فرمایا کہ زمانہ تحریک خلافت میں ہر قسم کے الزامات اور بہتان میرے سر پر تھوپے گئے ہیں میں نے کہا کہ کہہ لو بھائی جو تمہارا جی چاہتا ہے اللہ سے معاملہ ہے وہ تو دیکھ رہے ہیں ـ تمہارے برا بھلا کہنے سے ہوتا کیا ہے اور میرا ضرر کیا ہے بلکہ اس صورت میں نفع کی تو توقع ہے کہ کچھ نیکیاں مل جائیں الحمدللہ مجھے ان قصوں میں کسی سے بغض نہیں ہوا البتہ شکایت ضرور ہوئی وہ بھی دوستوں
سے غیروں سے وہ بھی نہیں ـ میں نے سب کو دل سے سب معاف کر دیا تھا جو کچھ کہہ چکے وہ بھی
اور جو آئندہ کہو وہ بھی ـ میری وجہ سے اگر کسی مسلمان کو عذاب ہوا تو میرا کیا بھلا ہوگا اور معافی میں
تو مجھے امید ہے کہ حق تعالی میرے اوپر رحم فرماویں یہاں تک توبت آگئی تھی کہ چاروں طرف سے
دھمکی کے خطوط آتے تھے ایک مقام سے خط آیا کہ آپ کی خاموشی عنقریب آپ کے چراغ زندگی
کو خاموش کر دے گی ـ میں ردی میں ڈال دیا اور ہود علیہ السلام کا یہ قول یاد آیا فکیدونی جمیعا ثم لا تنظرون انی توکلت علی اللہ ربی و ربکم الخ (سو تم سب مل کر میرے
ساتھ داؤ گھات کر لو ـ پھر مجھ کو ذرا مہلت نہ دو میں نے اللہ پر توکل کر لیا ہے جو میرا بھی مالک ہے
اور تمہارا بھی مالک ہے ) مجھے بحمداللہ ان واقعات سے بہت نفع ہوا ـ ایک حالت تو یہ ہوئی کہ پہلے
دنیا سے طبعی نعرت نہ تھی ان واقعات سے طبعی نفرت ہو گئی مخلوق سے نظر بالکل اٹھ گئی اور ایک حق
تعالی کی یہ نعمت ہے کہ اب میں یہ سمجھتا ہوں کہ حق تعالی کے دو ملک ہیں ـ ایک دنیا اور ایک آخرت !
مالک کو اختیار ہے کہ اپنی رعیت کو جہاں چاہے بسا دے ـ چناچہ ایک وقت تک دنیا میں بساتے
ہیں دوسرے وقت آخرت میں بسا دیں گے ـ
