ایک صاحب نے ہدیہ حضرت والا کی خدمت میں کچھ پیش کیا حضرت والا نے لینے سے انکار فرما دیا اور فرمایا کہ انہوں نے کبھی نہ کوئی مسئلہ پوچھا نہ اللہ کا راستہ معلوم کیا اس لئے ان سے لیتے ہوئے جی شرماتا ہے اور یہ تو مالی خدمت ہے جس میں کچھ خرچ بھی ہے میں تو ایسے شخص سے کہ جس نے مجھ سے کوئی خدمت نہ لی ہو جسمانی خدمت بھی نہیں لیتا جس میں کچھ خرچ بھی نہیں اور یہ میرے فطری امور ہیں ان کے خلاف پر میں قادر نہیں ان باتوں کو لوگ سختی سے تعبیر کرتے ہیں ۔
اقوال
( ملفوظ 618)تحریکات میں شور مچانے کی وجہ سے زیادہ معلوم ہونا
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ تحریکات کے زمانہ میں لوگ سمجھتے تھے کہ شرکاء زیادہ ہیں حالانکہ یہ خیال غلط تھا شریک بہت کم تھے مگر وہ زیادہ اس وجہ سے معلوم ہوتے تھے کہ وہ شور و غل بہت کرتے پھرتے تھے ان سے ان کی تعداد زیادہ معلوم ہوتی تھی ورنہ واقع میں تعداد زیادہ ان ہی کی تھی جو شریک نہ تھے ۔
( ملفوظ 617)خوف حدا اعتدال کے اندر مبارک ہے
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ یہ بڑی مبارک حالت ہے کہ ہر حالت میں خوف رہے اندیشہ رہے یہ بڑی دولت ہے مگر قصدا خوف کا اس قدر مراقبہ نہیں کرنا چاہئے جو حد اعتدال سے بڑھ جائے اس میں اندیشہ ہے کہ کہیں مایوسی کی نوبت نہ آ جائے پھر اس سے تعطل تک نوبت آ جاتی ہے ہر چیز کے خواص جدا جدا ہیں اور ہر چیز کی ایک حد ہے اور حدود پر رہنے کا صرف ایک ہی علاج ہے کہ کسی جاننے والے کے اپنے کو سپرد کر دے جو وہ کہے اس کا اتباع کرے بس اسی ہی میں خیر ہے ورنہ قدم قدم پر خطرہ ہے ۔
13 ذی الحجہ 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم دو شنبہ
( ملفوظ 616)کالج میں دین پر فالج گرتا ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ کالج نہیں فالج ہے جہاں دین سلب ہو جاتا ہے ۔
( ملفوظ 615) بوتلیں ٹوٹنے پر تادیب
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک زمانہ میں سہارنپور سے ہاضم بوتلیں منگایا کرتا تھا یک شخص بوتلیں لے کر آئے بکس بے احتیاطی سے اٹھایا سب بوتلیں ٹوٹ گئیں میں نے کہا کہ ضمان دو مگر چونکہ تادیب مقصود تھی تعذیب مقصود نہ تھی اس لئے بعد ادائے ضمان اتنی رقم ان کو تبرعا دے دی ۔
( ملفوظ 614) ایک صاحب کی مکتوبات اشرفیہ جمع کرنے کی خواہش
ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت کے تمام مکتوبات ایک جگہ جمع ہو جائیں تو بہتر ہے اگر مصلحت کے خلاف نہ ہو فرمایا کہ مصلحت کے خلاف تو نہیں مگر ان کاموں کے لئے ضرورت ہے پیسہ کی اور روپیہ اتنا ہے نہیں اور مانگنے سے غیرت آتی ہے اور میں تو حق تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتا ہوں کہ جس قدر کام یہاں پر بدون مانگے ہو رہا ہے دوسری جگہ مانگنے پر بھی نہیں ہوتا یہ ان کا فضل ہے ۔
( ملفوظ 613)رذائل پر عمل کرنے سے مؤاخذہ ہوتا ہے
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اس پر مؤاخذہ نہ ہو گا کہ تمہارے اندر رذائل مثلا بخل کیوں تھا اس کے اقتضاء پر عمل کرنے پر مواخذہ ہو گا یہی وجہ ہے کہ محققین کے نزدیک ان رذائل کے ازالہ کی ضرورت نہیں امالہ کی ضرورت ہے یعنی صرف بدل دیا جائے محقق بزرگ نے اسی امالہ کے لئے یہ کوشش کی ہے کہ ان رذائل کو مضمحل کر دیا جائے کہ امالہ کے وقت مقاومت سہل ہو اور یہ بھی اکثر ہی ہے ورنہ اگر بالکل بھی سہولت نہ ہو تب بھی ضرر نہیں کیونکہ اصل مامور بہ تحصیل ہے اعمال کی اور تسہیل تبرع ہے اس باب میں میرا ایک وعظ ہے التحصیل و التسہیل یہ وعظ قابل دید ہے اس میں الحمد للہ اس مبحث کے متعلق قریب قریب سب ضروری ضروی باتیں بیان میں آ گئی ہیں یہ میں نہیں کہتا کہ اس میں کوئی نقص نہیں وہ ایک پکی ہوئی روٹی ہے ممکن ہے کہ کہیں سے جل بھی گئی ہو مگر انشاء اللہ تعالی زیادہ حصہ کارآمد ہے ۔
( ملفوظ 612) رسمیں اخلاق نہیں
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اخلاق اور چیز ہے رسم اور چیز ہے بعض افعال رسمیہ کو سمجھتے ہیں کہ یہ اخلاق ہیں ۔
( ملفوظ 611) فہم کی ضرورت ہے صرف تعلیم کافی نہیں
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ہر معاملہ میں فہم کی ضرورت ہے محض تعلیم کافی نہیں اگر یہ نہ ہو تو بڑی مشکل کا سامنا ہوتا ہے ۔ ایک شخص کا واقعہ ہے کہ میں نے اس سے کہا کہ تجھ میں بے فکری کا مرض زیادہ ہے اس لئے اکثر غلطیاں ہوتی ہیں اس کی تدبیر یہ ہے کہ جو کام کیا کرو سوچ کر کیا کرو اب سنئے ایک اسٹیشن پر پہنچے بیوی کو اور اسباب کو ریل میں سوار کرا دیا اور بھنے ہوئے چنے ایک پیسہ کے خریدنے کا ارادہ کیا ادھر تو ریل سیٹی دے رہی ہے چلنے کو تیار ہے اور آپ مراقبہ میں ہیں کہ یہ چنے ضرورت میں خرید رہا ہوں یا بلا ضرورت محض حظ نفس کے لئے ریل چھوٹ گئی اور پھر جو مصیبتیں پیش آئیں ان بزرگ کو بھی اور بیوی کو بھی ان کی داستان طویل ہے مجھ کو جب یہ واقعہ معلوم ہوا میں نے کہا اس کو بھی تو سوچنا چاہئے تھا کہ کہاں سوچنا چاہئے اور کہاں نہیں اور اگر سوچنا ہی ضرور تھا تو ریل میں بیٹھ کر مراقبہ کر لیا ہوتا اگر یہ معلوم ہوتا کہ ضرورت میں خریدنے ہیں تب تو کھا لیتے اور اگر یہ معلوم ہوتا کہ بلا ضرورت خریدنے ہیں تو بیوی کو یا کسی غریب کو دے دیتے خود نہ کھاتے تو نفس کا علاج اس صورت میں بھی تو ہو جاتا بد فہمی سے بھی اللہ بچائے جیسے ایک نوکر نے آقا کے سامنے گھوڑے کی لید پیش کر دی تھی آقا کی کوئی چیز راستہ میں گر گئی تھی نوکر نے نہیں اٹھائی تھی آقا نے تعلیم کیا تھا کہ جو چیز راستہ میں گرے اٹھا لو اور اس پر یہ عمل ہوا کیونکہ لید بھی تو راستہ میں گری تھی تعلیم بھی جب ہی کارآمد ہوتی ہے جب خداداد فہم ہو اس وقت تعلیم معین ہو جاتی ہے ۔
( ملفوظ 610) اہل مدرسہ کو توکل چاہئے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اہل مدارس امراء کے دروازوں پر جاتے ہیں یہ طرز نہایت ہی نا پسندیدہ ہے علماء کو اس سے اجتناب سخت ضروری ہے اس میں دین اور اہل دین سب کی تحقیر ہے خدا کی ذات پر بھروسہ ہونا چاہئے بقول ایک بزرگ کے جن سے میں نے اپنے مدرسہ کی بے سروسامانی کا ذکر کیا تھا انہوں نے فرمایا تھا کہ جس قدرت نے تمام عالم دنیا کو سنبھال رکھا ہے وہ آپ کی ذرا سی مدرسی کو نہ سنبھال سکے گی کیا کم ہمتی کا خیال ہے ۔
12 ذی الحجہ 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم دو شنبہ

You must be logged in to post a comment.