ملفوظ 179: طبیب کے پاس خود جانا

طبیب کے پاس خود جانا ایک صاحب نے عرض کیا کہ شب کو حضرت کی کیسی طبیعت رہی اور کھانسی کا کیا حال رہا ـ فرمایا کھانسی ہی کی وجہ سے راحت نہیں ملی ـ حکیم صاحب کے پاس گیا تھا اب نہوں نے کچھ اور تجویز کیا ہے یہ بھی فرمایا کہ جب ضرورت پیش آتی ہے حکیم صاحب کے پاس خود جاتا ہوں ان کو نہیں بلاتا ـ ایک روز حکیم صاحب فرمانے بھی لگے کہ مجھ کو شرم معلوم ہوتی ہے میں ہی حاضر ہو جایا کروں گا ـ میں نے کہا کہ نہیں شرم کی کیا بات ہے میرا نہ آنا اور آپ کو بلانا عدل کے خلاف ہے محتاج کو چاہیے کہ وہ محتاج الیہ کے پاس جائے اور بحمداللہ یہ سب باتیں میری امور طبیعہ ہیں ( مجھ کو کوئی اہتمام یا سوچ بچار کرنا نہیں پڑتا ـ میں رعایت کے متعلق عرض کرتا ہوں کہ میرے جو ملازم تنخواہ دار ہیں ان کو بھی جب تنخواہ دیتا ہوں یا کبھی ان کی مالی خدمت کرتا ہوں تو روپیہ پیسہ کبھی ان کی طرف پھینکتا نہیں بلکہ سامنے رکھ دیتا ہوں یا ہاتھ میں دیتا ہوں جیسے ہدیہ دیتے ہیں ـ پھینکنے میں ان کی اہانت معلوم ہوتی ہے کیونکہ یہ ایک تحقیر کی صورت ہے اور ملازم کوحقیر اور ذلیل سمجھنے کا کوئی حق نہیں کیونکہ نوکری ایک قسم کی تجارت ہے تجارت میں کبھی اعیان کا مبادلہ اعیان سے ہوتا ہے کبھی اعیان کا مبادلہ منافع سے ہوتا ہے اور منافع میں منافع بدنیہ ارفع ہیں ـ جس کا حاصل یہ ہے کہ نوکر نے اپنی جان پیش کی جو اس مال سے کہیں افضل و اعلی ہے منافع بدنیہ کو پیش کرنا یہ زیادہ ایثار ہے ـ پس تجارات میں اجارات زیادہ افضل ہیں تو اس کے تحقیر کی کیا وجہ میں کبھی ان معمولات کو بحمداللہ بیٹھ کر سوچتا نہیں سب امور طبیعہ ہیں ـ خود بخود ذہن میں آتے ہیں جتلانا مقصود نہیں احسان کرنا مقصود نہیں اس لئے اس وقت کہتا بھی نہیں صرف اپنے دوستوں سے اسلئے ظاہر کر دیتا ہوں کہ یہ باتیں کانوں میں پڑ جائیں کیونکہ ان چیزوں کا تعلق دوسروں سے ہوتا ہے اس سے حقوق العباد کا خیال رکھیں اور عدل کو ہاتھ سے جانے نہ دیں کوئی غرض سنانے سے نہیں ـ