ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جاہل صوفیوں کے علوم بھی عجیب و غریب ہیں جو جی میں آیا کرلیا جو منہ میں آیا بک دیا چناچہ نفس کی نسبت اکثر کہتے ہیں کہ نفس کافر ہے مگر معلوم بھی ہے کہ نفس کون ہے تم ہی تو ہو اگر وہ کافر ہے تو تم کون ہوئے اسی طرح بہت سی باتیں داہی بتاہی گھڑ رکھی ہیں جن کے سر ہے نہ پیر ہے یہ علوم ہیں یہ اسرار ہیں لا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم ـ ایسے ہی ایک پیر کی حکایت ہے کہ ان کے ایک مرید نے اس سے ایک خواب بیان کیا کہ میں نے یہ خواب سنکر فرمایا کہ کیوں نہ ہو تو دنیا کا کوئی کتا ہے اور ہم بزرگ اللہ والے ہیں مرید نے کہا کہ حضرت ابھی خواب پورا بیان نہیں ہو کچھ باقی ہے وہ یہ کہ یہ بھی دیکھا کہ تمھاری انگلیاں میں چاٹ رہا ہوں اور میری انگلیاں آپ چاٹ رہے ہیں یہ سن کر پیر صاحب بہت اچھلے کودے ـ واقعی مرید نے حقیقت کا اظہار کیا خواہ خواب دیکھا ہو یا نہ دیکھا ہو وہ حقیقت یہ تھی کہ پیر کا تعلق تو مرید سے دنیا کی وجہ سے تھا جو مثل پاخانہ کے ہے اور مرید کا تعلق پیر سے دین کی وجہ سے تھا جو مثل شہد کے ہےہمارے ماموں صاحب فرمایا کرتے تھےکہ فلاں جگہ کے امراء تو جنتی اور فقراء دوزخی ہیں مطلب یہ کہ امراء جو فقراء سے تعلق رکھتے ہیں دین کی وجہ سے اور فقراء جو امراء سے تعق رکھتے ہیں دنیا کی وجہ سے وجہ سے بات تو بڑے کام کی فرمائی بس ایسے پیروں کے یہ علوم اور معارف ہیں ان جاہلوں نے حقائق اور معارف کو بالکل مستور کر دیا مگر اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اب ہمارے اکابر کی برکت سے انکے جہل کی حقیقت لوگوں پر منکشف ہو گئی ـ
