( ملقب بہ الانضباط سواء الصراط ) ایک صاحب نووارد آئے حضرت والا سے مصافحہ کر کے بیٹھ گئے ، حضرت نے دریافت فرمایا کہ کچھ کہنا ہے عرض کیا کہ کہنا نہیں محض زیارت کے لیے آیا ہوں ، فرمایا کہ اتنی دور سے آئے ہو خرچ کیا سفر کیا زحمت گوارا کی اور کچھ کہنا نہیں ، یہ کیا بات ہوئی ، عرض کیا کہنا تو ہے پھر کہوں گا فرمایا پہلے ہی یہ بات کیوں نہیں کہہ دی تھی کہ پھر کہوں گا اس کے چھپانے میں کیا راز تھا اس پر وہ صاحب خاموش رہے ، فرمایا جواب دیجئے کیوں ستاتے ہو ، عرض کیا کہ یہ خیال کیا تھا کہ اطمینان سے دوسرے وقت کہوں گا جو کہنا ہے فرمایا اپنی راحت کا تو انتظام سوچا اور مجھ کو جو اس وقت آپ کی بے اصول گفتگو سے اذیت اور تکلیف ہوئی آپ کو فکر نہ ہوئی ۔ عرض کیا کہ غلطی ہوئی فرمایا کہ محض آپ کے اس کہنے سے میری تکلیف اور اذیت کا تو تدارک نہ ہوا پھر فرمایا خیر اس کو چھوڑئیے مگر میں پوچھتا ہوں کہ اول ہی میں میرے سوال پر جو آپ نے کہا تھا کہ مجھ کو کچھ کہنا نہیں اور پھر میرے کھود کرید کرنے پر کہا کچھ کہنا ہے اس میں سے کس بات کو سچ سمجھا جائے اور کس کو جھوٹ ۔ عرض کیا آئندہ ایسا نہ کروں گا ، فرمایا کہ اس وقت جو ہوا اس کا جواب دیجئے ۔ عرض کیا کہ کوئی جواب سمجھ میں نہیں آتا ، فرمایا کون سی ایسی باریک بات ہے جو سمجھ میں نہیں آتی اچھا یہ بتائیے کہ اس غلطی کا سبب بے فکری ہے یا کم فہمی ہے ۔ عرض کیا کہ کم فہمی فرمایا کہ کم فہمی کی حالت میں کیسے خدمت کر سکتا ہوں جو کام آپ مجھ سے لینا چاہتے ہیں اس کے لیے ضرورت ہے فہسسسسم کی اور فہم آپ اپنے اندر بتلاتے نہیں تو پھر کیسے خدمت کر سکتا ہوں اور کام کس طرح چلے گا جب فہم ہی نہیں تو کم فہم کو فہیم کیسے بنا دوں ، عرض کیا کہ میں مجبور ہوں ، فرمایا اس مجبوری کا علاج بھی اگر آپ کہیں تو عرض کروں ، عرض کیا کہ ضرور فرمائیں ، فرمایا کہ کسی دوسرے سے تعلق پیدا کر لیجئے ، مجھ سے آپ کو نفع نہ ہو گا عرض کیا کہ کیا دوسرے سے میرا مطلب حاصل ہو جائے گا ، فرمایا کہ یہ احتمال تو میری نسبت بھی ہے آپ کے پاس کیا ذریعہ ہے اس یقین کا کہ مجھ سے آپ کو ضرور نفع ہو گا اس میں تو میں اور وہ برابر ہیں میری ہی نسبت کیا معلوم ہے کہ مجھ سے ضرور ہی نفع ہو گا ۔
عرض کیا کہ اللہ ہی کو معلوم ہے کہ آپ سے مطلب حاصل ہو گا یا دوسرے سے ، فرمایا کیسی باتیں کرتے ہیں عقل سے بالکل ہی کورے معلوم ہوتے ہیں ، سوال کیا جواب کیا ، پھر فرمایا یہاں جب محض زیارت ہی کو آئے تھے جیسا شروع ملفوظ میں مذکور ہے تو جائیے قرآن شریف کی زیارت کیجئے ، مسجد میں رکھا ہے پھر فرمایا کہ اب بتلائیے ایسی موٹی موٹی باتوں میں الجھتے ہیں ، میں نے ایسی کون سی باریک بات پوچھی تھی بہت ہی سیدھی بات تھی مگر اس میں اینچ پینچ لگا کر یہاں تک نوبت پہنچا دی ، کوئی دقیق بات نہ تھی جس کو سمجھنے سے عاجز ہو گئے ، کوئی علمی مضامین نہیں تھے ۔ خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ آخر میں یہ کہہ رہے تھے کہ معاف فرما دیجئے ، فرمایا کہ معافی کی کیا بات ہے میں کوئی انتقامی مواخذہ تو نہیں کرتا مگر معاملہ کی حقیقت تو سمجھ لوں اور سمجھا دوں تب ہی تو آگے کو کام چلے گا اور حضرت مجھ کو اپنے اس طرز پر ناز نہیں ، میں خود شرمندہ ہوں مگر کیا کروں ، اگر اس طرز کو بدلوں تو پھر اصلاح کس طرح ہو ۔ دیکھئے طب کی کتابوں میں سب کچھ موجود ہے پھر بھی طبیب کی طرف رجوع کرتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ کتابوں میں تطبیق کی کوئی تدبیر نہیں جس سے مریض اپنی حالت کو کتاب پر منطبق کر سکے ان کو اہل فن ہی سمجھ سکتے ہیں کہ اس وقت حالت کیا ہے اور کس نسخہ کی ضرورت ہے اسی طرح کسی زندہ طبیب روحانی سے تعلق پیدا کرنے میں بھی یہی حکمت ہے کہ وہ جزئی حالات پر احتساب کرے اور ان کی اصلاح کرے یہ طریق اعمال کی اصلاح کے لیے ہے اور اعمال ظاہرہ و باطنہ کی اصلاح ہی کا نام طریق ہے جس کا ثمرہ یہ ہے کہ حق سبحان تعالی سے صحیح تعلق بندہ کا پیدا ہو جائے ۔ آج کل لوگ طریق تو سمجھتے ہیں اور اوراد و وظائف کو اور مقصود سمجھتے ہیں کیفیات و احوال کو حالانکہ طریق ہے اصلاح اعمال اور مقصود ہے تصحیح تعلق مع اللہ جس کی دوسری تعبیر رضائے حق ہے خلاصہ یہ ہے کہ اوراد و وظائف نہ مقصود ہیں نہ طریق ہیں بلکہ مقصود تعلق مع اللہ ہے اور وہ اس صورت سے حاصل ہو سکتا ہے کہ اگر کسی محقق اہل باطن معلم طریق کی جوتیاں سیدھی کی جائیں ، بس یہی ایک راستہ ہے ۔ مولانا فرماتے ہیں :
قال رابگذار مرد حال شو پیش مردے کاملے پامال شو
حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم کی حالت سے بھی اس طریق کا پتہ چلتا ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے روز نیا کرتہ پہنا پھر قینچی لے کر آدھی آدھی آستینیں کاٹ ڈالیں کسی نے دریافت کیا ، فرمایا کہ میں کرتہ پہن کر اپنی نظر میں اچھا معلوم ہوا ، اس لیے اس کا علاج کیا ہے ایک مرتبہ حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو لوگوں نے دیکھا کہ زبان کو ہاتھ میں لیے ہوئے اس کو مار رہے ہیں اور فرما رہے ہیں ۔ ھذا اورنی الموارد
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو لوگوں نے دیکھا کہ مشک سے پانی مسلمانوں کے گھروں میں بھر رہے ہیں ، کسی قاصد نے مدح کر دی تھی یہ اس کا علاج تھا ، یہ طرق ہیں اصلاح کے باقی ذکر وہ صرف معین ہے مقصود کا خود مقصود بالذات نہیں جیسے اصل تو سہل ہے اور عرق بادیان اس کا معین ہے ۔ ( تم الملفوظ الملقب بالانضباط لسواء الصراط )
