فرمایا کہ میں نے اس زمانہ تحریک ہی میں کہا تھا کہ اگر بجائے مبہم عنوانات کے عنوان
کی تعیین کرکے سوالات کریں تو میں جواب دوں چاہے کسی کے بھی خلاف ہو ایک صاحب کا اسی
زمانہ میں ایک سوال کا خط آیا میں نے لکھا کہ ترک موالات کا عنوان حذف کر کے متعین واقعہ
پوچھو ـ میں جواب دوں گا ـ یہیں پر اس زمانہ میں ایک علی گڑھ کا طالب علم آیا جو عصر کے وقت آیا
مگر نماز نہیں پڑھی اس نے مجھ سے ترک موالات ہی کے متعلق کچھ پوچھنا چاہا تھا ـ میں نے کہا کہ
پہلے اپنی تو خبر لو ـ انگریزوں سے تو ترک موالات اس لئے کیا تھا کہ ترکوں سے لڑے مگر جو نماز جو
نہیں پڑھی تو خدا سے ترک موالات کیوں کیا شاید اسلئے کہ اس نے انگریزوں کو غلبہ کیوں دیا ـ
