ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل تو لوگوں کو صاحب تصرف شیخ کی تلاش رہتی ہے ایسے شیخ کی تلاش اس لیے کرتے ہیں کہ خود کچھ کرنا نہیں چاہتے ۔ یہ چاہتے ہیں کہ شیخ اپنے تصرف سے سب کچھ کر دے ، ولایت غوثیت قطبیت سب کچھ حاصل ہو جائے اور کرنا کچھ بھی نہ پڑے ، بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے ۔ خیال خام ہے ایک بزرگ کی حکایت ہے کہ ان کے یہاں ایک مرید کئی سال سے پڑا ہوا تھا اور لوگ آتے تھے کوئی چھ ماہ میں کوئی سال بھر میں اپنا کام کر کے اور خلافت لے کر چل دیتے مگر یہ مرید اسی خبط میں تھا کہ از خود کچھ نہ کروں گا ، پیر ہی کچھ دیں گے تو لوں گا اور پیر تصرف کے نفع کا ناکافی ہونا سمجھایا کرتے تھے ۔ آخر اس کو وسوسہ نے
گھیرنا شروع کیا کہ معلوم ہوتا ہے کہ پیر تصرف سے کورے ہیں اس کی اطلاع پیر کو ہو گئی حلانکہ یہ کوئی نقص نہیں مگر چونکہ یہ خیال خلاف واقعہ تھا اس لیے پیر نے اس وقت تو ضبط کر لیا ، یہ بڑے ظرف کے لوگ ہوتے ہیں اس وقت پی گئے ، کچھ روز بعد اس کو اپنی قوت تصرف دکھلانا چاہی ۔ ایک روز فرمایا ایک مٹکے میں پانی بھر کر مسجد کے دروازہ پر رکھو اور ایک مونڈھا وہاں پر رکھو اور پچکاری لا کر رکھو اس نے یہ سب انتظام کر کے شیخ کو اطلاع دی ، شیخ مسجد کے دروازہ پر آ کر اور پچکاری ہاتھ میں لے کر بیٹھ گئے اور جو اس طرف سے گزرا خواہ کافر ہی ہو شیخ ایک پچکاری بھر کر اس پر رنگ پھینکتے جس پر رنگ کی ایک چھینٹ بھی پڑ جاتی وہی بے اختیار
اشھد ان لا الہ الا اللہ و اشھد ان محمدا عبدہ و رسولہ
پڑھنے لگتا ۔ ایک ہی تاریخ میں شیخ نے ہزاروں کفار کو مسلمان بنا دیا ۔ جب پانی ختم ہو گیا تو شیخ مسند پر پہنچے اور فرمایا کہ بلاؤ اس مرید کو وہ آیا ، فرمایا کہ تم نے شیخ کا تصرف دیکھا ۔ میں نے یہ سب کچھ تیرے ہی دکھلانے کی وجہ سے کیا ہے مگر تجھ کو تو جب ہی کچھ ملے گا جب تو خود چکی پیسے گا اس وقت شیخ کو جوش ہی آ گیا کہ لاؤ آج اس کو دکھا ہی دوں کہ صاحب تصرف کسے کہتے ہیں مگر اس وقت اگر کوئی ایسا بھی کر دکھائے مگر ہو وہ مخالف سنت تو ایسے شخص کے پاس جانے کی اور اس سے بیعت ہونے کی اجازت نہ ہو گی اس لیے کہ ایسی باتیں شعبدہ باز بھی کر سکتے ہیں کیونکہ عوام ان چیزوں میں فرق نہیں کر سکتے اور نہ ان کے پاس معلوم کرنے کا کوئی معیار ہے بس ان کے لیے معیار یہی ہے کہ پیر کے افعال و اقوال شریعت اور سنت کے موافق ہوں ۔
