیچ ہوگئی مجھ کو اپنی بات کی بے تکلفی یہ ہونے کی وجہ سے دوسرے کی بات قبول
کرتے ہوئے شرم دامن گیر ہوگی کہ اگر قبول کر لیا تو ہٹی ہو گی سبکی ہوگی ایسی حالت میں گفتگو کا کوئی نتیجہ نہ ہو گا میرا اور آپکا وقت فضول بیکار جائے گا اس کا جواب آیا کہ ہم کو اس کو اس کا جواب نہیں آتا حاضری کی اجازت دے دی جائے بجائے میں نے لکھا کہ آجایئے سو وہ تو نہیں آئے درسرے مولوی صاحب آئے مولوی صاحب نے مجھ سے کہا کہ میں خلوت میں گفتگو کرنا چاہتا ہوں میں نے خلوت میں گفتگو کرنے سے انکار کر دیا اور وجہ اس کی میں نے یہ بیان کی کہ مجمع میں گفتگو کرنے میں تو آپ کو خطرہ ہے کہ حکومت کے خلاف گفتگو ہو گی مگر اس خطرہ کے لئے آپ تیار ہیں کیونکہ آپ رائے کا اعلان کر چکے ہیں آپ کو نہ جیلخانہ کا ڈر مشینگنوں کا ڈر نہ توپوں کا ڈر اور
فوجوں کا ڈر خلوت میں گفتگو کرنے میں مجھ کو خطرہ ہےکہ مجھ پر اشتباہ ہوگا اور میں اس کے لئے تیار نہیں غرض خلوت میں گفتگو کرنے میں آپ کی کوئی مصلحت نہیں اور جلوت میں گفتگو کرنے میں میری مصلحت ہے اس لئے آپ مجمع میں گفتگو کریں یہی مناسب ہے مولوی صاحب نے بکراہت جلوت میں گفتگو کرنے کو قبول کر لیا اور وقت
گفتگو کا بعد نماز مغرب طے ہوا میں نے ملفوظاات ضبط کرنے والوں سے کہا کہ تم پنسل کاغز لے کر بیٹھ جانا اور مولوی صاحب جو فرمائیں اس کو ضبط کر لینا مصلحت اس ضبط میں یہ ہے کہ میں مولوی کا معاملہ ہے اور بیان کے وقت آدمی پورے طریق پر غور نہیں کر سکتا اور بعد میں اگر غور کرے تو کل تقریر کا دماغ ہیں محفوظ رہنا مشکل ہے اس لئے ضبط کا انتظام کیا گیا غرضیکہ بعد نماز مغرب میں معمول سے فارغ ہو کر بیٹھ گیا اور مولوی صاحب سے عرض کیا کہ میں اس وقت فارغ ہوں آپ تقریر شروع فرما دیں اس وقت ایک مجمع خانقاہ میں موجود
دیکھ کر مولوی صاحب سمجھے کہ اس نے تو اچھا خاصہ محکمہ قائم کر لیا خاموش رہے تقریر شروع فرمائی مجھے قرائن سے محسوس ہو کہ اس وقت انہیں گرانی ہے میں نے رعایت کی اور یہ رعایت تعلق قدیم کی بنا پر تھی مجھے ان کا ادب بھی ہے اور ان کو بھی مجھ سے محبت ہے تعلقاات کے حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے کہا کہ اس وقت ایک اور بات سمجھ میں آئی وہ یہ کہ جسے میں نے اپنی مصلحت کی وجہ سے تقریر کے ضبط کا انتظام کیا ہے کہ کوئی بات غور کرنے سے نہ رہ جاوے ایسے ہی آپ کی مصلحت پر بھی نظر ہے تاکہ بعد میں آپ کو بھی افسوس نہ کہ فلاں بات بیان سے رہ گئی اس لئے مناسب یہ ہے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اس وقت گفتگو ملتوی کیجئے اور اپنے مستقر پر واپس تشریف لےجایئے کتابیں دیکھ کر علماء و لیڈروں سے مشورہ کیجئے اس کے بعد تقریر لکھئے وہ تقریر جامع
ہوگی اور تحریر بزریعہ ڈاک میرے پاس بھیجدیجئے اس میں میں آپ کی اور میری دونوں کی مصلحت محفوظ رہے گی آپ کو ضبط تقریر کا بہترین موقع ملے گا ـ
اور مجھ کو غور کرنے کا اس لئے کہ اس وقت کے ضبط کرنے میں کوئی نہ کوئی بات رہ جائے گی ـ سب ضبط نہیں ہوگی غرض یہ صورت اس سے بہتر ہے اور میں وعدہ کرتا ہوں کہ اگر آپ کی تحریر کو دل نے قبول کر لیا تو میں رجوع کر لوں گا ـ بلکہ اخباروں میں چھپوا دونگا اور اگر دیکھنے اور غور کرنے کے بعد دل نے قبول نہ کیا تو خاموشی اختیار کروں گا ـ جس سے محض آپ ہی سمجھ سکیں گے کہ قبول نہیں کیا ـ عام لوگوں کو اس کا علم بھی نہ ہوگا ـ میں یہ رعایتیں اس لئے کیں کہ میں ہمیشہ اہل علم کی عزت کو برقرار رکھنے کی تدابیر اختیار کرتا ہوں ـ اس کی سبکی اور ذلت کبھی گوارا نہیں ہوتی ـ
غرض واپس تشریف لے گئے مگر آج تک بھی وہ تبلیغ نہ آئی ـ اس کے بعد پھر میرا اشتہار دیکھ لیا کہ یہ تحریک فتنہ ہے پھر نہ آئے اور نہ مکاتبت ہوئی اور اسی واقعہ میں اگر بے تکلفی ہوتی تو مناظرہ کا بھی مضائقہ نہ تھا ـ ٹھنڈے دل سے گفتگو ہو سکتی تھی ـ یہ اصولی بات ہے جو میں اس وقت بیان کر رہا ہوں ـ ایک مولوی صاحب نے مجھے اپنے ایک مناظرہ کی کتاب سے ایک دلیل بیان کی میں نے کہا کہ مولانا میں قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا اس استدلال کو آپ اپنی ضمیر سے صحیح سمجھتے ہیں کہا کہ نہیں میں نے کہا پھر کیوں ایسا استدلال کیا کہا کہ اجی مناظرہ میں یوں ہی کام چلا کرتا ہے ـ بس آج کل یہ مناظرہ کی حقیقت ہے اسی سلسلہ میں ایک صاحب کو سوال کے جواب میں
فرمایا کہ ان اصول صحیحہ کے موافق بھی مناظرہ استاد اور شاگرد میں تو نا مناسب نہیں مگر پیر مرید میں اس
طرح بھی مناسب نہیں اگر شیخ کی کوئی بات سمجھ میں نہ آوے دوسرے وقت پر چھوڑ دو اس سے معارضہ نہیں کرنا چاہئے اگر ایسا کرے گا فیض نہ ہو گا ـ
مناظرہ کی طرح ایک بے اعتدالی یہ بھی ہے کہ شیخ کے متعلق اگر کوئی شبہ ہو تو اسی سے پوچھتے ہیں ایسا نہ چاہیئے اول تو شبہ ہی کو جگہ نہ دے اور جو بہت ہی غلبہ ہو تو کسی دوسرے محقق سے شبہ رفع کر لے ـ البتہ اگر اس سے تعلق قطع کر لے تو پھر اس سے پوچھنے کا بھی مضائقہ نہیں ـ غرض یہ تعلق باطنی اور قیل و قال جمع نہیں ہو سکتے ـ اس کو ظاہری تلمز کے تعلق
پر قیاس نہ کرنا چاہیئے ہمارے حضرت مولانا یعقوب صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ہر طالب علم کہ چوں و چرا نہ کند ، ہر درویشے کہ چوں چرا نہ کند ہر دورا در چراگاہ باید فرستاد ( جو طالب علم چوں چرا نہ کرے اور جو مرید چوں چرا
کرے دونوں کو چراگاہ میں بھیج دیا جائے ) یہ مسئلہ کہ پیر پر شبہ نہ کرے عوام میں بھی یہ مشہور ہے کہتے ہیں کہ پیر کی پیری سے کام اس کے افعال سے کیا کام ہے ـ اس میں ایک تفصیل ہے وہ یہ کہ یہ دیکھنا چاہئے کہ ایسی باتیں
شبہ کی زیادہ ہیں یا کم اگر زیادہ ہوں تو چھوڑ دے تاویل بضرورت کی جاتی ہے اور یہاں ضرورت نہیں اور اگر ہیں تو اس
وقت یہ تعلیم ہے کہ اس کو نہ چھوڑو تایل کرو اور تاویل بھی سمجھ میں نہ آوے اس کے درپے نہ ہو یہ کیا ضرور ہے
کہ ہر بات سمجھ ہی میں آ جایا کرے گو اس کی نظر میں وہ بظاہر لغزش ہی ہو تب بھی اس سے خلاف نہ کرے ـ
بدگمانی نہ کرے اور اگر اس پر بھی دین کی ضرورت ہے چھوڑے تو بدگمانی نہ ہو صرف یہ نیت ہو کہ وسوسہ میں اجتماع خاطر نہ ہوگا اور جب اجتماع نہ ہو گا تو فیض نہ ہو گا ـ یہ ہیں آداب اس طریق کے ـ
