ملفوظ 195: عبادت میں جی نہ لگنا

عبادت میں جی نہ لگنا فرمایا ! ایک خط آیا لکھا ہے کہ گزشتہ دنوں میں سے خادم خدام کی حالت نہایت ناگفتہ بہ ہے نماز میں جی لگتا ہے نہ ذکر میں نہ کلام مجید پڑھا جاتا ہے اور دنیا کا کوئی کام بھی نہیں ہوتا ـ بس ایک عجیب گول گول حالت ہو رہی ہے ـ میں نے جواب میں لکھ دیا ہے کام تو جس طرح بن پڑے کرنا ضروری ہے خواہ ناقص ہی ہو تکمیل کا یہی طریقہ ہے اگر بد نویس اس لئے مشق کرنا چھوڑ دے کہ اچھا نہیں لکھا جاتا تو اس کو اچھا لکھنا بھی نہ آئے گا ـ اسی سلسلہ میں فرمایا کہ عمل ناقص کو بھی چھوڑنا نہیں چاہئے جیسے بنیاد کے مضبوط ہونے کا تو اہتمام کرتے ہیں مگر اس کے خوش نما ہونیکے پیچھے نہیں پڑتے اس میں روڑے وغیرہ بھر دیتے ہیں اور بعد میں اس پر بڑے بڑے محل اور کوٹھیاں تیار ہوتی ہیں اسی طرح عمل ناقص بنیاد ہے عمل کامل کی بنیاد کے کمال اور نقصان پر نظر نہ کی جائے جو کچھ اور جس طرح ہو سکے کرتا رہے اصول کے موافق ہو چاہے اس میں نقصان ہی ہو جیسے نماز گو ناقص ہی ہو مگر ہو حدود میں وہ ہو جاتی ہے بلکہ ایسی عبادت پر اجر زیادہ ہوتا ہے جس میں جی نہ لگے کیونکہ وہ مجاہدہ ہے ـ یہ طریق بہت ہی نازک ہے محض کتابیں پڑھ لینے سے کام نہیں چل سکتا فہم کامل اور ذوق سلیم کی ضرورت ہے اور یہ اس کو عطا ہوتا ہے جس پر حق تعالی اپنا فضل فرمائیں