ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت ذہن کے لیے ایک تعویذ کی ضرورت ہے ۔ فرمایا کہ ذہن کا تعویذ نہیں ہوتا ذہن فطری چیز ہے البتہ قوت حافظہ قوت دماغ پر موقوف ہے اس میں اگر کمی ہو تو اس کا علاج طبیب کر سکتا ہے پھر ان تعویذوں کے بارے میں فرمایا کہ بعض مرتبہ لوگوں کے عقیدہ میں غلو ہوتا ہے کہ ضرور نفع ہو گا نہ ہوا تو اسماء الہیہ سے غیر معتقد ہو جاتے ہیں حلانکہ یہ جو تعویذ پر آثار مرتب ہوتے ہیں منصوص نہیں اور نہ ان کا کہیں وعدہ ہے ۔ یہ سب گڑبڑ جاہل عاملوں کی بدولت پیدا ہو رہی ہے اس سے عوام کے عقائد تو اس بارے میں نہایت ہی خراب ہیں جن کی اصلاح کی سخت ضرورت ہے ۔
