( ملفوظ 411 ) بہانہ بنا کر دوسرے سے کرایہ حاصل کرنا

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک صاحب یہاں پر آئے ، میں نے دریافت کیا کہ کیسے تشریف لائے ، کہا کہ فلاں مولوی صاحب نے بھیجا ہے کہ تم جا کر لے آؤ ، میں نے کہا کہ شاید میرے عذر کی خبر نہیں ، آپ کو کہا کہ مجھ کو تو خبر ہے میں نے کہا کہ پھر کیوں آئے ، کہا اس خیال سے کہ اس بہانہ سے زیارت ہو جائے گی ۔ میں نے کہا کہ کرایہ ان کا اور زیارت تم کرو یہ جائز ہے یہ تو خیانت ہے آپ کو مشورہ دینا چاہیے تھا اس کے متعلق کہ اس کو آنے میں یہ عذر ہے مجھ کو ان کی یہ حرکت سخت ناگوار ہوئی ، میں نے کہا کہ آپ کو ٹھرنے کی اجازت نہیں واپس تشریف لے جائیے ، گاڑی جانے والی تھی ، وقت قریب تھا ، چلے گئے ، بعد میں کوئی خط وغیرہ نہیں آیا ۔ معلوم ہوتا ہے خفا ہو گئے ایسے ایسے کوڑ مغز آتے ہیں اور مجھ کو بدنام کرتے ہیں کہ اخلاق اچھے نہیں ان کے اخلاق بہت پاکیزہ ہیں ، لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں ۔

( ملفوظ 408 ) ایک بیوہ اور بیمار عورت کی شکایت

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک بی بی کا خط آیا تھا اس میں لکھا تھا کہ میرے دو ماموں ہیں جن کی دو دو اڑھائی اڑھائی ہزار روپیہ تنخواہ ہے ۔ میں بیوہ ہوں عرصہ دو سال سے بیمار ہوں ، کئی خط دونوں ماموں صاحب کے پاس روانہ کر چکی ہوں ، خرچ تو بڑی چیز ہے خط کا جواب بھی نہیں دیتے ، فرمایا کہ ایسے واقعات معلوم ہو کربہت ہی دل دکھتا ہے ۔ آدمی تو آدمی جانوروں کی تکلیف سے بھی دل کی یہی حالت ہو جاتی ہے ۔ میں کہتا ہوں کہ محبت نہ ہو تو کم از کم دل میں ترحم تو ہو کس قدر بے رحمی اور سنگ دلی کی بات ہے خط کے ذریعے سے بھی بیچاری کی تسلی تشفی نہیں کر دیتے ۔

( ملفوظ 409 )گناہ کم کرو موت آسان ہو گی

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک مضمون عجیب و غریب نظر سے گزرا کہ گناہ کم کرو یعنی نہ کرو موت آسان ہو جائے گی اور کسی سے قرض مت لو دنیا میں آزاد رہ کر زندگی بسر ہو گی ، ترک ذنوب میں یہ خاصہ ہے کہ موت کے وقت آسانی ہوتی ہے کیونکہ مرنے کے وقت بشارت نصیب ہو گی جس سے موت سہل ہو جائے گی ۔ ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ قرض لینا ضرورت شدید میں جائز ہے جیسے جہاد کے لیے یا کفن ڈالنے کے لیے یا کپڑے پھٹ گئے ہوں ، مستور ظاہر ہونے لگا اس کے چھپانے کے لیے و مثل ذلک ایسے شخص کے حق تعالی قرض ادا ہو جانے کے کفیل ہیں ۔
23 ذیقعدہ 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم جمعہ

( ملفوظ 406 )اسلام میں عظمت باری تعالی کی تعلیم

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اسلام میں حق تعالی کی عظمت کی تعلیم اس قدر کی گئی ہے کہ دوسرے مذاہب میں نہیں پائی جاتی ۔ یہ بات ہر شخص کی سمجھ میں ابتداء نہیں آتی کام کرنے سے سمجھ میں آتی ہے بہت سی باتیں ایسی ہیں کہ وہ کرنے سے سمجھ میں آتی ہیں ۔
22 ذیقعدہ 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم پنج شنبہ

( ملفوظ 407 )طلب کی شان

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل طلب ہی نہیں اگر طلب ہو تو سخت سے سخت شرائط اور باتیں بھی منظور کر لیں اور شبہات بھی سب عدم طلب ہی کی بناء پر پیدا ہوتے ہیں ۔ جب طلب ہوتی ہے تو طالب کی شان ہی کچھ اور ہو جاتی ہے اگر وہ زبان سے بھی اپنے حال کا اظہار نہ کرے تب بھی چھپا نہیں رہتا ۔

( ملفوظ 405 ) قلبی کیفیت کے اثرات

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ قلبی کیفیت کی حقیقت سے عشاق ہی کچھ آشنا ہوتے ہیں اور آخر وہ کیا چیز تھی جس سے حضور صلی اللہ علیہ و سلم پہاڑی پر چڑھ کر جان دینے کو تیار تھے ، آخر کوئی تو چیز تھی اور اس کیفیت میں شعور ہوتا ہے اختیار نہیں ہوتا ۔

( ملفوظ 404 ) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نزدیک دنیا کی حقیقت

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے قلب میں تو بسی ہوئی تھی آخرت اور دنیا ان کی نظر میں اس سے زیادہ وقعت نہ رکھتی تھی جیسے پیشاب پاخانہ کا معاملہ بضرورت کرنا پڑتا ہے اور آج کل اس کے عکس معاملہ ہے کہ آخرت کی طرف تو بقدر ضرورت بھی توجہ نہیں اور دنیا میں انہماک ہے ۔

( ملفوظ 402 )حضرت عمر فاروق کا سارے ملک کو درسگاہ بنا دینا

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک قانون مقرر کر کے کیا اچھا انتظام کیا تھا کہ سارے ملک کو درسگاہ بنا دیا تھا وہ یہ کہ انہوں نے حکم دیا تھا کہ بازار میں بجز ایسے شخص کے کسی کو بیٹھنے کی اجازت نہیں جو مسائل فقیہ جانتا ہو ۔ مطلب یہ تھا کہ جو خریدار ان سے معاملہ کریں گے ان کو بھی مسائل سے آگاہی ہو جائے گی ۔ اس طرح سے بلا مشقت تمام ملک مدرسہ ہو جائے گا سو وہ تو سارے ملک کو مدرسہ بنانا چاہتے تھے اور آج کل بقول مولانا رشید احمد مولویوں میں یہ کمی ہو گئی ہے کہ پڑھ کر یا تو دنیا میں مشغول ہو جاتے ہیں یا ذکر و شغل میں درس و تدریس چھوڑ بیٹھتے ہیں تو وہ اپنے مقام کو بھی مدرسہ نہیں بناتے ۔

( ملفوظ 403 )صحابہ کرام کا ہنسنا اور اور ہنسنے کی دو قسمیں

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ صحابہ رضی اللہ عنہ کے متعلق کسی نے ایک بزرگ سے پوچھا کہ کیا صحابہ رضی اللہ عنہم ہنستے بھی تھے ؟ انہوں نے کہا کہ اس قدر کہ ایک کے اوپر ایک گرتا تھا مگر ایک ہنسنا ہوتا ہے غفلت کا اور ایک ہنسنا ہوتا ہے خوش خلقی اور محبت کا جو کہ دوستوں کا حق ہے جیسے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے باوجود کمال عشق و محبت الہی کے جس کو ہر ایمان والا سمجھ سکتا ہے یہ حالت تھی کہ خالق اور مخلوق دونوں کا حق ادا فرماتے تھے ۔

( ملفوظ 400 )طاعون سے بھاگنا کیوں ناجائز ہے ؟

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک تحصیلدار صاحب میرے پاس آئے ، کہنے لگے کہ طاعون سے بھاگنا کیوں ناجائز ہے ؟ میں نے کہا کہ پہلے آپ میرے ایک سوال کا جواب دیں ، وہ یہ کہ سپاہی کا میدان جنگ سے بھاگنا کیوں جرم ہے ؟ حالانکہ وہاں پر جان کا خوف ، طاعون سے بھی زیادہ ہے تو میدان میں رہنا تو خلاف عقل نہیں اور طاعون میں رہنا خلاف عقل ہے وہ سمجھ گئے میں نے کہا کہ بادشاہ مجازی کو 30 روپیہ تنخواہ دے کر حق حاصل ہے کہ وہ جان کا مالک بن جائے اور حق تعالی کو پیدا کر کے بھی یہ حق نہ ہو اس جواب پر بہت مسرور ہوئے ، پوری تسلی ہو گئی اور بہت ہی خوش ہوئے ۔ ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ وہاں تو احتمال بہت ضعیف ہوتا ہے کہ جان بچا کر آ جاؤں گا بلکہ اگر یقینا معلوم ہو جائے کہ گولی سے مار دیا جائے گا تب بھی کوئی نہ سنے گا کہ مجھ کو یقین ہو گیا کہ مارا جاؤں گا ، بھاگ جانے کو جرم ہی قرار دیا جائے گا اور طاعون میں تو یہ یقین بھی نہیں ۔
صفات باری تعالی میں افعال مراد ہے ،