ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ بعض باتیں جو دوسروں کے یہاں استحسان کا درجہ رکھتی ہیں میرے یہاں ان کی کوئی قدر نہیں بلکہ مجھ کو تو ان سے نفرت ہے مثلا لوگوں کو مانوس کرنا جمع کرنا ، یہ سب چیزیں میرے یہاں محل نفرت ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ مجھ پر ایک مجذوب کی نظر کا اثر ہے ان کی دعا سے میرا تکون ہوا ہے اور باوجود اتنی آزاد مزاجی کے جو تھوڑا بہت
ضبط ہے یہ حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی برکت ہے ۔ بات یہ ہے کہ ضروری خدمتوں کے لیے تو حاضر ہوں مگر لوگوں کی غیر ضروری خواہشوں کو کہاں تک پورا کروں مگر پھر بھی میرے یہاں باوجود قواعد و ضوابط کے جس کو لوگ تنگی سمجھتے ہیں بڑی سہولتیں ہیں ،
دوسرے مشائخ کے یہاں جا کر دیکھو ہفتوں ، عرض حاجت کی نوبت نہیں آتی ، اگر آئے بھی تو یہ خیال ہوتا ہے کہ کہیں گرانی نہ ہو اور میں تو روزانہ اس کے لیے تیار رہتا ہوں کہ کسی کا کوئی حرج نہ ہو کسی کی کوئی مصلحت فوت نہ ہو ، البتہ اتنا چاہتا ہوں کہ صاف بات ہو جو معاملہ ہو ایک طرف ہو کوئی الجھن باقی نہ رہے ، میں لوگوں کو ان کی خدمت انجام دے کر فارغ کرنا چاہتا ہوں اور وہ مجھ کو اور میرے قلب کو فضول فرمائشوں میں مشغول کرنا چاہتے ہیں بس یہی سبب ہے لڑائی کا لوگوں سے ۔
