ایک سلسلہ گفتگو میں بریلی کے دو شخصوں کا مکالمہ بیان فرمایا کہ ایک بدعتی مولوی نے دوسرے خوش عقیدہ عالم سے کہا کہ وہابی کے نام سے کیوں برا مانتے ہو وہاب تو اللہ کا نام ہے انہوں نے جواب دیا کہ : ” من یکفر بالطاغوت ”
میں بت کے منکر کو کافر کہا ہے تو میں آپ کو کافر کہا کروں آپ بھی برا نہ مانیں اس لئے کہ قرآن میں اس کی مدح ہے ۔
اقوال
( ملفوظ 608)معاصی سے نفرت کریں عاصی سے نہیں
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اگر معاصی سے نفرت ہو اور عاصی سے نہ ہو یہ ہو سکتا ہے کیونکہ فعل سے نفرت واجب ہے اور فاعل کی ذات سے ممنوع اس کو ایک مثال سے سمجھ لیجئے کہ ایک حسین نے اپنے منہ کو توے کی سیاہی مل لی ، یہاں حسن و قبح دونوں جمع ہیں تو اس وقت سیاہی سے تو نفرت ہو گی مگر حسین چہرہ سے نفرت نہ ہو گی ان باتوں کے حاصل ہونے کے لئے بڑی شرط صحبت ہے قیل و قال اور نری تحقیق مسائل سے کچھ نہیں ہوتا ۔
( ملفوظ 607) حضرت حاجی صاحب کا اصلی کمال اور کرامات
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اگر کوئی حضرت حاجی صاحب کی تمام کرامتوں کی نفی کرے ہم اس کے ساتھ شریک ہو سکتے ہیں اس لئے کہ حاجی صاحب کے اصلی کمال کے سامنے یہ کرامتیں ایسی ہیں جیسے بچپن کے زمانہ میں بچے مٹی کا گھر بنا کر اس کا نام محل رکھ لیتے ہیں اگر کسی بچہ کے پاس عالی شان محل بھی ہو تو اس مٹی کے محل کے بگڑ جانے سے اس بچہ کو اگر وہ سمجھ دار ہے کچھ بھی رنج نہ ہو گا جبکہ اصل محل موجود ہے ۔
( ملفوظ 606)مشائخ کے ذکر سے دل میں آگ پیدا ہو
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ان حضرات کا ذکر کرنے سے میری حالت دگرگوں ہو جاتی ہے قلب کے اندر ایک آگ سی لگ جاتی ہے علماء کا ذکر کرنے میں ایسی حیات نہیں پیدا ہوتی جو مشائخ کے ذکر میں حیات پیدا ہوتی ہے گو عظمت علماء کی زیادہ ہے مگر وہ خاص کیفیت کہاں پھر ہم کو وہابی اور خشک اور بزرگوں کا مخالف بتاتے ہیں بڑے ہی ظالم ہیں ۔
( ملفوظ 605) حضرت گنگوہی کو حضرت حاجی صاحب کی طرف سے اجازت بیعت
اوپر ہی کے سلسلہ میں فرمایا کہ حضرت حاجی صاحب نے مولانا گنگوہی کو اجازت دی تھی یوں بھی فرما دیا تھا کہ اگر کوئی بیعت ہونا چاہے تو انکار مت کرنا مولانا نے عرض کیا کہ میں بیعت کے قابل نہیں حضرت نے فرمایا کہ تم کیا جانو ہم جو کہتے ہیں وہ کرنا جب مولانا گنگوہ پہنچے گنگوہ میں ایک بی بی تھی انہوں نے حضرت گنگوہی سے بیعت کی درخواست کی حضرت نے بیعت فرمانے سے انکار کر دیا اتفاق سے حضرت صاحب بھی گنگوہ تشریف لے گئے ان بی بی نے حضرت سے بیعت نہ کرنے کی شکایت کی ، حضرت نے مولانا سے فرمایا کہ ان کو بیعت کیوں نہیں کر لیتے مولانا نے عرض کیا کہ اب تو حضرت خود تشریف رکھتے ہیں حضرت ہی بیعت فرما لیں فرمایا کہ یہ کیا ضرور ہے ایک شخص کو تم سے عقیدت ہے مجھ سے نہیں تم ہی کرو غرض یہ کہ حضرت نے ان بی بی کو اپنے سامنے مولانا سے بیعت کرایا یہاں ایک مسئلہ بھی ثابت ہوا کہ مدار اس طریق میں مناسبت پر ہے سو اگر پیر سے مناسبت ہو اور پیر کے پیر سے مناسبت نہ ہو تو پیر ہی کی طرف توجہ کرے اس کے پیر کی طرف نہ کرے گو ادب اور تعظیم اس کی بھی ضروری ہے حضرت گنگوہی فرمایا کرتے تھے کہ اگر مجلس میں حضرت جنید اور حضرت حاجی صاحب دونوں ہوں تو ہم جنید کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھیں وہ حضرت حاجی صاحب کے پیر ہوں گے ہمارا تعلق تو حضرت حاجی صاحب سے ہے افسوس پھر بھی ان حضرات کو وہابی اور خشک کہتے ہیں بڑا ظلم کرتے ہیں ۔
( ملفوظ 604) حضرت حاجی صاحب کا حضرت گنگوہی کو فرمان
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مولانا شیخ محمد صاحب حضرت مولانا گنگوہی کی نسبت چاہتے تھے کہ مجھ سے بیعت ہوں مگر حضرت مولانا نے حاجی صاحب کو ترجیح دی اور حاضر ہو کر چالیس روز رہے اور چاہیس روز تک ایک ہی جوڑا بدن پر رہا جب رخصت ہو کر چلے تو حضرت حاجی صاحب نے فرمایا کہ جو کچھ دینا تھا میں دے چکا مولانا نے دل میں کہا کہ کیا دیا میں تو جیسا پہلے تھا ویسا ہی اب بھی ہوں مگر حضرت نے یہی فرمایا کہ جو ہم کو دینا تھا دے چکے حضرت گنگوہی فرماتے تھے کہ پندرہ برس کے بعد معلوم ہوا کہ حضرت نے کیا دیا تھا اور یہ بھی فرمایا کہ اگر یہ معلوم ہوتا کہ وہ چیز یہ ہے تو اتنی محنت کیوں کرتے یہ تو بلا محنت ہی مل جاتا ہے میں نے کہا جی ہاں اس محنت ہی کی بدولت توپندرہ برس کے بعد معلوم ہوا کہ یہ دیا تھا ۔
( ملفوظ 603) حضرت نانوتوی کو حضرت حاجی صاحب سے عشق
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک مرتبہ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نے فرمایا کہ بھائی پڑھنا پڑھانا تو اور چیز ہے مگر بیعت تو ہوں گے حضرت امداد ہی سے حضرت مولانا کو حضرت کے ساتھ عشق کا درجہ تھا ۔
” جو ہم نے دینا تھا دے چکے “
( ملفوظ 602)حضرت حاجی صاحب اور علم کی رعایت
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت حاجی صاحب فن طریقت کے امام تھے حضرت کی بصیرت کا کیا ٹھکانا تھا مجھ کو بیعت کرنے کے وقت یہ شرط لگائی تھی کہ پڑھنے پڑھانے کے شغل کو ترک نہ کرنا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دینی ضرورت کا کس درجہ ادراک تھا اسی لئے علماء کا بے حد احترام فرماتے تھے ایک مرتبہ مولوی رحمت اللہ صاحب نے حضرت پر کچھ اعتراضات کئے حضرت کو بھی طبعا ناگواری ہوئی اور جواب دے کر یہ بھی فرمایا کہ اگر میں اپنے بچوں کو بلا لوں گا تو ناطقہ بند کر دیں گے اتفاق سے اس زمانہ میں حضرت مولانا محمد قاسم صاحب اور حضرت مولانا گنگوہی صبح کو تشریف لے گئے اور یہ واقعہ سن کر ان حضرات کو بھی ناگوار ہوا اور باہم یہ مشورہ کیا کہ ہم مولوی صاحب سے جا کر پوچھیں گے حضرت حاجی صاحب کو خبر ہوئی تو فرمایا نہ بھائی تم کچھ نہ بولنا میں ان کا احترام کرتا ہوں ہاں جا کر مل آؤ یہ حضرات گئے اور مل کر چلے آئے ۔
( ملفوظ 601)درس نظامی سے عقل میں خاص ترقی
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مسلمانوں کو جو دینی دولت ملی یہ سب قرآن و حدیث کی بدولت ملی سلامت طبع سلامت فہم سلامت عقل و ذہانت فقہا ہی کو دیکھ لیجئے کہ ان حضرات کا کیا رنگ ہے بڑے بڑے فلاسفر ان کے سامنے گرد ہیں فقہ سے خاص طور پر سلامت فہم پیدا ہوتی ہے مولوی ناظر حسین وکیل تھے رامپور میں بڑے بڑے بیرسٹروں کے کان کترتے تھے وہ کہتے تھے کہ میں نے فقہ سمجھ کر پڑھا ہے واقعی اگر کوئی درسی کتابیں سمجھ کر پڑھ لے تو اس کا مقابلہ بڑے بڑے ڈگری یافتہ نہیں کر سکتے اس سے عقل میں خاص ترقی ہوتی ہے ۔
( ملفوظ 600) حضرت شیخ الہند کا ملاقات میں سبقت فرمانا
حضرت مولانا دیوبند کی تواضع کا ذکر تھا اس سلسلہ میں فرمایا کہ میں جب کبھی دیوبند گیا بہت کم ایسا اتفاق ہوا کہ میں حاضری میں سبقت کر سکا ہوں ورنہ خود حضرت تشریف لے آتے تھے پھر فرمایا کہ اگر طریقت میں داخل ہو کر تواضع بھی نہ ہوئی تو کچھ بھی نہ ہوا ۔

You must be logged in to post a comment.