ـ ملفوظ 194: طریق کی حقیقت سے بے خبری

طریق کی حقیقت سے بے خبری فرمایا ! کہ آجکل طریق کی حقیقت سے عوام تو کیا خواص تک نا واقف ہیں اور اس بے خبری کے سبب ہزاروں غلطیوں میں ابتلاء ہو رہا ہے اور غلطی کا سبب اصل یہ ہے کہ اس کی طرف کسی کی بھی توجہ نہیں اور اگر کسی کو توجہ بھی ہوتی ہے تو وہ یہ چاہتا ہے کہ مجھ کو کچھ بھی نہ کرنا پڑے اور کام بن جائے ـ جیسے ایک بزرگ کا واقعہ ہے کہ ان کے پاس ایک شخص بہت عرصہ تک پڑا رہا اس درمیان میں سیکڑوں لوگ آئے اور صاحب نسبت ہو کر چلے گئے مگر یہ اسی خیال میں رہا کہ شیخ اپنے تصرف سے کچھ دیدیں گے تو لوں گا میں خود کچھ نہ کروں گا ـ شیخ کو اس کی اطلاع ہوئی یا تو کسی کی اطلاع کرنے پر یا بذریعہ کشف انہوں نے صاف کہہ دیا کہ تم خود ہی کرو گے تو کچھ ہوگا اور تصرف کا اثر نہ ضروری ہے نہ دیر پا ہے مرید کو وسوسہ ہونے لگا کہ شیخ صاحب تصرف نہیں ہیں اس لئے تا ویلات کرتے ہیں شیخ کو اس کی بھی اطلاع ہوئی انہوں نے علمی جواب دینا چاہا اس شخص سے فرمایا کہ ایک مٹکا پانی کا بھر کر خانقاہ کے دروازہ پر رکھو اور ایک پچکاری مول لا کر ہم کو دو چنانچہ ایس کیا گیا ـ شیخ دروازہ پر پچکاری لے کر بیٹھ گئے جو شخص گزرتا پچکاری بھر کر اس پر پانی پھینکتے تھے ـ جس پر شیخ کی پچکاری کی ایک چھینٹ بھی پڑ گئی وہی اشھد ان لا الہ الااللہ واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ پڑھنے لگا ـ ایک ہی تاریخ میں اپنے تصرف سے شیخ نے ہزاروں کافروں کو مسلمان بنا دیا ـ پھر اس شخص کو بلا کر فرمایا کہ دیکھا شیخ کا تصرف مگر تجھ سے چکی ہی پسواؤں گا یا تو پیسو اور نہیں تو منہ کالا کرو ـ تب اس شخص کی آنکھیں کھلیں اور اپنی اس حرکت پر ندامت ہوئی توبہ کی اور کام میں لگ گئے ـ بغیر طلب کچھ نہیں ہوتا ـ طلب ضرور دیکھی جاتی ہے ـ پھر جب طلب ہے تو فرمائشیں کیسی بعد طلب جب عاجز ہو جاتا ہے اس وقت رحم آتا ہے اور اس وقت عنایت سے کام بن جاتا ہے ـ یہ مضمون ایک مثال سے سمجھ میں آ جائے گا مثلا ایک بچے کو جس نے ابھی چلنا نہیں سیکھا اس کو ایک پچاس قدم کے فاصلہ پر کھڑا کر کے باپ دور سے اسکی طرف ہاتھ پھیلا کر کہتا ہے کہ بیٹا آؤ ـ حالانکہ باپ جانتا ہے کہ یہ ان پچاس قدم کو اس حالت میں جبکہ یہ چلنا بھی نہیں جانتا ـ پچاس برس میں بھی طے نہیں کر سکتا مگر اس رغبت اور طلب کا امتحان مقصود ہے اس کے ہاتھ بڑھانے پر بچے کے اندر ایک حرکت پیدا ہوئی اور اس طرف بڑھا اور گر پڑا محض اس طلب اور رغبت پر باپ کا دل رہ نہ سکا دوڑ کر گود میں اٹھا لیا ـ اسی طرح حق تعالی کا معاملہ بندے کے ساتھ ہے کہ جو ان کی راہ پر چلنے کا ارادہ کرتا ہے بجوائے لنھدینھم سبلنا وہ آغوش رحمت میں لے لیتے ہیں اور اس دشوار گزار راہ کو آن واحد میں طے کرا دیتے ہیں مگر یہ حرکت تو شروع کرے گو وہ حرکت قطع مسافت میں کافی نہیں کیونکہ محبوب میں اور طالب میں جو مسافت ہے وہ محبوب ہی کے قطع کئے ہو سکتی ہے محب کے قطع کئے قطع نہیں ہو سکتی مگر طلب شرط ہے ہم کو اپنا کام کرنا چاہیے یہ باتیں بدوں کام کئے سمجھ میں نہیں آ سکتیں جیسے کھانا بدوں کھائے اس کا ذائقہ معلوم نہیں ہو سکتا ذائقہ کا معلوم کرنا کھانا پر موقوف ہے جاننے پر کفایت نہیں ہوتی ـ طلب پر فرماتے ہیں ـ والذین جاھدوا فینالنھد ینھم سبلنا ( اور جو لوگ ہماری راہ میں مشقتیں برداشت کرتے ہیں ہم ان کو اپنے قرب و ثواب یعنی جنت کے راستے ضرور دکھا دیں گے ) ـ اور طالب نہ ہونے پر فرماتے ہیں : انلز مکموھا وانتم لھا کرھون ( تو میں کیا کروں مجبور ہوں کیا ہم اس دعوی یا دلیل کو تمہارے گلے مڑہ دیں ) 7 رمضان المبارک 1350ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم شنبہ