(ملفوظ7 )

(ملفوظ4) اعتماد بڑی چیز ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ سب کام اعتماد پر ہوتے ہیں اگر اعتماد نہ ہو تو کوئی کام بھی نہ ہو مثلا اگر مریض کو طبیب پر اعتماد نہ ہو کبھی کام نہیں چل سکتا اعتماد بڑی چیز ہے عدم اعتماد سے ہمیشہ پریشانی ہی رہے گی مثلا طبیب مریض سے کہے کہ تم صحت یاب ہوگئے یہ کہے کہ نہیں یا طبیب کہے کہ مرض باقی ہے مریض کہے کہ نہیں ایسی حالت میں سوائے پریشانی کے اور کیا ہوگا ـ راہ سلوک میں تدقیق کی ممانعت

(ملفوظ 3) بندہ کی طلب اور اس کی مثال :

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا عادۃ اللہ یہی ہے ـ کہ بدون طلب کے کچھ نہیں ہوتا اس طرف سے طلب ہو پھر اس طرف سے سب ہی کچھ ہوتا ہے اس پر میں ایک مثال دیا کرتا ہوں کہ بچے کو باپ پچاس قدم کے فاصلے پر کھڑا کر کے اس کی طرف ہاتھ پھیلاتا ہے اس بچہ نے ابھی کھڑا ہونا سیکھا ہے چل نہیں سکتا مگر باپ کے ہاتھ پھلانے پر وہ اس طرف آنے کے لئے حرکت کرتا ہے مگر گر جاتا ہے اب باپ دوڑ کر آغوش میں لے لیگا جو مسافت یہ بچہ سال بھر میں بھی قطع نہ کرسکتا وہ باپ کی حرکت سے ایک منٹ میں طے ہو گئی خلاصہ یہ ہے کہ طلب شرط ہے پھر کام تو سب اسی طرف کے چاہنے سے ہوگا اور اگر طلب نہیں تو عدم طلب پر تو یہ فرماتے ہیں کہ انلزمکموھاوانتم لھا کا رھون ـ

(ملفوظ2)انسان ہونے کے معنی:

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا اگر انسان انسان ہو جائے تو پھر یہ سب کچھ ہے اور اگر انسان کے معنی یہ ہیں کہ صحیح تعلق پیدا ہو جائے حق تعالی کے ساتھ یہ ہی جڑ ہے سب کی ـ

(ملفوظ1)آزادی کی وبا اور اصلاح کا طریقہ

بسم اللہ الر حمن الر حیم
12 ذی الحجہ 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم سہ شنبہ
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ آج کل آزادی ہوگئی ہے یہ مرض نیچریوں میں ہے جو منہ میں آیا بک دیا جو جی میں آیا کر لیا حالانکہ دین بدوں وحی کی اتباع کے سلامت نہیں رہ سکتا ایک صاحب نے عرض کیا کہ فلاں صاحب کے بھی آزاد خیالات ہیں حضرت کے یہاں آ کر امید ہے کہ ان کے خیالات درست ہوجائیں اگر اجازت ہو تو ان کو مشورہ دیا جائے فرمایا کہ ایسا مشورہ دینا مفید نہیں اگر دوسرے کے مشورے سے آئیں گے تو شاید نکال دیئے جائیں اصلاح ہوتی ہے جبکہ خود طلب ہو بدون اپنی طلب کے اصلاح نہیں ہوا کرتی یہ مسلمہ مجربہ مسئلہ ہے آپ ہرگز مشورہ نہ دیں اگر وہ خود آنا چاہیں میں چند شرائط کے ساتھ اجازت دے دونگا اس وقت امید ہے کہ شاید اصلاح ہوجائے ان کے دماغوں میں جو فرعونیت بھری ہوئی ہے اس کا علاج ضابطہ ہی کے برتاؤ سے ہوتا ہے ایک مرتبہ ضلع مراد آبار کے ایک قصبہ میں مدعو کیا گیا وہاں پر ایک وعظ بھی ہوا قبل وعظ ایک جنٹلمین صاحب علی گڑھ کالج کے تعلیم یافتہ تشریف لائے اور آکر فرمایا کہ میں آپ سے کچھ عرض کر سکتا ہوں میں نے کہا کہ ضرور کر سکتے ہیں کہا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ کو علی گڑھ والوں سے نفرت ہے میں سوچا کہ اگر میں کہتا ہوں کہ ہاں تب تو تعصب کا شبہ ہو گا اور اگر کہتا ہوں کہ نہیں تو ایک طرح کی چاپلوسی ہے جو واقع کے بھی خلاف ہے حق تعالی نے دل میں ایک بات ڈالی میں نے کہا ان کی ذات سے تو نفرت نہیں افعال سے نفرت ہے کہا کہ وہ کیا افعال ہیں میں نے کہا کہ ہر فاعل کے افعال جدا ہیں کہنے لگے مثلا میرے کیا افعال ہیں میں نے کہا کہ بعض تو بین ہیں (ان کی داڑھی منڈی ہوئی تھی جن کے اظہار کی ضرورت نہیں کہنے لگے کہ وہ بین کونسے افعال ہیں میں نے کہا کہ مجمع میں ظاہر کرنا مناسب نہیں اور تنہائی میں بھی بدون باہمی مناسبت کے ظاہر کرنا نافع نہیں اور مناسبت کا طریقہ یہ ہے کہ چند روز میرے پاس رہئے تاکہ آپ کو مجھ پر اعتماد ہو جاوے کہ یہ خیرخواہی اور ہمدردی سے کہ رہا ہے اور مجھ کو یہ اطمنان ہو جاوے کہ آپ خلوص سے پوچھ رہے ہیں سمجھ گئے پھر سوال نہیں کیا ـ غرض ان متکبروں کی رعایت کی ضرورت نہیں تجربہ کی بات ہے کہ رعائیتی گفتگو کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا ہر بات اصول کے ما تحت ہونا چاہیئے ان ہی اصول میں سے ایک یہ ہے کہ اول یہ دیکھ لیا جائے کہ مخالف کو اپنی رائے فاسد پر جزم ہے یا تردد ہے اگر جزم ہے تو ہم گفتگو نہ کریں گے کہ محض فضول ہے اور اگر ترددہے تو بیشک گفتگو کریں گے لیکن اس صورت میں بھی گفتگو سے پہلے قدر موانست کی ضرورت ہے تاکہ باہمی اعتماد ہو ورنہ سب کیا کرایا بیکار جاویگا اس کی مثال طبیب کی سی ہے کہ ایک نسخہ لکھا اگر مریض کو اعتماد نہیں تو کہہ دے گا کہ ٹھیک نہیں پھر دوسرا لکھا اس کو بھی کہہ دیا ٹھیک نہیں تو طبیب ان کا غلام ہے کہ بیٹھا ہوا نسخے کو استعمال کرکے دیکھے پھر آگے چلے (اس طرح نفع ہوتا ہے اور اگر یہ نہیں تو کیوں وقت بھی بیکار کھویا مولانا رومی اسی امتحان کی ضرورت کو فرماتےہیں ـ
سالہا تو سنگ بودی دل خراش آزموں را یک زمانے خاک باش
یہ تو طالب میں شرطیں ہیں نیز مصلح میں بھی بڑی شرط ہے کہ حکیم ہو طالب کی حالت کے موافق علاج کرے ایک رئیس کا واقعہ ہے کہ ان کو داڑھی چڑھانے کا مرض تھا تو محض اس خیال سے کہ پانچ وقت وضو میں داڑھی کھولنی چڑھانی پڑے گی نماز نہ پڑھتے تھے ایک حکیم بزرگ نے ان سے کہا کہ تم نماز پڑھا کرو خواہ بلا وضو ہی پڑھ لیا کرو یہ نماز نہ تھی تشبہ بالمصلی تھا دو چار وقت تو انہوں نے ایسے ہی پڑھی پھر خیال ہوا کہ کیا واہیات ہے کہ نماز پڑھی بھی اور بلا وضو بس وضو بھی کرنے لگے ـ یہ حکیمانہ تدابیر ـ

ملفوظ 165: دوسروں کے حقوق کی گہری رعائتیں

( ملفوظ 643) ذکر و شغل خود نفع ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بعض لوگ ذکر و شغل کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کچھ نفع نہیں ہوا حضرت حاجی صاحب اس کے جواب میں فرمایا کرتے تھے کہ کیا یہ نفع نہیں کہ ذکر و شغل کرتے ہو اللہ تعالی کا نام لیتے ہوئے میاں اسی طرح کا کام میں لگے رہو اور یہ شعر پڑھا کرتے تھے ۔
یا بم اور ایانیابم جستجوئے می کنم حاصل آید یا نیاید آرزوئے می کنم
ایک ذاکر نے حضرت حاجی صاحب سے عرض کیا کہ میں نے طائف میں چلہ کیا اور سوا لاکھ اسم ذات روزانہ پڑھا مگر نفع نہیں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ناراض ہیں فرمایا کہ اگر میں ناراض ہوتا تو تم کو سوا لاکھ اسم ذات کی توفیق ہی نہ ہوتی اور یہ بات جو حضرت نے فرمائی اس میں نقشبندیت کی ایک شان ہے کیونکہ نقشبندیہ میں ناز کی شان غالب ہے اور چشتیہ میں نیاز کی اور ہمارے حضرات مرکب ہیں چشتیت اور نقشبندیت دونوں سے ان میں دونوں شاخیں جمع ہیں مگر غلبہ اسی نیاز اور عشق ہی کو ہے جس کی حقیقت فنا ہے ۔

( ملفوظ 642) مجاہدات و ریاضات کا فائدہ

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مجاہدات ریاضات سے رزائل دب جاتے ہیں مضمحل ہو جاتے ہیں زائل نہیں ہوتے واقع میں موجود رہتے ہیں مگر مجاہدات سے مقاومت سہل ہو جاتی ہے اور ان پر عمر بھر کے لئے قابو ہو جاتا ہے باقی یہ شبہ کہ جب مقاومت کی سہولت سے افعال کا صدور بے تکلف ہونے لگے اور اجر کامل موقوف ہے مشقت پر تو چاہئے کہ مجاہدہ کے بعد اجر کامل نہ ملے اس کا جواب پہلے گزر چکا ہے جہاں یہ مثال ہے کہ مشی فعل اختیاری اور مسبوق بالقصد ہے مگر پھر بھی ہر قدم پر ارادہ کرنا نہیں پڑتا بس شروع میں ایک مرتبہ کا ارادہ کافی ہو جاتا ہے اور اگر اس ارادہ کا امتداد حکمی کسی کی سمجھ میں نہ آئے تو وہ دوسرا سمجھ لے کر کبھی بلا قصد بھی تو اجر مل جاتا ہے چنانچہ حدیث میں ہے کہ کوئی شخص کھیتی کرے یا باغ لگائے اور کوئی آدمی یا جانور اس میں سے کھا جائے تو اجر ملتا ہے حالانکہ اس کا قصد نہ تھا اور اگر قصد بھی کر لیا تو کیا ہی بات ہے تو نور علی نور ہے جیسے ایک بزرگ ایک شخص کے مکان پر تشریف لے گئے مکان کا روشن دان دیکھ کر دریافت فرمایا کہ یہ کس لئے ہے عرض کیا کہ روشنی اور ہوا کی نیت سے رکھا ہے فرمایا اگر یہ نیت کر لیتے کہ اذان کی آواز آیا کرے گی تو روشنی اور ہوا بھی آتی اور جب تک یہ مکان قائم رہتا تمہارے نامہ اعمال میں ثواب لکھا جاتا بے قصد کے اجر ملنا کا ایک اور مادہ یاد آیا دیکھئے بیمار ہونے کا کسی کسی کا بھی قصد نہیں ہوتا مگر بیمار کو بیماری کا برابر اجر ملتا ہے اور بیماری کے سبب جو اوراد معمولہ ناغہ ہو جاتے ہیں ان کا بھی اجر اس لئے ملتا ہے کہ حالت تندرستی میں یہ قصد اور نیت تھی کہ یہ ہمیشہ کرتا رہوں گا بہرحال قصد سابق کا امتداد اور عدم قصد دونوں مقارن اجر ہو سکتے ہیں ۔

( ملفوظ 641) بڑی چیز دین ہے

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ دین میں دنیوی مصالح سے متاثر ہونا سب کمزوری کی باتیں ہیں بڑی چیز دین ہے یہ محفوظ رہے خواہ تمام مصالح بلکہ سارا عالم فنا ہو جائے کچھ پرواہ نہیں ۔

( ملفوظ 640)تصوف کی کتابیں منتہی کے لئے ہوتی ہیں

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ تصوف کی کتابیں منتہی کے واسطے ہیں مبتدی کے لئے نہیں جیسے کتابیں طب کی طبیب کے لئے ہیں مریض کے لئے نہیں بس اسی طرح تصوف کی کتابیں شیوخ کے لئے ہیں عوام الناس کے لئے نہیں آخر قرآن پاک میں حق تعالی فرماتے ہیں :
ھل یستوی الذین یعلمون و الذین لا یعلمون
سو دونوں ہر معاملہ میں مساوی کیسے ہو سکتے ہیں ایک جاہل غیر مقلد ایک حدیث کی کتاب دیکھ رہے تھے وہ کتاب اردو میں تھی آج کل اردو میں ترجمے ہو گئے ہیں اس میں وہ حدیث تھی : من ام منکم فلیخفف اور اس کا ترجمہ تھا کہ امام کو چاہئے کہ ہلکی نماز پڑھے آپ نے ہلکی کو ہل کے پڑھا جس کے معنی جنبش کے ہیں پس آپ نے یہ شروع کیا کہ جب امامت کرتا تو خوب ہلا کرتا اسی طرح ایک شخص نے مسائل کی کتاب میں دیکھا کہ دو رکعت بھری اور دو خالی پڑھے تو آپ نے سنتوں میں بھی دو خالی اور دو بھری پڑھنا شروع کر دیا اور سالہا سال تک اسی طرح پڑھی ۔