ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آجکل یہ بھی آنے والوں کے قریب قریب ایک عام سی عادت ہو گئی ہے کہ دوسروں کو اپنے ساتھ لگا کر لاتے ہیں ۔ یہ طرز بہت برا ہے اور اس میں بہت سی خرابیاں ہیں مولانا فضل الرحمن رحمۃ اللہ علیہ گنج مرادآبادی نے مولوی محمد علی صاحب سے فرمایا تھا کہ کسی کو ساتھ مت لایا کرو اس سے تکلیف ہوتی ہے ، حاصل یہ تھا کہ تمہارے ساتھ اور معاملہ ہے اور آنے والوں کے ساتھ نہ معلوم کیا برتاؤ مناسب ہے ، تمہارے ساتھ ہونے کی وجہ سے اس کی رعایت کرنی پڑتی ہے ، کیسی اصولی بات فرمائی ہے ، حالانکہ مجذوب تھے مگر نہ معلوم کس طرح یہ اصول قلب میں آتے تھے اب تجربہ کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ واقعی ایسا ہی کرنا چاہیے اس لئے کہ اس میں دو صورتیں ہیں اگر ایسے شخص کے ساتھ آئے کہ جس سے پہلے سے بے تکلفی یا مناسبت نہیں اور اس شخص نے کچھ بے عنوانی کی اور اس پر سیاست جاری کی گئی تو اس کے ساتھ اس کے ساتھی بھی بہت سی باتوں سے محروم جاتے ہیں ، جیسا کہ آج ہی کا واقعہ ہے کہ دو شخص ایک صاحب کے ہمراہ آئے تھے ان صاحب کی بعض کوتاہیوں پر جو ان سے برتاؤ کیا گیا وہ دونوں بھی کچھ نہ کہہ سکے اور اگر ایسے شخص کے ساتھ آئے کہ اس سے بے تکلفی اور مناسبت ہے اور اس وجہ سے ان کے ساتھ بھی معاملہ خوش خلقی کا برتا گیا تو اس میں دو خرابی ہیں ایک تو یہ کہ جس کے پاس آئے بعض اوقات باوجود خلاف مذاق ہونے کے ان سے برتاؤ کیا گیا تو اس کو کلفت اور گرانی ہوئی اور ایک یہ کہ ان کو اس برتاؤ سے اس لئے کوئی نفع نہ ہوا کہ ان کی حالت کے مناسب یہ برتاؤ نہ تھا اس لئے کہ ہر شخص کے ساتھ جدا برتاؤ ہوتا ہے جس سے اس کی حالت کی رعایت ہوتی ہے ۔
