ملفوظ 299:تفسیر دیکھ کر جواب دینا

تفسیر دیکھ کر جواب دینا ایک مولوی صاحب نے تفسیر کے متعلق کچھ سوال کیا فرمایا کہ میں اپنی تفسیر بیان القرآن منگاتا ہوں پہلے اس کو دیکھ لیجئے اگر وہ کافی ہو تو خیر ورنہ پھر کچھ سوچوں گا ـاسی سلسلہ میں فرمایا کہ میں نے گو تفسیر لکھی ہے لیکن لکھا ہوا یا نہیں جب ضرورت ہوتی ہے تو پھر وہی سوچنا اور دیکھنا پڑتا ہے یہ بھی قرآن شریف کا اعجاز ہے کہ اس طرح بھی مخلوق کو عاجز کر دیا ہے ـ

ملفوظ 298: اولیاء اللہ کو تکلیف پہنچانے پر انتقام

اولیاء اللہ کو تکلیف پہنچانے پر انتقام نہیں آتا کہ یہ ہماری وجہ سے ایسا ہو رہا ہے یہ لوگ تو فنا میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں ـ 17 رمضان المبارک 1350ھ بعد نماز ظہر یوم سہ شنبہ

ملفوظ 297: اپنے کو بڑا سمجھنے پر قہر الہی نازل ہونا

ملفوظ 298: اپنے کو بڑا سمجھنے پر قہر الہی نازل ہونا فرمایا ! اپنے کو بڑا سمجھنے سے قہر الہی نازل ہوتا ہے ؎ ہر کہ گردن بدعوی افرازد ٭ خویشتن را بگر دن اندازد ( جو شخص تکبر کرتا ہے وہ حقیقت میں اپنے کو ذلیل کر رہا ہے ـ 12) فرمایا ! کہ اولیاء اللہ کو جو شخص تکلیف پہنچاتا ہے اس سے انتقام لیا جاتا ہے اور یہ اولیاء اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں لیکن قسم لے لیجئے ان کو وسوسہ بھی

ملفوظ 296: ملازمین کی راحت کی فکر

ملازمین کی راحت کی فکر فرمایا ! کہ جس طرح میں اپنی راحت و آرام کی فکر کرتا ہوں ایسے ہی دوسروں کی بھی پہلے بعض احباب بذریعہ ریلوے پارسل بعض اشیاء پھل وغیرہ کی قسم سے بکثرت میرے نام بھیج دیتے تھے میں نے اشتہار کے ذریعہ اطلاع کر دی کہ کوئی صاحب میرے پاس کوئی شے میوہ وغیرہ ریلوے پاوسل سے نہ بھیجیں ـ کیونکہ ملازمین وغیرہ کو اسٹیشن بھیجنے سے مجھ کو تکلیف ہوتی ہے ـ اس پر بعض احباب نے لکھا کہ ہمارا جی چاہتا ہے اب کیسے بھیجیں ـ میں نے لکھا کہ یہاں کے رہنے والوں میں سے خود کسی کو راضی کر لو ـ اس کے نام بھیجو اور اسٹیشن سے وصول کر کے مجھے یہاں پر بیٹھے ہوئے دیدے اگر یہ انتظام کر سکو اجازت ہے ـ حاصل یہ ہے کہ میں کسی کی ایذاء کا سبب نہ بنوں اس پر مجھ کو سخت مشہور کیا جاتا ہے ـ

ملفوظ 295: تحریک خلافت میں حضرتؒ پر بہتان

ملفوظ 296: تحریک خلافت میں حضرتؒ پر بہتان ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ بعض احمقوں نے زمانہ تحریک خلافت میں مجھ پر یہ بہتان باندھا کہ اس کو گورنمنٹ سے تین سو روپیہ تنخواہ ملتی ہے ایک شخص نے بڑا معقول جواب دیا کہ اس سے یہ تو معلوم ہو گیا کہ گورنمنٹ سے خوف زدہ تو نہیں ورنہ گورنمنٹ دباؤ سے کام لیتی اور تنخواہ نہ دیتی لیکن اس سے طمع معلوم ہوتی ہے ـ اب طمع کی جب یہ حالت ہے تو تم تین سو سے زائد کرو جب تو تمہارے ساتھ ہو جائیں گے ورنہ حقانیت معلوم ہو جائیگی ـ ایک صاحب سے ایک اور شخص نے میرے متعلق یہی کہا کہ تنخواہ پاتے ہیں انہوں نے دریافت کیا کہ کیا تم کو اس پر یقین ہے کہ یہ صحیح ہے ایمان سے کہنا کہا کہ بلکہ یہ یقین ہے کہ یہ بالکل جھوٹ بات ہے انہوں نے کہا کہ پھر کیوں ایسا کہتے ہو کہنے لگے کہ اپنی آواز کو زور دار بنانے کیلئے یہ دین ہے ان لوگوں کا اللہ تعالی اپنا رحم فرمائیں ـ

ملفوظ 294: مہر کی کمی کا مطلب

مہر کی کمی کا مطلب ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا ! کہ احادیث میں جو مغالاۃ مہر (نکاح کے وقت مہر بڑھا کر باندھنا)کی ممانعت ہے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ سب قوم کے خلاف ایک شخص قلیل مہر مقرر کرے ورنہ فقہاء اس راز کو سمجھتے ـ دیکھئے فقہاء نے مسئلہ لکھا ہے کہ اگر غیر اب وجد کسی لڑکی کا نکاح مہر مثل سے کم پر کر دے تو نکاح ہی منعقد نہ ہو گا ـ اس سے معلوم ہوا کہ اگر ساری قوم مغالاۃ کراتی ہو تو اپنی اولاد کیلئے مہر مثل کی مراعات واجب ہے ممانعت مغالاۃ مہر کا مطلب یہ ہے کہ سب قوم کو چاہیے کہ مہر میں مغالاۃ کو رفع کرے ـ

ملفوظ 293: مدرسہ کی سند سے متعلق

ملفوظ 293: مدرسہ کی سند سے متعلق حضرت مولانا محمد یعقوبؒ سے درخواست ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ مجھ کو مدرسہ سے سند نہیں ملی مدرسہ نے دی نہیں ہم نے مانگی نہیں کیونکہ یہ اعتقاد تھا کہ ہم کو کچھ اتا نہیں پھر سند کیا مانگتے بلکہ میں مع چند ہم سبقوں کے زمانہ جلسہ میں حضرت مولانا محمد یعقوب صاحبؒ کے پاس گیا اور عرض کیا کہ یہ معلوم ہوا ہے کہ مدرسہ سے ہم لوگوں کو سند ملنے والی ہے مگر چونکہ ہم کو کچھ آتا جاتا نہیں اس لئے اس کو موقوف کر دیجئے ـ جوش میں آ کر فرمایا کون کہتا ہے کہ تم کو آتا نہیں یہ خیال اپنے اساتذہ کو دیکھ کر آتا ہے لیکن باہر جہاں جاؤ گے تم ہی تم ہو گے اللہ اکبر ! کیسے توکل کیساتھ فرما دیا تھا ـ 17 رمضان المبارک 1350ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم سہ شنبہ

ملفوظ 292: خواب اور تعبیر

خواب اور تعبیر فرمایا ! کہ مجھ کو تعبیر خواب سے بالکل مناسبت نہیں نیز اس لئے دل چسپی بھی نہیں کہ خواب واقعات کا اثر ہے نہ یہ کہ واقعات خواب کا اثر ہوں ـ خواب حقیقت میں ایک قسم کی حکایت ہے جو محکی عنہ کو چاہتی ہے خواب کی مثال مجاذیب کی پیشین گویاں ہیں کہ واقعات کی خبر ہوتی ہے واقعات ان کا اثر نہیں ہوتے ـ البتہ حضرت مولانا محمد یعقوب صاحبؒ کو بہت مناسبت تھی لیکن اگر اول وہلہ میں ذہن منتقل نہ ہوا تو تکلف نہ فرماتے تھے اور یہی معمول درسیات میں بھی تھا ـ خود فرمایا کرتے تھے کہ کتاب کا مقام اگر اول وہلہ میں سمجھ میں آ جائے تو آ جائے ورنہ میں مایوس ہو جاتا ہوں اور ایسے موقع پر بہت مرتبہ اثناء درس فرما دیتے تھے کہ بھائی اس مقام میں شرح صدر نہیں ہوا ـ بعض مرتبہ تو ماتحت مدرسین سے ان کے حلقہ درس میں تشریف لے جا کر دریافت فرما لیا کرتے تھے کہ یہ مقام سمجھ میں نہیں آٰیا ـ اس کی قتریر کر دیجئے جو مطلب وہ مدرس بتاتے اس کو آ کر نقل فرما دیتے تھے کہ فلاں صاحب نے اس کا یہ مطلب بیان فرمایا ہے ـ اللہ اکبر کیا ٹھکانہ ہے اس بے نفسی کا ـ آج تو کوئی کر کے دکھلائے بڑے بڑے دعویدار موجود ہیں ـ اسی طرح حضرت مولانا کو باوجود یکہ فن تعبیر سے بہت مناسبت تھی لیکن اس پر بھی بعض مرتبہ صاف عذر فرما دیتے تھے کہ سمجھ میں نہیں آیا ـ گزشتہ علماء میں تعبیر سے حضرت شاہ عبدالعزیز صاحبؒ کو بہت زیادہ مناسبت تھی اور حضرت ابن سیرین تابعی ہیں وہ اس میں بہت زیادہ کمال رکھتے تھے ـ بعض کو فن تعبیر فطری مناسبت ہوتی ہے اس میں بزرگی شرط نہیں حتی کہ اسلام بھی شرط نہیں ـ چنانچہ علماء نے ابو جہل کو بھی معبرین کی فہرست میں شمار کیا ہے ـ فرمایا کہ ایک شخص نے حضرت شاہ عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ سے اپنا خواب بیان کیا کہ میں نے دیکھا ہے کہ میں جبریل عم کی زبان پر نماز پڑھ رہا ہوں فورا فرمایا کہ تمہاری جا نماز کے نیچے معلوم ہوتا ہے قرآن شریف کی کوئی آیت پڑی ہوئی ہے ـ قرآن شریف لسان جبریل ہے ـ حضرت مولانا محمد یعقوب صاحبؒ سے ایک شخص نے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میری گود میں ایک بہت وزنی لڑکی ہے اور میں ثقل کی وجہ سے اس کو کہیں رکھنا چاہتا ہوں ایک کتیا نظر آئی اس کا پیٹ چاک کرکے اس لڑکی کو اس میں رکھ دیا ـ وہ کتیا میرے ساتھ ہو لی چونکہ میری لڑکی اس کے پاس ہے میں بار بار اس کو مڑ مڑ کر دیکھتا ہوں ـ اور یہ اندیشہ ہے کہ یہ کہیں چل نہ دے تھوڑی ہی دور چلا تھا وہ کتیا غائب ہو گئی ـ مولانا نے فرمایا کہ میری سمجھ میں تعبیر نہیں آتی ـ پھر دوسرے وقت آنا اگر سمجھ آ گئی بیان کر دوں گا ـ وہ شخص دوسرے وقت آیا کہ نماز میں قلب پر تعبیر وارد ہوئی کہ تم کو شہوت کا تقاضہ ہوا ہے تم نے کسی بازاری عورت سے منہ کالا کیا اس کو لڑکی کا حمل ٹھہرا لڑکی پیدا ہونے سے تم کو اس سے تعلق زائد ہوا پھر اس نے بے وفائی کی ـ سبحان اللہ ! ان حضرات کے کیسے علوم تھے اب سن کر تو تعبیر کی مناسبت سمجھ میں آتی ہے لیکن ابتداء تو شاید ہی ہے کہ ذہن کی رسائی وہاں تک ہوتی ـ

ملفوظ 291: علم غیب سے متعلق ایک سوال کا جواب

علم غیب سے متعلق ایک سوال کا جواب فرمایا ! کہ ایک صاحب کا خط آیا ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو مغیبات کثیرہ کا علم حاصل ہے اس کے اعتبار سے عالم الغیب کہنا صحیح ہے یا نہیں اور کچھ تقویتہ الایمان کی عبارتیں نقل کیں تھیں حضرت والا نے جواب میں تحریر فرمایا السلام علیلم ! جواب ہر سوال کا ہے اور سلیس اور نفیس ہے لیکن میرا معمول اس باب میں یہ ہے کہ سائل کی نسبت جب تک دو امر کا اطمینان نہ ہو جائے سکوت کرتا ہوں وہ دو امر یہ ہیں ایک سائل کی استعداد علمی تاکہ جواب کے رائیگاں جانے کا احتمال نہ رہے دوسرا امر سائل کی نیت کہ بجز تحقیق کے اس کا کوئی مقصود نہیں چونکہ آپ کے متعلق دونوں امر کے معلوم ہو نے کا میرے پاس کوئی ذریعہ نہیں لہذا جواب سے معافی کا طالب ہوں ـ

ملفوظ 290: شریعت و طریعت کے جامع کے لئے مشکل ہے

شریعت و طریعت کے جامع کے لئے مشکل ہے فرمایا ! کہ ظاہری علماء کو کوئی مشکل نہیں کہ ظاہر دلائل پر فتوی دیدیں اور کہہ دیں کے ہمیں حال کی خبر نہیں ـ مشکل جامع بین الحقیقتہ والطریقتہ کو ہے جس کی یہ حالت ہے کہ ہر پہلو کی رعایت کرنا اس پر ضروری ہے حتی کہ بعض لوگوں نے ایسے اشکالات سے تنگ آ کر یہاں تک کہہ دیا ہے گرچہ ایسا کہنا سخت سوء ادب ہے ؎ القاہ فی الیم مکتو فا وقال لہ ٭ ایاک ایاک ان تبتل بالماء ( ہاتھ پیر باندھ کر دریا میں ڈال کر کہا جاتا ہے کہ خبر دار ! پانی کی نمی بھی نہ لگنے پائے درمیان قعر وریا بندم کردئی ٭ بازی گوئی کہ دامن ترمکن ہوشیار باش اور یہ تنگی عدم تحقیق کے سبب ہے ورنہ سب حقائق اپنے حدود پر ہیں ـ 16 رمضان المبارک 1350ھ بعد نماز ظہر یوم دو شنبہ