ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہ خشک لوگ بے چارے اہل معنی کی کیا قدر جانیں اس راہ ہی سے نہیں گزرے کسی نے حضرت امام احمد حنبل رحمہ اللہ سے پوچھا کہ بشرحافی ایک امی شخص ہیں آپ عالم ہو کر ان کے کیوں معتقد ہیں انہوں نے فرمایا ہم کتاب کے عالم ہیں وہ صاحب کتاب کے عالم ہیں اس سائل نے کہا میں ان سے کچھ مسئلے پوچھتا ہوں امام نے منع فرمایا مگر اس شخص نے نہ مانا اور دو مسئلے پوچھے ایک یہ کہ اگر نماز میں خطرات آنے سے سہو ہو جائے کیا حکم ہے فرمایا ایسے قلب کو سزا دینی چاہئے کہ خدا کے سامنے کھڑا ہو کر خطرات کو جگہ دیتا ہے جس سے سہو ہوتا ہے پھر دوسرا مسئلہ پوچھا کہ زکوۃ کا کیا حکم ہے کتنے مال میں کتنی زکوۃ ہماری یا تمہاری عرض کیا کہ حضرت دونوں فرما دیجئے فرمایا کہ تمہاری زکوۃ تو یہ ہے کہ جب نصاب کے مالک ہو جاؤ تو سال گزرنے پر چالیسواں حصہ دے دو اور ہماری زکوۃ یہ ہے کہ اتنا مال ہی نہ ہونے پائے جس کی زکوۃ دی جائے اور اگر اتفاقا ہو جائے تو وہ سب مال دے اور اسی قدر اور کما کرجرمانہ میں دے سائل اس قدر متاثر ہوا کہ سوال ہی پر نادم ہوا ۔
اقوال
( ملفوظ 638)مولانا شیخ محمد اور نواب صدیق حسن خان
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مولانا شیخ محمد صاحب نواب صدیق حسن خان صاحب کو مولوی نہیں کہتے تھے مگر فرماتے تھے کہ منشی اعلی درجہ کے ہیں ۔
( ملفوظ 637) حضرت حاجی صاحب سے تعلق ایک شخص کا حضرت تھانوی سے سوال
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک شخص نے دیوبند میں مجھ سے سوال کیا کہ تم لوگ لکھے پڑھے اور حضرت حاجی صاحب ظاہرا اتنا لکھے پڑھے بھی نہیں پھر ان کے پاس کیا چیز ہے جو تمہارے پاس نہیں ، میں نے کہا کہ حضرت میں اور ہم میں فرق ہے کہ جیسے ایک شخص تو وہ ہے کہ جس کو مٹھائیوں کی فہرست یاد ہے مگر اس نے کبھی کھائی نہیں اور ایک وہ شخص ہے کہ اس کو نام تو ایک مٹھائی کا بھی یاد نہیں مگر کھائی ہیں سب یہی فرق ہے ہم میں اور حاجی صاحب میں ہم اہل الفاظ ہیں اور وہ اہل معنی اور ظاہر ہے کہ اہل الفاظ محتاج ہو گا اہل معنی کا نہ کہ برعکس ۔
( ملفوظ 636)کشف و کرامات ، حقیقی کمالات کے سامنے کچھ نہیں
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل کشف و کرامات کو بڑی چیز سمجھتے ہیں مگر حقیقی کمالات کے سامنے یہ بیچارے کیا چیز ہیں مگر عوام الناس ان کمالات کا ادراک نہیں کر سکتے چنانچہ اسی بناء پر مولانا محمد حسین صاحب الہ آبادی سے کسی نے سوال کیا تھا کہ تم نے حضرت حاجی صاحب میں ایسی کون سی چیز دیکھی جس کی وجہ سے تعلق کیا بناء سوال ان ہی رسمی کمالات کی عدم شہرت تھی مولانا نے جواب دیا کہ یہی تو دیکھا کہ کچھ نہیں دیکھا مراد رسوم کی نفی ہے اہل کمال بھی ان رسمی چیزوں کی طرف نظر بھی نہیں کرتے بلکہ جو چیز دوسروں کے یہاں منتہائے کمال ہے وہ ان حضرات کے یہاں نقص ہے ۔
( ملفوظ 635)صوفیہ کی صحبت سے کچھ اور رنگ چڑھتا ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ان حضرات کی صحبت سے کچھ اور ہی رنگ ہو جاتا ہے مفتی الہی بخش صاحب کاندھلوی خاتم مثنوی نے ایک موقع پر حضرت سید صاحب کی نسبت یہ فرمایا تھا کہ ہم تو صندوق ہیں جواہرات کے اور یہ جوہری ہیں اور یہ بھی فرماتے تھے کہ ہم نے جو قرآن شریف پہلے پڑھا تھا وہ اور طرح کا معلوم ہوتا تھا اور اب سید صاحب کی صحبت کی برکت سے اور طرح کا معلوم ہوتا ہے ۔
( ملفوظ 634) وساوس سے متعلق حضرت حاجی صاحب کی عجیب تعلیم
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جو چیزیں غیر اختیاری ہیں ان پر کوئی مواخذہ نہیں اس لئے کہ انسان غیر اختیاری کا مکلف نہیں مثلا نماز میں موضع سجود کے سوا دوسری چیزوں کے دیکھنے کی ممانعت ہے مگر ماحول میں جو چیزیں ہیں وہ بلا اختیار نظر آتی ہیں وہ محل خشوع نہیں گو ان کا انکشاف ضرور ہوتا ہے مگر بلا قصد ہوتا ہے اس لئے مضر نہیں یہی حکم ہے وساوس غیر اختیاری کا اگر دفع نہ ہو قلق نہ کرے پھر دفع کی تدبیروں کے متعلق تقریر کی اس میں حضرت حاجی صاحب کا ارشاد نقل کیا فرماتے تھے کہ اگر وساوس کا ہجوم ہو اور کسی طرح بند ہی نہ ہوں اس وقت یہ مراقبہ کرے کہ حق تعالی کی کیا قدرت ہے کہ دل میں کیسی کیسی چیزیں پیدا فرما دیں ہیں کہ دریا کی طرح امنڈ رہی ہیں روکے نہیں رکتی بس اس مراقبہ سے وہ سب وساوس مراۃ جمال الہی ہو جائیں گے واقعی عجیب بات فرمائی الہ بعد کو الہ قرب بنا دیا واقعی حضرت اس فن کے امام تھے اور عجیب یہ کہ درسیات کی بھی تحصیل نہ فرمائی تھی چنانچہ حضرت حاجی صاحب خود فرمایا کرتے تھے کہ میں ناخواندہ ہوں اور جو کچھ میں بیان کرتا ہوں یہ واردات ہیں اگر یہ کتاب و سنت کے خلاف ہوں عمل نہ کرنا اور مجھ کو بھی اطلاع کر دینا میں بھی توبہ کر لوں گا اگر اطلاع نہ کرو گے تو تمام بوجھ تم پر ہو گا میں بری رہوں گا ۔
( ملفوظ 633)ذہانت بھی عجیب چیز ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ذہانت بھی عجیب چیز ہے بڑی دولت ہے مگر اس میں برکت جب ہی ہوتی ہے کہ یہ سمجھے کہ میں ذہین نہیں ہوں ورنہ برکت نہ ہو گی پھر ذہانت کا یہ قصہ نقل کیا گیا کہ ایک تبرائی شیعی کو جس وقت وہ علانیہ تبرا کر رہا تھا ایک سنی نے قتل کر دیا مقدمہ دائر ہوا تو حاکم کے سامنے شیعی وکیل نے کہا کہ ہمارے یہاں یہ مذہبی عبادت ہے مذہب میں سب کے لئے آزادی ہونا چاہئے اس لئے قاتل معذور نہیں ، سنی وکیل نے حاکم سے کہا کہ ان کے یہاں یہ عبادت ہے اور ہمارے یہاں ایسے کا قتل کر دینا عبادت ہے یہ اپنی عبادت کریں اور ہم اپنی عبادت کریں دونوں آزاد ہیں آپ مقدمہ خارج کر دیں ہم میں خود فیصلہ ہو رہے گا ۔
( ملفوظ 632) انتظام کی برکت
( ملفوظ 631 ) ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ انتظام بڑی برکت کی چیز ہے ہر کام میں انتظام کی ضرورت ہے اگر میں یہ خاص قواعد اور اصول منضبط نہ کرتا تو اس قدر کام نہ ہو سکتا بہت وقت فضول ہی بے کار جاتا یہ سب انتظام کی برکت ہے اور یہ سب اسلام ہی کی تعلیم ہے مسلمانوں نے اس کو چھوڑ دیا غیر قوموں نے اختیار کر لیا اس لئے راحت میں ہیں ۔
( ملفوظ 631) مسلمانوں کو رزق کی پریشانی
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ رزق کا معاملہ بھی بڑا ہی نازک ہے آج کل مسلمانوں بہت پریشان ہیں خصوص بڑے لوگ زیادہ پریشان ہیں کثرت سے لوگوں کے خطوط آتے ہیں جس میں معاش کی شکایت ہوتی ہے دیکھ کر دل پگھل جاتا ہے اور بڑے آدمیوں کی اور زیادہ مشکل ہے کیونکہ یہ کچھ اور کام بھی نہیں کر سکتے چنانچہ ایک صاحب تھے بغدادی وہ یہاں پر رہے بھی سید تھے کچھ پڑھتے بھی تھے میں ان کی اتنی رعایت کرتا تھا کہ ان کے حجرہ میں جا کر سبق پڑھا دیتا تھا اپنے پاس نہیں بلاتا تھا سیاح بھی تھے اور بوڑھے آدمی تھے یہاں سے حیدر آباد چلے گئے وہاں معاش سے بہت تنگ ہو گئے موسی ندی کے طغیانی کے زمانہ میں مزدوری کرنے پر آمادہ ہو گئے مگر ان کو کوئی مزدوری تک میں بھی نہ لگاتا تھا رنگ سرخ و سفید نورانی چہرہ کوئی مزدور بھی نہ سمجھتا تھا آخر کسی دن مزدوری لگ گئی تو صبح سے شام تک کام کیا مشقت کا تحمل نہ ہو سکا بے ہوش ہو کر گر پڑے مجھ کو سن کر بے حد افسوس ہوا کہ بندہ خدا جیسے یہاں آئے تھے یہاں ہی عمر ختم کر دیتے یہاں تک اس کی نوبت نہ آتی ۔
( ملفوظ 630) ذکر اللہ اور عشق حقیقی کا غلبہ
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اپنے محبوب کی طرف اس قدر مشغول رہنا چاہئے کہ کسی کا دلچسپی سے تصور بھی نہ آئے نہ دوست کا نہ دشمن کا چہ جائے جنگ و جدل
گر ایں مدعی دوست بشناختے بہ پیکار دشمن نہ پرداختے
دیکھئے اگر کسی کا بیٹا مر جائے تو جب تک غم رہے گا قدم اٹھاتا ہے مگر اٹھتا نہیں بادل نخواستہ بات کرتا ہے مگر بات نہیں ہوتی اسی طرح وہ شخص دنیا کے کام کا نہیں رہتا جسے آخرت کی فکر ہو جاتی ہے ایک بزرگ کی حکایت ہے کہ حجامت بنوا رہے تھے ہونٹ ہل رہے تھے نائی نے کہا کہ حضرت لبوں پر استرا ہے تھوڑی دیر کو لب روک لیجئے ورنہ کٹ جائیں گے فرمایا میاں کٹ بھی جانے دو اس کا نام لینا کیسے چھوڑا جا سکتا ہے ایک اور بزرگ کی حکایت ہے کہ رات بیٹھ کر گزار دیتے بیوی کہتی کہ سو جاؤ بیمار ہو جاؤ گے کہتے کہ جب سے یہ آیت پڑھی ہے :
یایھا الذین آمنو قوا انفسکم و اھلیکم نارا و قودھا الناس و الحجارۃ
نیند نہیں آتی کیا کروں ۔
12 ذی الحجہ 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم سہ شنبہ

You must be logged in to post a comment.