( ملفوظ 629)غیر مقلد صاحب کے ایک اخبار کو آنے سے روکنا

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں ایک اخبار کے متعلق فرمایا کہ اب تو نہ وہ اخبار آتا ہے اور نہ ان کا کوئی خط میں بھیجنے سے منع کر دیا ہے اس میں صوفیہ کی مذمت ہوتی تھی اور کفار کی مدح ۔

( ملفوظ 628) سچی دوستی کون سی ہے ؟

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ آج کل دوستی کا نام ہی نام رہ گیا ہے ورنہ حقیقت تو قریب قریب مفقود کے ہے حضرت مولانا گنگوہی کی مجلس میں حافظ محمد احمد صاحب اور مولوی حبیب الرحمن صاحب حاضر تھے جن کی دوستی مشہور و معروف تھی حضرت نے ان سے دریافت فرمایا کہ کبھی تم میں اور ان میں بے لطفی یا لڑائی بھی ہوتی ہے یا نہیں عرض کیا کہ حضرت کبھی کبھی ہو جاتی ہے فرمایا کہ یہ دوستی پائیدار ہے درخت وہ مستحکم ہوتا ہے کہ جس پر آندھی آ چکی ہو پھر اپنی جڑوں کو نہ چھوڑا ہو ۔ بس دوستی بھی وہی ہے کہ باہم لڑائی بھی ہو جائے اور تعلقات باقی رہیں ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ اگر ایک دوست دوسرے سے کہے کہ قرض دے دو اور وہ دریافت کرے کہ کتنا وہ بزرگ کہتے ہیں کہ وہ دوستی کے لائق نہیں اس سے قطع تعلق کر دو دوست وہ ہے کہ جو کچھ اس کے پاس ہے سب لا کر سامنے رکھ دے یہ ہیں اس کے حقوق پھر ایک دوسری حکایت فرمائی کہ ایک دوست نے دوست کو رات کے وقت مکان پر جا کر آواز دی وہ ذرا تاخیر سے آیا اور اس حیثیت سے کہ ہتھیاروں سے مزین ایک حسین و جمیل لونڈی شمع لئے ہوئے اور ایک غلام ایک توڑا روپوں کا کندھے پر لادے ہوئے اس نے پوچھا یہ کیا قصہ ہے کہا کہ جب تم نے آواز دی تو مجھ کو خیال ہوا کہ بے وقت دوست نے آواز دی ہے نہ معلوم کیا قصہ ہے اور مجھ کو کئی احتمال ہوئے ایک یہ کہ ممکن ہے کہ کسی دشمن سے مقابلہ ہو تو ہتھیاروں سے ٹھیک ہو کر آیا اور یہ بھی ممکن ہے کہ کسی انیس کی ضرورت ہے تو یہ لونڈی لایا اس کو رکھو نکاح کرا دوں گا اور ممکن ہے کہ کسی خادم کی ضرورت ہو یہ غلام موجود ہے اور ممکن ہے کہ روپیہ کی ضرورت ہو روپیہ بھی حاضر ہے اس نے کہا کہ مجھ کو کسی چیز کی ضرورت نہیں محض تمہارے دیکھنے کو دل چاہتا ہے تو حضرت دوستی تو یہ ہوتی ہے محض آپس میں باتیں کر لینے کا نام دوستی نہیں ۔

(ملفوظ 627) آج کل کے مہمان اور میزبان

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل معاشرت تو اس درجہ خراب ہو گئی ہے کہ قطعا اس کی پرواہ نہیں کی جاتی کہ ہماری اس بات یا کام سے دوسرے کو تکلیف ہو گی یا اس کی پریشانی کا سبب ہو گا اب مہمان داری ہی کو دیکھ لیجئے گاڑیاں چھکڑے بھر بھر کر میزبان کے گھر پہنچ جاتے ہیں نہ یہ خبر کہ اس غریب کے یہاں کھانے کو ہے یا نہیں خصوص کسی کی بیماری یا موت کے موقع پر تو ایسا کرنا نہایت ہی ظلم اور بے رحمی کی بات ہے گھر والے اس کی تیمارداری کو چھوڑ کر ان کی تیمارداری میں لگ جاتے ہیں مردہ کے رونے کو چھوڑ کر ان کا رونا شروع کر دیتے ہیں مشہور ہے کہ مہمانوں کا کھایا ہوا گھر اور چڑیوں کا چگا ہوا کھیت اور چلموں کا مارا ہوا چولہا کبھی پنپ ہی نہیں سکتا مگر مہمانوں کا کھایا ہوا گھر وہ مراد ہے کہ جس کھانے میں تکلف و غلو ہو باقی جس میں تکلف نہیں وہ مراد نہیں سمرقند میں حضرت شیخ سعدی کسی کے یہاں پہنچے میزبان نے بہت تکلفات کئے جب کھانا سامنے آیا تو فرمایا کہ آہ دعوت شیراز میزبان نے اور زیادہ تکلف کیا پھر بھی یہی فرمایا اس نے اپنے دل میں کہا کہ کیا شیراز میں سونا چاندی کھاتے ہیں ایک مرتبہ یہ شخص حضرت سعدی کے یہاں مہمان ہوا پہنچتے ہی ہاتھ دھلوا کر اور جو کچھ دال روٹی تھی لا کر سامنے رکھ دی وہ سمجھا کہ اس وقت نہیں ملا شام کو تکلف ہو گا مگر شام کو بھی وہی پھر دوسرے دن بھی یہی آخر اس شخص نے پوچھا حضرت وہ دعوت شیراز کہاں ہے فرمایا یہی ہے وہ دعوت شیراز اس نے کہا اس میں کیا بات ترجیح کی ہے فرمایا ترجیح یہ ہے کہ اگر تم میرے پاس چار مہینہ بھی ٹھرے رہو تو مجھ پر گرانی نہ ہو گی اور تم چار ہی روز میں دل میں کہنے لگتے کہ خدا کرے جلدی دفع ہو کہاں سے بلا سر پڑی ۔

( ملفوظ 626) اعمال صالحہ کا ملکہ پیدا ہونے سے اجر کم نہیں ہوتا

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ امور اختیاریہ جن کا صدور ارادہ سے ہوتا ہے اس ارادہ کا تعلق شروع میں کافی ہے اور جب تک ان کی ضد کا صدور نہ ہو وہ آخر فعل تک حکما ممتد رہتا ہے ہر وقت تجدید ارادہ کی ضرورت نہیں ہوتی مثلا چلنے کے لئے ایک مرتبہ کا ارادہ کافی ہے فرض کیجئے کوئی شخص بازار جانے کے لئے چلا تو کیا ہر قدم پر چلنے کا ارادہ کرے گا ہر گز نہیں بس ایک مرتبہ کا ارادہ کافی ہوتا ہے اسی کے اثر سے برابر قدم اٹھتا رہے گا بلکہ اگر کوئی ہر قدم پر جدید ارادہ کرے تو مسافت طے ہونا ہی مشکل ہو جائے دیکھ لیجئے چل بھی رہے ہیں اور کسی سے بات بھی کر رہے ہیں یا کتاب یا اخبار بھی دیکھ رہے ہیں اس وقت چلنے کی طرف مطلق بھی التفات نہیں ہوتا اس سے اس سوال کا جواب نکل آیا کہ ان مجاہدات و ریاضات سے جب ملکہ پیدا ہو جاتا ہے تو طبعی طور پر افعال صادر ہونے لگتے ہیں زیادہ اہتمام و مشقت کی بھی ضرورت نہیں رہتی اور اجر کامل موقوف ہے اہتمام اور مشقت پر تو ان لوگوں کو اجر کامل بھی نہ ملنا چاہئے بلفظ دیگر یوں کہنا چاہئے کہ منتہی کو مبتدی سے کم اجر ملتا ہے کیونکہ مبتدی کو مشقت ہوتی ہے منتہی کو نہیں ہوتی تقریر جواب کی ظاہر ہے کہ جب مجاہدہ اسی ارادہ سے کیا کہ بے تکلف افعال کا صدور ہونے لگے تو مشقت حکما ہر فعل کے ساتھ ممتد سمجھی جائے گی اور اجر کامل ملے گا اور اپنے کمال میں مبتدی کے اجر سے زیادہ ہو گا کیونکہ مشقت تو امر مشترک ہے ایک جگہ حسا ایک جگہ حکما مگر منتہی میں رسوخ خلق و تثبیت و مہارت و تشبہ بالملئکہ کی جان کی شان میں وارد ہے ۔
یسبحون اللیل و النھار لا یفترون
فضیلت زائد ہے ۔

( ملفوظ 625)دینی عزت نماز سے اور دنیاوی عزت پردہ سے ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اہل یورپ کو علوم سے ذرہ برابر بھی مناسبت نہیں ایک یورپین سے ایک مسلمان کی پردے کے متعلق گفتگو ہوئی انگریز نے کہا کہ جس کو تم پردہ کہتا ہے یہ قید خانہ ہے انہوں نے کہا یہ قید خانہ ہی کی برکت ہے کہ عفت محفوظ ہے اور آزادی کا جو نتیجہ ہے ظاہر ہے بس یہ ان کے علوم ہیں اسی سلسلہ میں ایک صاحب کے جواب میں فرمایا کہ دینی عزت تو نماز سے ہے اور دنیاوی عزت پردے سے ہے ۔

( ملفوظ 624) فقہاء اور صوفیہ حکماء ہیں

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ صوفیہ اور فقہاء یہ دونوں فرقے واقعی حکماء ہیں احکام ظاہری و باطنی کے حقائق اور معارف ان ہی حضرات کی بدولت نصیب ہوئے مگر افسوس آج کل ان حضرات کی مخالفت پر لوگ سرگرم ہیں نہایت حماقت ہے ۔

( ملفوظ 623)اختیاری و غیر اختیاری کا فرق نصف سلوک ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ امور اختیاریہ کا اہتمام کرو اور غیر اختیاریہ کا پیچھا چھوڑو بس یہ نصف سلوک ہے بلکہ اگر تعمق کی نظر سے دیکھا جائے توکل ہی سلوک ہے آج کل غیر اختیاری کاموں کے پیچھے پڑنے کی وجہ سے لوگ بہت ہی زیادہ پریشان ہیں سو اس کے لئے ضرورت ہے کہ کسی کی صحبت میں رہے اس کی صحبت میں رہ کر راہ معلوم ہو گی اور منزل پر پہنچ جائے گا مثلا نماز میں ناواقفی سے جس حضور کو تم چاہتے ہو وہ نہیں ہوا اب پریشانی ہو گی دیکھنا یہ ہے کہ جس حضور کو تم چاہتے ہو وہ اختیاری ہے یا غیر اختیاری اختیار تو صرف اتنا ہے کہ نماز کی طرف قصد اور توجہ سے لگا رہنا اب اس پر قطع خواطر کا ثمرہ یہ دوسری چیز ہے سو قصد اور توجہ تو اختیاری ہے اور ثمرہ مذکورہ غیر اختیاری پس اگر یہ ثمرہ نہ بھی مرتب ہو تب بھی حضور میسر ہے پریشان نہیں ہونا چاہیے اس لئے کہ غیر اختیاری چیز کبھی مقصود کے منافی نہیں ہوتی مثلا ایک شخص عملا سخی ہے مگر طبعا بخیل ہے تو طبعا جو بخل ہے جب تک اس کے اقتضاء پر عمل نہ کرے گا یہ منافی مقصود کے نہیں کمال مقصود اس کو حاصل ہے اور چند روز کی مقاومت سے وہ داعیہ الی الشر بھی مضمحل ہو جائے گا اور میں تو کہتا ہوں کہ اگر ساری عمر بھی یوں ہی گزر جائے اور وہ داعیہ مضمحل نہ ہو تب بھی نقصان کیا ہوا بلکہ اس کشمکش کی وجہ سے نفع ہوا کہ اجر بڑھ گیا ۔

( ملفوظ 622) بدعتی اور وہابی کی مختصر لفظوں میں تعریف

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مولانا فیض الحسن صاحب سہارنپوری بڑے ظریف تھے کسی نے ان سے بدعتی اور وہابی کے معنی پوچھے تو عجیب تفسیر کی فرمایا کہ بدعتی کے معنی ہیں با ادب بے ایمان اور وہابی کے معنی ہیں بے ادب با ایمان آج کل کے بدعتی اکثر شریر ہوتے ہیں پہلے لوگوں میں یہ بات نہ تھی وجہ یہ کہ وہ اللہ اللہ کرنے والے ہوتے تھے اس کی برکت سے ان میں تدین تھا اور اب تو بکثرت فاسق فاجر ہوتے ہیں جن کو دین سے کوئی لگاؤ ہی نہیں ہوتا اور اس وقت یہی حالت غیر مقلدوں کی بھی ہے اور مزید برآں یہ کہ تہذیب سے بھی کورے ہوتے ہیں ایک صاحب کا یہاں پر اخبار آتا تھا اس میں کافر حکام و رؤساء کی مدح ہوتی تھی اور ماشاء اللہ اہل حدیث کہلاتے ہیں کفار کو اولی الامر منکم میں داخل لکھتے تھے کہاں تو یہ سوء ظن کہ بزرگان سلف کو بھی برا بھلا کہا جاتا ہے اور کہاں یہ حسن ظن کہ کفار کی مدح کی جاتی ہے یہ ان کا دین ہے بس اغراض نفسانی کو دین سمجھ رکھا ہے کہ ایسے لوگوں سے کچھ ملنے کی امید ہو گی ان کی ہی تعریف شروع کر دی میں نے لکھ دیا کہ تمہارے اخبار میں کفار کی مدح ہوتی ہے لہذا یہاں اخبار نہ بھیجا کرو ان ہی صاحب نے تفسیر بیان القرآن کے ایک مقام پر اعتراض کیا ہے نہایت ہی بد تہذیبی سے میں اس کی شکایت نہیں کرتا کہ اعتراض کیوں کیا کسی کی غلطیوں پر مطلع کرنا طاعت ہے مگر آدمیت تو ہو مگر ایسے لوگوں کو دین تھوڑا ہی مقصود ہے اور ایسے لوگ ان ہی سے باز آتے ہیں جو گنبد کی آواز ہیں کہ جیسی کہے ویسی سنے ، ہم کو غریب سمجھ کر ڈانٹ لیتے ہیں اس وقت طبائع کا یہی رنگ ہے کہ نرمی والوں کو ستاتے ہیں اور سختی والوں سے دبتے ہیں اس کی تائید میں ایک قصہ بیان فرمایا کہ ایک مولوی صاحب تھے دہلی کے وہ بیان کرتے تھے کہ میں ایک رئیس کے یہاں مہمان تھا شب کو بڑے استنجے کی ضرورت ہوئی اٹھ کر بیت الخلاء گیا وہاں سے نکلتے ہوئے سنتری نے ٹوکا کون اگر میں حضرات دیوبندیوں کا طرز اختیار کرتا کہ میں ہوں حقیر فقیر پرتقصیر تو اس وقت پٹتا تھا بعد میں خواہ کچھ ہی ہوتا اس لئے ہم نے کہا کہ ہم ہیں مولانا صاحب دہلی والے تو کیا بکتا ہے نالائق اس سنتری نے عرض کیا کہ حضور پہچانا نہیں تھا ہم نے کہا ہاں اندھا ہے سارے دن تو ہم کو دیکھا پھر بھی نہیں پہچانا صبح ہونے دے تب خبر لی جائے گی بس قدموں پر گر پڑا اور ٹھیک ہو گیا یہ تو بہادروں کا قصہ ہے مگر ہم سے تو ایسی بہادری ہو نہیں سکتی ہم تو حقیر فقیر پرتقصیر ہی ہیں جو جس کے جی میں آتا ہے کہہ لیتا ہے ہمارے بزرگوں کا تو یہی طرز رہا ہے کہ اپنے کو مٹائے رہتے تھے ۔ ہم کو بھی وہی پسند ہے مولانا مظفر حسین صاحب کاندھلوی کا ایک واقعہ یاد آیا کسی سفر میں تشریف لے جا رہے تھے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا کہ سر پر بہت سا بوجھ لادے جا رہا ہے فرمایا لاؤ بھائی میں لے لو تو بوڑھا ہے تھک گیا ہو گا اس نے کہا کہ بھائی تو بھی تو بوڑھا ہے مولانا نے فرمایا اول تو میں ایسا بوڑھا نہیں دوسرے ذرا تازہ دم ہوں وہ غریب پہچانتا نہ تھا آخر بوجھ دے دیا آپ نے اس کے گاؤں تک پہنچا دیا راستہ میں مختلف باتیں ہوئی باتوں باتوں میں اس شخص نے یہ بھی کہا کہ میں نے سنا ہے کہ مولوی مظفر حسین صاحب اس طرف آئے ہوئے ہیں بھائی اگر تجھ کو خبر ہو مجھ کو بھی خبر کر دیجیو فرمایا کہ کر دوں گا جب رخصت ہونے لگے تب فرمایا بھائی مظفر حسین میں ہی ہوں وہ بے چارہ قدموں میں گر پڑا اور بے حد نادم ہوا آپ نے اس کی تسلی کی اور بات کو ختم کیا حضرت یہ سب عشق کے کرشمے ہیں کہ اس طرح مٹا دیتا ہے اور یہی حالت ہو جاتی ہے ۔
ایں چنیں شیخے گدائے کوبکو عشق آمد لا ابالی فاتقوا
اور اس کی یہ کیفیت ہے فرماتے ہیں ۔
عشق آں شعلہ است کوچوں بر فروخت ہر چہ جز معشوق باقی جملہ سوخت
یہ ان کی دیوانگی وہ دیوانگی ہے جس کو مولانا فرماتے ہیں
اوست دیوانہ کہ دیوانہ نہ شد مرعسس راہ دید و درخانہ نہ شد
ما اگر قلاش وما دیوانہ ایم مست آں ساقی و آں پیمانہ ایم
اس مذاق کو دیوانگی کہا جاتا ہے مگر معلوم بھی ہے کہ ہزاروں ہوشیاریاں اس پر قربان ہیں نیز علاوہ عشق کے ایک بات یہ بھی ہے کہ اہل کمال کبھی ایسی چیزوں کی طرف نظر نہیں کرتے کہ اس میں ہماری سبکی ہو گی یا کیا ہو گا ان میں ایک استغنا کی شان ہوتی ہے کمال میں یہی خاصیت ہے یہ بادشاہ کو بھی منہ نہیں لگاتے آپ دیکھ لیجئے کیمیا گر کس حالت سے رہتا ہے نہ لباس درست نہ جسم صاف مگر بڑے بڑے والیان ملک کو موقع پر گدھا تک کہہ دیتا ہے یہ استغناء کس چیز کی بدولت ہے صرف کمال کی بدولت خوب کہا ہے ۔
موحد چوبرپائے ریزی زرش چہ فولاد ہندی نہی برسرش
امید وہر اسش نباشد زکس ہمیں است بنیاد توحید و بس

( ملفوظ 621)مستورات کے ساتھ سفر میں محرم ہونا

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ سفر میں مستورات کے ساتھ ان کے محرم کا دوسروں پر بھی قدرتی طور ہیبت پڑتی ہے محرم کی جو مانع فتن ہے ۔

( ملفوظ 620) شیخ کو ذرا برابر بھی مکدر نہ کرنا چاہئے

ایک صاحب کی غلطی پر مؤاخذہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ جس شخص سے اصلاح باطن کا تعلق ہو اس کو رائی برابر بھی مکدر کرنا ایسا ہے جیسے بڑا پہاڑ بیچ میں آ گیا اور حجاب ہو جاتا ہے اور فیض بند ہو جاتا ہے اور یہ بات وجدانی ہے اس طریق میں کدورت اور نفع دونوں جمع نہیں ہو سکتے مگر کدورت اور نفع دونوں جمع نہیں ہو سکتے مگر کدورت اسی سے ہوتی ہے جس سے توقع ہوتی ہے ۔
ایک روہیل کھنڈ کے مولوی صاحب نے مجھ کو ہمیشہ گالیاں دیں مگر ذرہ برابر بھی کبھی اثر نہیں ہوا نہ کوئی شکایت ہوئی شکایت بھی دوستوں ہی سے ہوا کرتی ہے دشمن کی کیا شکایت جو دوستی کا دعوی کرتے ہیں ان سے اذیت کی برداشت نہیں اور اس اذیت کا سبب کم فہمی نہیں ہوتی بلکہ بے فکری ہوتی ہے فکر سے کام لے تو کبھی دوسرے کو تکلیف نہ پہنچے حتی کہ اگر ایسے شخص سے کبھی کوئی نا مناسب حرکت بھی ہو جائے وہ بھی بہت خفیف اور کبھی اتفاقا ہو گی اور چونکہ صاحب معاملہ کو معلوم ہو گا کہ یہ شخص فکر سے کام لیتا ہے مگر باوجود قصد اور فکر کے ایسا ہو گیا تو اس پر بھی کوئی اثر نہ ہو گا ۔