ملفوظ 289: شورش عشقی کا پیش آنا

شورش عشقی کا پیش آنا فرمایا ! کہ شورش عشقی کو محض اس شبہ سے فنا کرنا نہ چاہئے کہ شاید اس کے کوائف اور احوال کا تحمل نہ ہو سکے لیکن اگر عدم تحمل پیش آئے تو اس وقت شیخ سے اور اگر شیخ قریب نہ ہو تو خود اپنی تحقیق سے اس کی تعدیل کی تدبیر کی جائے ـ

ملفوظ 288: صحبت کا بدل

صحبت کا بدل ایک صاحب نے حضرت والا سے بذریعہ خط بیعت کی درخواست کی تھی ـ دو چار دفعہ کی مکاتبت کے بعد حضرت والا نے تحریر فرمایا کہ کیا کچھ دن آپ میرے پاس خاموشی سے رہ سکتے ہیں ـ اگر نہیں رہ سکتے تو فرمائیں میں اس کا بدل لکھوں ـ انہوں نے عذر لکھا اور بدل پوچھا حضرت والا نے جواب میں تحریر فرمایا کہ احقر کی کتابیں کثرت سے دیکھنا اور کوئی کام بدوں پوچھے نہ کرنا

ملفوظ 287: یہ بے پردگی کے حامی

یہ بے پردگی کے حامی ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک صاحب نے خوب کہا کہ جتنے لوگ بے پردگی کے حامی ہیں سب میں دو چیزیں مشترک ہیں بے حیائی اور عیاشی ـ واقعی ایسے ہی لوگ بے پردگی کے حامی بنے ہوئے ہیں ـ جن کو دین سے بے تعلقی ہے لیکن اگر ان میں دین نہیں تب بھی آخر غیرت

ملفوظ 286: ظہور اور حلول میں فرق

ظہور اور حلول میں فرق ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت ظہور و حلول میں کیا فرق ہے فرمایا جیسے صورت کا عکس کہ آئینہ میں اس کا ظہور ہے نہ کہ حلول باطل انسانی ( انسان کا سایہ)کہ انسان کا ایک ظہور ہے انسان اس میں حلول کئے ہوئے نہیں ـ صوفیہ کی ایسی مثالوں سے نادانوں کو شبہ حلول کا ہو جاتا ہے ـ اسی لئے مولانا اس سے تبریہ فرماتے ہیں کہ وہ اس مثال سے بھی بالاتر ہے ـ اے بروں از دہم وقال وقیل من ٭ خاک برفرق من و تمثیل من بندہ نشکیبد زتصویر خوشت ٭ ہر دمت گوید کہ جانم مضرشت ( حضرت مولانا نارومیؒ اوپر سے بعض تمثیلات سے حق تعالی کی بعض شانوں کو بیان فرما رہے ہیں مگر چونکہ مثالوں سے پوری حقیقت کا انکشاف نہیں ہو سکتا اس لئے فرماتے ہیں ) کہ اے (مراد حق تعالی ) وہ ذات جو میرے وہم گمان اور قیل وقال سے بالا تر ہے ( صرف مثالوں سے تیری معرفت کرانا ممکن نہیں لہذا) مجھ پر اور میری تمثیلات خاک میں ملا دینے کے قابل ہیں ـ ( مگر چونکہ ) بندہ کو آپ کی تصویر خوش کو دیکھے بغیر صبر نہیں آتا ) اور ہر دم اپنی جان آپ پر قربان کرنا چاہتا ہے ( تو تقریب فہم کیلئے کچھ مثالیں عرض کی ہیں )

ملفوظ 285: ایک عجیب شعر انیست

ایک عجیب شعر انیست کہ خوں خوردہ د دل بردہ بسے را ٭ بسم اللہ اگر تاب نظر ہست کسے را( یہی ہے جس نے کسی کا ( یعنی میرا ) خون پی لیا ہے اور دل اڑا لیا ہے اگر کسی کو تاب نظارہ ہے تو ذرا اس کی طرف دیکھ کر دیکھو ـ ( اس کا گویا ترجمہ مومن خاں مرحوم نے بھی خوب کیا ہے کہتے ہیں اے ںاصحو! آ ہی گیا وہ فتنہ ایام ـ لو ہم کو تو کہتے تھے بھلا اب تم ہی دل کو تھام لو ) ـ میں اس شعر کو فذلک الذی لمتننی فیہ کی تفسیر میں پڑھا کرتا ہوں ـ

ملفوظ 284: سجدہ تعظیمی کی حرمت

سجدہ تعظیمی کی حرمت ، غلبہ حال کے وقت کا عمل ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ بعض صوفیہ سجدہ تعظیمی کے جواز کے قائل ہیں جمہور فقہاء حرام کہتے ہیں ـ اصل اس کی یہ ہے کہ بعض صوفیہ مجتہد ہیں اگر ( کسی کو ان کا ) اجتہاد تسلیم نہ ہو تو کم از کم ان کا یہ خیال ضرور ہے کہ ہم مجتہد ہیں جیسے سلطان جی ـ عرض کیا کہ اگر صوفیہ کو کوئی مجتہد سمجھے تو کیا وہ خدا کے یہاں معذور ہو گا ـ فرمایا ہاں اگر ان کے پاس سامان اجتہاد موجود ہو ـ جیسے سلطان جی کہ وہ عالم بھی ہیں اور اصل تو یہ ہے کہ ہم حسن ظن کی وجہ سے کہتے ہیں کہ مجتہد تھے ـ اسی سلسلہ میں کسی نے عرض کیا کہ کیا سالک پر بھی غلبہ حال ہوتا ہے یہ تو جذب کی حالت ہے فرمایا کہ سالک پر جو غلبہ حال ہوتا ہے وہ خاص حالت میں ہوتا ہے اور احیانا ہوتا ہے عرض کیا گیا کہ اگر رونا آئے تو روئے یا ضبط کر لے فرمایا اکثر حضرات ضبط کو کہتے ہیں لیکن چشتی کہتے ہیں کہ خوب روؤ ہرگز نہ رکو ـ یہ واردات اضیاف ( مہمان ) غیبی ہیں ـ کس کی قسمت کہ رونا آئے ـ نقشبندی کہتے ہیں کہ ضبط کرنا چاہیے کہ انکا اصل مشرب اخفاء ہے ـ حضرت حاجی فرماتے ہیں ؎ نقشبندیہ عجب قافلہ سالا را نند ٭ کہ برند از رہ پنہاں بحرم قافلہ را ( نقشبندیہ حضرات بھی عجب قافلہ سالار ہیں کہ پوشیدہ راستہ سے قافلہ کو حرم تک پہنچا دیتے ہیں ) حضرت والا نے بطور لطیفہ کے فرمایا کہ ایک نقشبندی نے چشتی سے کہا کہ ہم نے سنا ہے کہ تم ذکر جہر کرتے ہو ـ چشتی نے کہا کہ ہم نے سنا ہے کہ تم ذکر خفی کرتے ہو یعنی خفی بھی پوشیدہ نہ رہا چنانچہ ہم نے سن لیا اس اعتبار سے ذکر خفی اور ذکر جہر دونوں برابر ہو گئے ـ

ملفوظ 283: رجب شریف کی رسمیں

رجب شریف کی رسمیں فرمایا ! بعض جگہ اس کی رسم ہے کہ جبہ شریف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمرہ لوگ ننگے سر اور پابر ہنہ پھرتے ہیں اس سے عوام کے عقائد بگڑ جانے اور غلو کا اندیشہ ہے ورنہ اپنی ذات میں ایسی بزرگ محترم چیز ہے کہ سر کے بل چلنا بھی کم ہے مگر ایسی باتیں انتظام شریعت کے خلاف ہیں لہذا اجتناب ضروری ہے ـ

ملفوظ 282: حضرتؒ کی تسبیح

حضرتؒ کی تسبیح ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت کے پاس جو اس وقت تسبیح ہے یہ حضرت حاجی صاحبؒ کی عطا فرمائی ہوئی ہے فرمایا کہ یہ وہ تسبیح نہیں یہ تسبیح امیر عبدالرحمن خان والی کابل نے اپنے کمانڈر ان چیف کو دی تھی ـ انہوں نے محمد خان صاحب خور جوی کو دی ـ محمد خان صاحب میرے پیر بھائی تھے انہوں نے مجھ کو دی یہ سنگ مقصود کی تسبیح ہے ـ

ملفوظ 281: بلکہ مسلمان ، مسلمان نہ رہے

بلکہ مسلمان ، مسلمان نہ رہے ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ لوگ کہتے ہیں کہ اب ہندو ہندو نہ رہے پہلے ہندو بہت ڈرتے تھے مگر میں کہتا ہوں کہ یہ وجہ نہیں وجہ یہ ہے کہ مسلمان مسلمان نہ رہے اگر مسلمان مسلمان ہو جائیں تو سب ہی پانی بھرتے نظر آئیں ـ

ملفوظ 280: مناسب عنوان اختیار کرنا ضروری ہے

ملفوظ 280: مناسب عنوان اختیار کرنا ضروری ہے ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ ایک اہل دل فرماتے ہیں دروں سینہ زخم بے نشاں زدہ ٭ بخیرتم کہ عجب تیر بے گمان زدہ ( میرے دل میں تو نے ایک ایسا زخم لگایا ہے کہ جس کا کوئی نشان نظر نہیں آتا لہذا حیران ہوں کہ کیسا تیر مارا ہے جس کا وہم وگمان بھی نہ تھا ) ـ بعض صغائر مثل بدبو سہ وغیرہ کے اپنے آثار کے لحاظ سے کبائر سے بھی زیادہ مضر ہو جاتے ہیں اور معاصی میں گو تفاوت ہے مگر اہل علم کو چاہئے کہ عوام کیلئے عنوان اختیار نہ کیا کریں کہ شراب میں گناہ کم ہے قتل سے بلکہ عنوان ہونا چاہئے کہ قتل میں شراب نوشی سے بھی زیادہ گناہ ہے ـ یہ نہ کہنا چاہئے کہ پیشاب نا پاکی میں کم ہے پاخانہ سے بلکہ یہ کہے کہ پیشاب شدید ہے گندگی میں اور پاخانہ اشد ہے ـ عنوانات کو بڑا دخل ہوتا ہے ـ مصلح اور مبلغ کو بڑے فہم کی ضرورت ہے ـ