ملفوظ 4: اپنی فکر کرنی چاہئے

ایک صاحب نے کوئی مسئلہ پیش کر کے عرض کیا کہ فلاں صاحب نے یہ دریافت کیا
ہے ان کی حالت کے مناسب فرمایا کہ خود آپ کو جو ضرورت ہو اس کو معلوم کیجئے دوسروں کے معاملات میں نہیں پڑنا چاہئے بڑی ضرورت اس کی ہے کہ ہر شخص اپنی فکر میں لگے اور اپنے اعمال
کی احلاح کرے آج کل یہ مرض عام ہو گیا ہے عوام میں بھی اور خواص میں بھی کہ دوسروں کی تو
اصلاح کی فکر ہے اپنی خبر نہیں ـ میرے ماموں صاحب فرمایا کرتے تھے کہ بیٹا دوسروں کی جوتیوں
حفاظت کی بدولت کہیں اپنی گٹھڑی نہ اٹھوا دینا ـ واقعی بڑے کام کی بات فرمائی ـ

ملفوظ3: اپنی جماعت کے ساتھ لگے رہنے میں فائدہ ہے

صبح کی دس بجے والی گاڑی سے چند حضرات تشریف لاۓ منجملہ اور حضرات کے حافظ عبدالطیف صاحب ناظم مظاہر علوم بھی تھے – حافظ صاحب سے بابو ولی محمد صاحب کا ذکر آیا
حضرت والا نے دریافت فرمایا کہ بابو صاحب کہاں پر ہیں عرض کیا کہ رنگوں گئے ہوۓ ہیں فرمایا
کہ اس سے بڑا جی خوش ہوا کہ ان کا تعلق مدرسہ ہی سے رہا ـ میں بھی کام کے آدمی اس عمر میں علم
دین کا حاصل کرنا ہمت کی بات ہے ـ میں چاہتا ہوں کہ اب ان کو بابو نہ کہوں مگر اور
پتہ صحیح سمجھ میں نہ آنے کے خیال سے کہنا ہی پڑتا ہےـ بطور مزاح فرمایا کہ علم دین حاصل کر کے بھی
بابو ہی رہے ـ مدرسہ سے ان کا تعلق رہنا یہ بھی خدا کی بڑی رحمت ہے اس لۓ کہ جماعت سے
جدا ہو کر وہ حالت ہی نہیں رہتی ـ یہ سب ملے جلے رہنے کی برکت ہوتی ہے کہ اپنے کام میں
لگا رہتا ہے اور اسی میں عافیت ہے بڑوں کیلۓ بھی اور چھوٹوں کو ضرورت
ہے کہ بڑوں کی صحبت ہو ـ اسی طرح بڑوں کو ضرورت ہے کہ چھوٹوں کی صحبت ہو ـ اس( کہ اپنی
جماعت سے جدا ہو کر وہ حالت نہیں رہتی ) یاد آیا کہ ہمارے حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب ؒ
فرمایا کرتے تھے کہ بھائی ہماری مثال روڑ کی گودام کے کاریگروں جیسی ہے جب تک
گودام کے اندر ہیں سب کچھ ہیں اور جہاں گودام سے باہر ہوئے نہ مستری مستری ہیں اور نہ
کاریگر ہیں اسلئے کہ وہاں کام تو مشینیں کرتی ہیں اور وہ محض چلانے والے ہیں اس لئے جب اس
احاطہ سے باہر ہوئے کچھ بھی نہ رہے سب کاریگری ختم ! اسی طرح جب تک ہم اپنی جگہ پر ہیں
سب کچھ ہیں کام بھی سب ہو رہے ہیں درس وتدریس بھی ہے تہجد بھی ہے ذکر و شغل بھی ہے ـ
غرضیکہ سب ہی کچھ ہے باہر نکل کر کچھ بھی نہیں رہتا یہ منتہا ہے ہمارے کمالات کا ـ واقعی حضرت
مولانا بہت ہی وسیع النظر تھے بڑے محقق تھے کیسی کام کی بات فرمائی ـ میں تو اس کو بہت ہی
بڑا فضل خدا وندی سمجھتا ہوں کہ جس کو اپنوں کی معیت نصیب ہو جائے ورنہ یہ زمانہ بہت ہی پر فتن
ہے دوسری جگہ جا کر وہ حالت رہتی ہی نہیں اکثر تجربہ ہو رہا ہے ـ

ملفوظ 2: مجلس خاص کے انتظام کی رعایت :

احقر جامع سے حضرت والا نے فرمایا ان حضرات کے نام جو مجلس خاص میں شریک
کۓ جائیں گے درج فہرست کر لۓ جائیں پھر ان حضرات کے نام فرماۓ جو حضرات اس وقت
خانقاہ میں موجود تھے ان کے نام لکھوا دینے کے بعد فرما یا کہ بعض حضرات فلاں فلاں آنے والے
ہیں ان کے آ جانے پر ان کے نام بھی درج فہرست کر لۓ جائیں اور روزانہ نو ساڑھےنو بجے صبح کو
جب میں کہوں ان حضرات کو اطلاع کر دی جایا کرے اس میں یہ سہولت ہو گی کہ سب کے روزانہ
نام الگ الگ لے کر نہ کہنا پڑیگا ورنہ یہ خود ایک مستقل کام ہو جائیگا

ملفوظ 1: صبح کی مجلس خاص کا اجراء

بسم اللہ الرحمن الرحیم
فرمایا ! کہ صبح کو مجلس عام کی وجہ سے بے حد تعب ہوتا ہے جس کی برداشت نہیں ـ (اس
کے قبل صبح کو بھی مجلس عام ہوتی تھی ) اس لئے آج یہ سوچا ہے کہ بجائے مجلس عام کے صبح کو مجلس
خاص کردی جائے اور صورت اس کی یہ ذہن میں آئی ہے کہ جو لوگ خاص خاص ہیں جن میں اکثر
اہل علم ہیں وہ اگر آکر بیٹھا کریں تو اس سے مجھ پر کوئی تعب نہ ہوگا اس کی دو وجہ ہیں ایک تو یہ کہ مجمع
کم ہوگا ـ جب جی چاہے گا مجلس کو ختم کر دیا جائیگا ـ مجمع زائد نہ ہونے کی وجہ سے ختم کر دینے میں
کوئی گرانی بھی نہ ہو گی ـ دوسرے یہ کہ جب مجلس عام نہ ہوگی تو جس روز طبیعت صاف نہ ہوگی یا
جی نہ چاہے گا بالکل ہی موقوف رکھی جائے گی اور اس کی اطلاع اس روز کردی جایا کرے گی اور کبھی
کبھی عام بھی کردی جایا کرے گی جب کہ طبیعت اچھی ہو آج کل طبیعت بھی خاص نہیں کھانسی کی
وجہ سے تکلیف ہے اب ضرورت اس کی ہے کہ اس کا کوئی معیار ایا اصطلاح ہونی چاہیے جس سے
یہ معلوم ہوکہ اس وقت مجلس عام ہے یا مجلس خاص ـ اس کی صورت یہ سمجھ میں آئی ہے ( اور احقر صغیر
احمد کی طرف حضرت والا نے مخاطب ہو کر فرمایا ) کہ ان حضرات کے نام کی ایک فہرست بنالی
جائے جو مجلس خاص میں شرکت کیا کریں گے ان کے نام میں بتا دوں گا جب میں کہوں ان کو
اطلاع کردی جائے اور مجلس عام کی اطلاع حافظ اعجاز کے ذریعہ سے ہوا کرے گی جس کی صورتیہ ہو گی کہ وہ لوگ حافظ اعجاز سے معلوم کرلیا کریں کہ تم کو اطلاع دی گئی ہے یا نہیں ـ اگر وہ کہیں کہ
دی گئی ہے تب تو آ جائیں اگر وہ کہیں نہیں دی گئی نہ آئیں یہ انتظام اس وجہ سے ہے کہ کبھی بعض
حضرات قیاس مع الفاروق پر عمل فرمائیں ـ دوسروں کو بیٹھے دیکھ کر آکر بیٹھنا شروع کر دیں ـ
میں سچ عرض کرتا ہوں مجھ کو اس کا بھی خیال ہے کہ لوگ محبت کی وجہ سے آتے ہیں
سب کے ساتھ برتاؤ میں مساوات رہے مگر جو بات قوت سے باہر ہے اس کا کس طرح تحمل کروں ـ
اگر کوئی اس عدم مساوات پر برا مانے مانا کرے مجھ کو اس کی برواہ نہیں ـ مولوی محمد حسن صاحب
امر تسری عرض نے کیا کہ ہم لوگوں کو تو بہت وقت مجالست کیلئے دیا جاتا ہے جو حضرت والا کی شفقت
اور محبت پر مبنی ہے اگر یہ حکم دیا جائے کہ سال بھر تک دروازہ پر کھڑے رہو ایک سال کے بعد
ملاقات کی اجازت ہوگی اس پر بھی ہم لوگوں کی خوش قسمتی ہے اور حضرت والا کا احسان ہے ـ
فرمایا یہ آپ کی محبت کی بات ہے میں تو خود ہی اس قسم کی رعایت اور اس کے دقائق
پیش نظر رکھتا ہوں ہاں اس کو ضرور جی چاہتا ہے کہ خدمت بھی ہوتی رہے اور کچھ وقت آرام کا بھی
ملے اور مجلس عام کی صورت میں آرام نہیں مل سکتا ـ وجہ یہ ہے کہ اگر کسی وقت اٹھ جانے کو جی چاہے
مجمع کی رعایت سے نہیں اٹھ سکتا ـ
نیز بعض مرتبہ مجمع کثیر ہونے کی وجہ سے تقریر میں آواز بلند ہو جاتی ہے اور یہ امر طبعی ہے
جی چاہتا ہے کہ سب سنیں جس کا اثر دیر تک دماغ پر رہتا ہے یہ بھی ایک تکلیف ہے باقی محکوم بن
کر رہنے کو تو جی گوارا نہیں کرتا ـ ظہر کے بعد کا وقت عصر تک بھی مجلس کے لئے کچھ کم نہیں کافی وقت
ہے ـ فرمایا کہ مولوی صاحب ! یہاں پر شروع میں جس وقت آئے تھے اس وقت سے یہ صبح کی مجلس
کی رسم قائم ہو گئی ان کی رعایت دو وجہ سے تھی ایک تو یہ کہ ان کا تعلق مولوی صاحب سے ہے یہ خیال
ہوا کہ مولوی صاحب کہیں یہ خیال نہ کریں کہ ہمارے آدمی کے ساتھ بے التفاتی کا برتاؤ کیا دوسرے
ان کو خود بھی مجھ سے محبت اور تعلق ہے اور مجھے تو بحمداللہ سب ہی کا خیال ہے مگر اب ضعف کے سبب
تحمل نہیں ـ اس کا میرے پاس کیا علاج ہے فرمایا پیشتر رمضان المبارک میں یہ معمول تھا کہ حالاتکا پرچہ بکس میں جو کہ مدرسہ میں لگا ہے ڈالنے کی عام اجازت تھی ـ مگر اب تجربہ سے معلوم ہوا کہ جن
کو قلت مناسبت ہوتی ہے ان کے پرچوں سے بھی اذیت پہنچتی ہے – اس لۓ اس مرتبہ یہ سمجھ
میں آیا کہ جس پر کچھ روز سے عملدرآمد بھی ہے کہ ایسے لوگ پرچہ بھی نہ ڈالا کریں-مخاطبت مکاتبت
دونوں بند رہیں بلکہ چند روز خاموش مجلس میں بیٹھے رہیں اور جس وقت مناسبت پیدا ہو جاۓ اس
وقت اس قسم کا سلسلہ زبانی یا تحریری اختیار کریں تو مضائقہ نہیں مگر پیشتر مناسبت پیدا کر لیں جس پر نفع
کا انحصار ہے اس صورت میں کام بھی ہوجاۓ گا اورکلفت بھی طرفین میں سے کسی کو نہ ہو گی- ایک
حکمت یہ بھی ہے کہ کام بھی کم ہو جائیگا اب زیادہ کام کی برداشت بھی نہیں ضرورت کے لحاظ سے
اور بہت سے تجربوں کے بعد یہاں پر قواعد مرتب ہوتے ہیں ان قواعد سے طرفین کی راحت رسانی
مقصود ہوتی ہے خدانخواستہ حکومت تھوڑا ہی مقصود ہے اور جیسا مجھے دوسروں کی اصلاح کا اہتمام ہے
اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ہے اپنی اصلاح کا بھی خاص اہتمام ہے اور صاحب کون بے فکر ہو سکتا ہے
کس کو خبر ہے کہ آخرت میں میرے ساتھ کیا معاملہ ہوگا –

پیش لفظ

مژ دہ اے دل کہ مسیحا نفسے می آید ٭ کہ از انفاس خوشش بوئے کسے می آید
للہ الحمد ہر آں چیز کد خاطر میخو است ٭ آمد آخر ز پس پردہ تقدیر پدید
تمھید
مژ دہ جانفزائے فیض جدید ٭ یعنی در شہر صوم عود العید
الا یا ایھا الطلاب طوبی ٭ فعود العید مستطاب
جز وے از حسن العزیز
حمدو صلٰوۃ کے بعد عرض ہے کہ حضرت حکیم الامت مجدد الملت قطب الارشاد سلطان
المشائخ اشرف العماء مولانا شاہ محمد اشرف علی صاحب متعنا اللہ بطول حیاتہ وافاض علینا من شآ بیب
برکاتہ کے یومیہ افاضات وکلمہ طیبات یعنی ملفوظات پیشتر باوجود کسی مستقل انتظام نہ ہونے کے وقتا
فوقتا کوئی نہ کوئی ضبط کرتا رہتا تھا اور وہ بہ عنوان ،، حسن العزیز ،، شائع ہوتے رہتے تھے لیکن ایک
عرصہ سے یہ سلسلہ اتفاقا بوجہ نہ ہونے کسی ضابطہ کے بند تھا جس کے سخت قلق تھا ـ بالخصوص جب کہ
حضرت اقد س نے کچھ عرصہ سے بوجہ بعض عذرات و عظ فرمانا بھی تقریبا موقوف ہی فرما دیا ہے
الانا درا اور اس کے بجائے صرج ملفوظات ہی پر اکتفا فرماتے ہیں جو حسب ارشاد ممدوح بوجہ انطباق علی الحالات الجزئیہ انفع واوقع (بوجہ شخصی اور جزی حالات کے مطابق ہونے کے زیادہ نافع
اور قابل فہم ہوتے ہیں 12)النفس ہوتے ہیں ـ ادھر تصنیفات کا سلسلہ بھی بوجہ کثرت خطوط
ونظر اصلاحی مواعظ وغیرہ وہجوم طالبین وضعف قوی برائے نام رہ گیا ہے نظر بہ حالات موجودہ اس
کی سخت ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ ضبط ملفوظات کا کوئی مستقل انتظام کیا جائے ـ کہ اب یہ ہی
ایک صورت افاضہ عام کی باقی رہ گئی ہے ـ چناچہ حسن اتفاق سے ایک موقع خاص پر چند احباب
خاص کا خانقاہ شریف میں اجتماع ہوا اور اس ضرورت شدیدہ کا تذکرہ ہو کر آپس میں ماہوار چندہ ہوا
اور ایک صاحب کو جو ثقہ اور باسلیقہ ہیں ـ ملفوظات کیلئے مقرر کر دیا گیا جنہوں نے محض از راہ خلوص
اپنی شان کے خلاف فی الحال بہت قلیل معاوضہ پر قناعت فرما کر اس خدمت کو رمضان المبارک
1350ھ سے اپنے ذمہ لے لیا فجزا ھم اللہ خیرالجزاء
از عنایات قاضی حاجات ٭ باز شد انتظام ملفوظات
کرد حق بحر فیض باز رواں ٭ اے خوشا عود عید در رمضان
چونکہ مخلص افراد کے ماہوار چندہ سے ان افاضات یومیہ کے ضبط کا انتظام ہوا ہے اس رعایت سے اس مجموعہ کا نام ،، الافاضات الیومیہ من الافادات القومیہ ،، تجویذ کیا گیا جس کے
اجزاء انشاءاللہ تعالی مثل دیگر مسودات ضبط شدہ بعد نظر اصلاحی حضرت اقد س وقتا فوقتا حسب موقع
شائع ہوتے رہیں گے ـ اللہ تعالی کا مزید احسان یہ ہے کہ ساتھ کے ساتھ ان افاضات روزانہ کی
اشاعت ماہانہ کا بھی انتظام رسالہ النور میں شروع ہو گیا ہے جس کے ذریعہ سے تازہ بہ تازہ
ملفوظات ہدیہ مشتاقین ہوتے رہیں گے جن سے انشاء اللہ تعالی غائبین کو حضوری کا حاضرین مجلس
کو جو بالمشافہ بھی سن چکے ہیں ـ قند مکرر کا لطف ہوگا ـ اگر خصوصیت کسی مضمون کی مقتضی ہوئی
تو کچھ ملفوظات صاحب موصوف کے پاس سابق کے لکھے ہوئے بھی موجود ہیں وہ بھی اسی سلسلہ
میں شائع کر دیے جائیں گے اور بغرض امتیاز ان کے آخر میں لفظ قدیم بین القوسین بڑھا دیا جائے
گا ـ اب آخر میں دعا ہے کہ حق تعالی جل شانہ و عم نوالہ ،اس سلسلہ خیر کو مدت مدید تک جاری اور اس
کے منافع و برکات کو قلوب طالبین میں ساری رکھے آمین ثم آمین ـ
المفتقر الی رحمتہ اللہ الصمد الاحقر حافظ جلیل احمد رئیس علی گڑھ
خازن چندہ ملفوظات ، مقیم خانقاہ امدادیہ تھانہ بھون ضلع مظفر نگر نصف شوال 1350ھ

نوٹ 1 : پہلے افاضات یومیہ کے سات حصے تھے جو کسی مصلحت کی بنا پر نہ ہوئے تھے بلکہ بعض
مجبوریوں کی وجہ سے ہو گئے تھے اسی لئے ان کی ضخامت میں بہت فرق تھا چونکہ یہ حصوں کی تقسیم
حضرت کی تجویز کردہ نہ تھی میری ہی کی ہوئی تھی اس لئے اب میں نے اس کل مجموعے کے د س حصے
کرکے سب کی یکساں ضخامت کردی ہے تاکہ ناظرین کو مطالعہ میں سہولت ہو ـ شبیر علی
نوٹ 2: اس مرتبہ فارسی اشعار اور عربی عبارت کا جو ترجمہ کیا گیا ہے وہ لفظی ترجمہ نہیں ہے بلکہ
حاصل ترجمہ ہے اور آیات قرآنیہ کا ترجمہ تفسیر بیان القرآن سے نقل کیا گیا ہے ـ
27 شعبان المعظم 1350ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم پنجشنبہ