ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جواب تو ہر بات کا ہوتا ہے مگر قابل دیکھنے کے یہ بات ہوتی ہے کہ وہ معقول ہے یا غیر معقول ایک غیر مقلد نے میرا رسالہ التنبیہ الطربی فی تنزیہ ابن العربی دیکھ کر ایک شخص سے کہا کہ اگر میرا فلاں رسالہ دیکھ لیتے تو وہ اپنے اس رسالے سے رجوع کر لیتے میں نے جواب دیا اگر وہ میرا یہ رسالہ دیکھ لیتے تو وہ اپنے رسالے سے رجوع کر لیتے اور یہ خاص مسائل تو سب علمی تحقیقات ہیں اور تحقیقات بھی غیر ضروری جن کا نہ جاننا ذرا بھی مضر نہیں اصل چیز عمل ہے اور اس میں اخلال مضر بدون عمل سب بیکار ہے ـ خواہ علم ظاہر ہو یا باطن اصل فضیلت عمل ہی کو ہے ـ عمل ہی سے دین کی تکمیل ہوتی
ہے ـ دیکھئے صحابہ کو کوئی کتابی علم کہاں تھا مگر مقبولیت اظہر من الشمس ہے وجہ کیا کہ علم سے زیادہ ان کے پاس عمل تھا ـ
