فرمایا کہ ایک خط آیا ہے لکھا ہے کہ بے ٹکٹ ریل کے سفر کرنے میں ابتلاء عام ہے اس میں کوئی گنجائش نکالنی چاہیے ( جوادب) کیا ایسے ابتلاء عام سے کوئی چیز جائز ہو جاتی ہے ـ فرمایا کہ
عوام کے نزدیک علماء صرف اس کام کے لئے رہ گئے ہیں کہ جس معصیت میں ان کو ابتلاء ہو جایا
کرے اس کو معصیت کی فہرست سے نکال دیا کریں انا للہ وانا الیہ راجعون ـ
اقوال
ملفوظ 13: حزن سے مراتب سلوک تیزی سے طے ہوتے ہیں
ایک حط کے جواب میں تحریر فرمایا کہ میرے تکدر کی عمر بہت کم ہوتی ہے کچھ وقت
گزر جانے پر ضعیف ہو جاتا ہے اور تھوڑی سی معذرت کے بعد بالکل ہی فنا ہو جاتا ہے فرمایا کہ اسی خط میں لکھا ہے کہ مجھ کو بڑا رنج ہے بڑا حزن ہے ـ میں نے جواب لکھا ہے کہ حزن ہی تو کام بناتا ہے حزن سے جس قدر سلوک کے مراتب طے ہوتے ہیں مجاہدہ سے اس قدر جلد طے نہیں ہوتے یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے ـ
ملفوظ 12: ایک صاحب کی ہدیہ کی خواہش اور حضرت کا جواب
فرمایا کہ ایک صاحب کا خط آیا ہے رنگون سے ـ لکھا ہے کہ کچھ چیزیں لانا چاہتا ہوں
اگر اجازت ہو اور جس چیز کو فرمائیں ـ میں نے جواب لکھا ہے کہ کس لاگت کی چیز لانا چاہتا ہو
اور وہاں پر کیا کیا چیزیں ملتی ہیں معلوم ہونے پر تعین کروں گا ـ فرمایا کہ اس صورت میں ایک تو
انتخاب کا بار انہیں پر رہا ـ انتخاب ان کا رہے گا پھر ان کے انتخاب شدہ میں سے تجویز میں کرونگا
دوسرے یہ مصلحت ہے کہ نہ معلوم کیا چیز لے آتے جو میرے کار آمد ہی نہ ہوتی اور یہ جو پوچھا ہے
کہ کتنے کی چیز لاؤ گے اس میں یہ حکمت ہے کہ مناسب قیمت کی چیزوں کو لکھوں گا بہر حال اس
میں راحت ہے ان کو بھی مجھ کو بھی ـ
ملفوظ 11: قدم اٹھانے سے پہلے مطلوب متعین ہونا
ایک خط کے سلسلہ میں فرمایا کہ میں نے ایک خط کے جواب میں لکھا ہے جس میں
مطلوب مبہم تھا کہ پہلے مطلوب کا متعین ہو جانا ضروری ہے ـ مطلوب سمجھ لینے کے بعد اس طریق
میں بڑی سہولت اور آسانی ہو جاتی ہے لوگ اس کو ٹالنا سمجھتے ہیں یہ ان کے قلت فہم کی دلیل ہے اور
سخت غلطی ہے یہ ضرور ہے کہ دو چار مرتبہ خط و کتابت میں وقت اور دام دونوں خرچ ہوتے ہیں مگر
ہمیشہ کیلئے راحت میسر ہو جاتی ہے اور آدمی راہ پر پڑ جاتا ہے ـ
میں نے ایک مرتبہ خواجہ صاحب سے کہا تھا کہ میں ایک ہی جلسہ میں طالب کو خدا تک
پہنچا دیتا ہوں اس کی مثال سمجھ لیجئے کہ یہاں سے چار میل کے فاصلہ پر ایک گاؤں ہے ـ شب کا
وقت ہے اس گاؤں میں چراغ جل رہا ہے جو دور سے نظر آتا ہے اور ایک شخص اس گاؤں میں جاناچاہتا ہے اور وہ اس گاؤں اور اس کے راستہ سے دونوں سے بے خبر ہے ایک شخص اس کو بتاتا ہے کہ
تیرا مقصود اور مطلوب جہاں تو جانا چاہتا ہے وہ ہے جہاں چراغ جل رہا ہے گو یہ بتلانے والا اس
شخص کے ساتھ نہیں گیا اور نہ یہ ابھی تک اس گاؤں میں جو اس کا مقصود اورمطلوب ہے پہنچا مگر
ایک معنی کر کہا جا سکتا ہے کہ بتلانے والے نے گاؤں تک پہنچا دیا اس لئے کہ بڑی چیز تو راہ ہی ہے
جو اس پر مطلع ہو گیا آ گے بجز چلنے کے اور رہ ہی گیا ہے جو سالک کا فعل ہے باقی رہبر نے
تو اپنا کام پورا کر دیا اور ایک معنی کر پہنچا ہی دیا اور میں عرض کرتا ہوں سنئیے ایک شخص دہلی جانا چاہتا
ہے نہ اس شخص کو راستہ معلوم نہ کبھی دہلی دیکھی نہ اس کا نقشہ معلوم اول تو اس کا پہنچنا ہی مشکل بفرض
محال پنہچ بھی گیا مگر نقشہ نہ معلوم ہونے کی وجہ سے پہچانے گا نہیں اس لئے غالب یہ ہے کہ آ گے بڑھ جائے گا ـ
غرضیکہ مطلوب ہاتھ نہ آئے گا ادھر رہے گا یا ادھر بڑھے گا کسی صورت سے اطمینان
میسر نہ ہوگا ـ اس بے راہی کی حقیقت سے وہی خوب واقف ہو سکتا ہے کبھی راستہ نہ معلوم ہونے پر
سفر کر چکا ہو کہ اس وقت کیا حالت ہوتی ہے جس کا مشاہدہ مجھ کو ایک سفر میں ہوا میں اسٹیشن سہارن
پور سے لکھنو جانے کیلئے سوار ہوا دیکھا کہ میرے ہم وطن ایک جنٹلمین صاحب بھی اس ہی ڈبہ میں
بیٹھے ہوئے ہیں ـ میں ان سے پہلے سے واقف تھا ـ یہ جنٹلمین صاحب بھی میرٹھ جانے والے تھے
سردی کا زمانہ لحاف بچھونا ساتھ نہ تھا ـ یہ بھی جنٹلمین کے خواص میں سے ہے کہ ایسی چیزیں ساتھ نہ
ہوں کورے چلتے ہیں بیک بینی دو گوش کے مصداق سردی سے بغلوں میں ہاتھ ـ جب گاڑی
چھوٹ گئی تو آپس میں باتیں ہونے لگیں ـ میں نے دریافت کیا کہ کیا آپ بھی لکھنو تشریف لے
جا رہے ہیں کہنے لگے کہ نہیں میں تو میرٹھ جا رہا ہوں معلوم ہوا کہ غلطی سے بجائے میرٹھ کی گاڑی
کے اس میں بیٹھ گئے ـ میں نے ان ہی کے محاورہ میں کہا کہ ممکن ہے کہ آپ میرٹھ جا رہے ہوں
مگر افسوس ہے کہ گاڑی لکھنو جارہی ہے یہ سن کر جوان کو پریشانی ہوئی ہے وہ احاطہ بیان سے باہر ہے
اس کی دو وجہ تھیں ایک تو یہ کہ اسباب پاس نہ تھا اور سردی کا زمانہ دوسرے منزل مقصود کی وہ راہ نہ تھی جس کو وہ طے کر رہے تھے میں نے تسلی کی کہ جناب گھبرائیں نہیں پریشان نہ ہوں اب تو جو ہونا
تھا ہو چکا خواہ پریشان ہو جیئے خواہ افسوس کیجئے مگر ظاہرا یہ گاڑی رڑکی سے اس طرف تو ٹھہر نہیں سکتی
مگر ان کو کسی طرح اطمینان نہ ہوتا تھا کبھی لاحول پڑھتے اور کبھی انا للہ کبھی کھڑے ہوتے تھے
اور کبھی بیٹھتے تھے میں نے کہا پریشانی بے فائدہ ہے ـ اطمینان سے باتیں کیجئے میں ان کو باتوں
میں لگانا چاہتا تھا لیکن وہ اس سے جھنجھلاتے تھے کہ واہ صاحب تم کو ہنسی کی سوجھی ہے اور مجھ کو الجھن
لگی ہوئ ہے
اس حکایت سے میرا مقصود یہ ہے کہ میں نے اس وقت اپنی اور ان کی حالت کا موازنہ
کیا تھا میں اپنے آپ کو ایسا مطمئن پاتا تھا گو یا بادشاہ ہوں اس لۓ کہ مجھ کو اس خیال سے راحت
تھی کہ میں راہ پر ہوں اور وہ ایسے پریشان تھے کہ کوئ مجرم قید کر دیا جاۓ ان کو اس خیال سے
پریشانی تھی کہ میں بے راہی پر ہوں اگر وہ رڑ کی ہی پہنچ گۓ تو یہ ظاہر ہے میرٹھ پھر بھی اتنی دور نہ تھا
کہ جس پر ان کو اس قدر پریشانی لاحق تھی ـ
صاحبو! مقصود ان کا قریب تھا میرٹھ اور میرٹھ اور میرا بعد لکھنو مگر بے راہی کی وجہ سے وہ پریشان تھے
اور میں مطمئن ـ سبب اس کا یہ تھا کہ وہ گمراہی پر تھے اور میں راہ پر تھاـ حق سبحانہ و تعا لی اسی کو
کلام پاک میں فرماتے ہیں: اولئک علی ھدی من ربھم واولئک ھم المفلحون
(بس یہ لوگ ہیں ٹھیک راہ پر جو ان کے پروردگار کی طرف سے ملی ہے اور یہ لوگ ہیں پور ے کامیاب)
ہدی کو فلاح سے پہلے فرمایا اصل چیز تو راہ ہی ہے جس کو صراط مسطقیم (سیدھا
رستہ)
کہتے ہیں دنیا میں مسلمان کیلۓ جس اصلی جزا کا وعدہ ہے وہ یہی ہے کہ وہ ہدایت پر ہے اور
سیدھے راستے پر چل رہا ہے اور جو اس راہ پر چلنا شروع کر دیتا ہے اس کیلۓ مفلحون(پورےکامیاب )
فرمایا گیا ہے اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ایسے بزگوں کی جو تیوں میں پہنچا دیا کہ انہوں
سیدھے راستے پر ڈال دیاـ
خلاصہ یہ ہے کہ بڑی چیز راہ پر آگاہ کر دینا اور پتہ و نشان بتلا دینا ہے یہ ہی تو ہے جس کو
میں نے کہا تھا کہ ایک ہی جلسہ میں میں طالب کو خدا تک پہنچا دیتا ہوں حضرت طریق نہ معلوم ہونا
بڑا ہی بھاری خسارہ ہے پھر طریق معلوم ہونے کے دو درجے ہیں ایک تقلید ایک تحقیق مبتدی کو
تقلید ہی کی ضرورت ہے اگر کسی کو خود رستہ نظر نہ آوے مگر تحقیق کہتا ہے کہ یہ رستہ ہے تو اپنی نظر
پر اعتماد نہ کرے اس کی خبر پر اعتماد کر کے چلنا شروع کر دے جوں جوں بڑھتا جائے گا ساتھ ساتھ
راستہ نظر آتا رہے گا گرچہ رخنہ نیست عالم راپدید ـ اس کی ایک مثال عرض کرتا ہوں ـ پشاور سے
کلکتہ تک سڑک گئی ہے ایک شخص پشاور سے کلکتہ پہنچنا چاہتا ہے مگر وہ جب نظر کرتا ہے تو دیکھتا ہے کہ
سڑک درختوں اور آسمانوں سے بند ہے یہ دیکھ کر مایوس ہو جاتا ہے کہ راستہ بند ہے میں منزل کو
طے نہیں کر سکتا ـ مگر جاننے والا کہتا ہے کہ چل تو سہی اپنے موٹر کو گرم کر ہمت سے کام لے چلنا
شروع کر جس وقت موٹر چلنا شروع ہو جائے گا راستہ خود بخود دکھلتا جائے گا جس قدر آگے بڑھتا
جائے گا راستہ اسی قدر کھلا ہوا نظر آئے گا مولانا اسی کو فرماتے ہیں :
گرچہ رخنہ نیست عالم رپدید ٭ خیرہ یوسف دارمی باید دوید
( اگرچہ دنیا میں طریق حق کے راستہ بند معلوم ہوتے ہیں لیکن طالب کو یوسف علیہ
السلام کی طرح بغیر اسباب ظاہری پر نظر کئے دوڑنا چاہئے ـ 11)
اس لئے ضرورت ہے ایسے رہبر کی جس کے محقق اور شفیق ہونے پر اعتماد ہو ـ آجکل
میں کھانسی کی دوا کھا رہا ہوں یہ اجزاء کتابوں میں ہیں مگر بغیر اہل فن کے بتلائے اور تجویز
کئے ہوئے اطمینان نہیں ہو سکتا ـ اب جو اہل فن سے تجویز کرا کر استعمال کر رہا ہوں اطمینان ہے
اس لئے کہ اس کے نقصان اور مضرت کا وہ ذمہ دار ہے اور محقق ہونے کی علامات میں سے یہ بھی
ہے کہ اس کی بات سے اطمینان اور قلب کو قرار ہو جائے اور جو شخص غیر محقق اور غیر مبصر ہوتا ہے اس
کی بات سے اطمینان نہیں ہوتا اگرچہ بڑی بڑی باتیں ہی کیوں نہ کرتا ہو اسی کو فرماتے ہیں ؎
وعدہ ہا باشد حقیقی دلپذیر ٭ وعدہ ہا با شد مجازی تاسکیر
( حقیقت پر مبنی باتیں دل کو لگتی ہیں اور بناوٹی باتوں سے جی اکتاتا ہے ـ )
پھر فرمایا کہ شیخ کا کام صرف یہ ہے کہ وہ راستہ بتلا دے راہ پر ڈال دے پس شیخ کا ولی ہونا ضروری نہیں مقبول ہونا ضروری نہیں ہاں فن کا جاننا اور اس میں مہارت ہونا ضروری ہے اگر فن سے واقف ہے اور جانتا ہے جیسے طبیب کہ اس کا پرہیز گار ہونا ضروری نہیں ـ فن سے ماہر ہونا اور اس کا جاننا ضروری ہے ـ
اسی طرح شیخ کی مثال سمجھ لیجئے مزاح کے طور پر فرمایا کہ چاہے خود خراب ہو مگر شیخ کا
دماغ خراب نہ ہو جب شیخ اور ولی میں فرق معلوم ہو گیا تو سمجھ لیجئے کہ کسی کو شیخ کہنا تو جائز ہے لیکن
ولی کہنا جائز نہیں ـ اور یہ بات کہ کسی کو جزم ( یقین ) کے ساتھ ولی کہنا جائز نہیں مسئلہ ہے جو حدیث
لایز کی علی اللہ سے ثابت ہے اور اگر اعمال صالحہ ہوں تقوی ہو ولایت حاصل ہو جائے گی خواہ شیخ نہ ہو ـ
ملفوظ 10: آج کل کے لیڈر اور قرآن و حدیث
فرمایا کہ اکبر الٰہ آبادی مرحوم فرمایا کرتے تھے کہ لیڈروں کے یہاں قرآن و حدیث
میں تو فال دیکھی جاتی ہے باقی عمل رز و لیوشن پر ہوتا ہے واقعی سچی بات ہے فرمایا اس کی بالکل ایسی
مثال ہے جیسے بعض لوگ طیبعت خوش کرنے کی غرض سے مثنوی شریف یا دیوان حافظ سے فال
لیا کرتے ہیں ارادہ تو اس کام کا پہلے سے ہوتا ہے محض تائید کا نام کرنے کو ان میں بھی دیکھ لیا کہ وہ
بھی یہی فرما رہے ہیں یہ ہی معاملہ قرآن و حدیث کے ساتھ کیا جا رہا ہے کہ رز و لیوشن پاس کر لیا
اور پھر اس کو قرآن و حدیث پر منطبق کر دیا اور وہ منطبق کرنا ایسا ہوتا ہے جیسا کہ ایک صاحب نے
آیہ لاتسبوا الذین یدعون من دون اللہ الخ( دوسروں کے معبودوں کو بر امت کہو ـ 12) سے گاؤ کشی کی حرمت پر استدلال کیا تھا کہ گائے ان کا معبود ہے اور ذبح کرنے میں انکے معبود کی
اہانت اور بے ادبی ہے اور اس کو اس آیت میں منع فرمایا گیا ہے یہ استدلالات ہیں زمانہ شورش کے
لاحول ولاقوۃ الاباللہ اسی طرح صلح حدیبیہ کے وقعہ سے استدلال کیا گیا تھا کہ حضورﷺ نے
﷽﷽﷽﷽﷽﷽﷽﷽﷽﷽بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھوانا چاہا تو مشرکین نے اس کے لکھے جانے سے انکار کیا آپ نے ان کی اس
درخواست کو منظور فرما کر بسمک اللھم لکھوایا پھر حضورﷺ نے محمدرسول اللہ لکھوانا چاہا
تو انہوں نے محمد رسول اللہ کے لکھے جانے سے بھی انکار کیا تو آپ نے محمد بن عبداللہ اس کی جگہ
لکھوایا ـ معلوم ہوا کہ صلح حدیبیہ کیلئے شعائر اسلام کو بھی چھوڑنا جائز ہے ـ میں اسکے متعلق ایک موٹی
سی بات عرض کرنا چاہتا ہوں اس لئے کہ باریک بات تو علماء جانتے ہیں وہ یہ ہے کہ دنیا جانتی ہے
اور ہر شخص کو یہ بات معلوم ہے کہ جب دو قوموں میں صلح ہوتی ہے اور صلح نامہ لکھا جاتا ہے تو وہ صلح نامہ
فریقین کی طرف منسوب ہوتا ہے اور اس صلح نامہ میں وہی مضمون لکھا جاتا ہے جو دونوں فریق کے
مسلمات سے ہو ـ اس میں کوئی ایسی بات نہیں لکھی جاتی جو فریقین کو تسلیم نہ ہو ـ جب یہ حقیقت ہے
تو اب سنئے کہ جس صلح نامہ پر حضور ﷺ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم اور محمد رسول اللہ
لکھوانا چاہا تھا اس کے ساتھ صرف مسلمانوں ہی کا تعلق نہ تھا بلکہ مشرکین مکہ بھی اس سے تعلق رکھتے
تھے یعنی وہ دونوں کی طرف منسوب تھا اور دونوں ہی کے اس پر د ستخط ہوتے ہیں اور جیسا کہ اس
میں یہ بات قابل لحاظ تھی کہ اس میں کوئی بات مسلمانوں کے خیالات کے خلاف نہ ہو اسی طرح یہ
بات بھی قابل رعایت تھی کہ اس صلحنامہ کا ہر مضمون خصم کو بھی تسلیم ہو اسی وجہ سے جب حضورﷺ نے
بسم اللہ الرحمن الرحیم اور محمد رسول اللہ لکھوانا چاہا تو مشرکین اور کفار مکہ نے
صلح نامہ میں اس کا لکھا جانا منظور نہ کیا اور ان کا اس انکار سے مطلب یہ تھا کہ صلح نامہ جس طرح
مسلماموں کی طرف منسوب ہوگا اسی طرح ہماری طرف منسوب کیا جاوے گا اور جس طرح
مسلمانوں کے د ستخط اس پر ہونگے اسی طرح ہم کو بھی د ستخط کرنے ہونگے اس لئے صلح نامہ میں
ایسے الفاظ نہ ہونے چاہیئں جس کے قبول کرنے سے ہم کو انکار ہے کیونکہ ایسے الفاظ ہوتے
ہوئے ہمارے اس پر د ستخط کیسے ہوں گے ـ
کفار مکہ کو فریق ہونے کی حیثیت سے صلح نامہ کے مضمون میں دخل دینے کا حق حاصل تھا
اور بسمک اللھم اور محمد بن عبداللہ کا لکھا جانا مسلمانوں کے کسی خیال کے خلاف
نہ تھا اس وجہ سے حضورﷺ نے ان کی اس دوخواست کو منظور فرما لیا اور وہی الفاظ اور مضمون صلح نامہ
میں درج کرائے جو ہر دو فریق کے متفق علیہ تھے اور جن الفاظ پر فریقین کو د ستخط کر دینے آسان تھے
اب اس کی حقیقت سمجھ لینے کے بعد بتلائیے کہ کیا اس سے یہ استدلال صحیح ہو سکتا ہے کہ صلح کیلئے
اصول مذہب کے ترک کو حضورﷺ کی طرف منسوب کیا گیا ہے نعوذباللہ ، استغفراللہ ، لاحول ولاقوۃ الاباللہ ـ اسی کے سلسلہ میں فرمایا کہ مولوی حبیب احمد صاحب نے ایک خوش مزاج عالم سے
نقل کیا کہ متبحر کی دو قسمیں ہیں ایک کدو متبحر اور ایک مچھلی متبحر کدو وہ کہ کدو کی طرح تمام دریا پر تیرتا
پھرتا ہے مگر اوپر ہی اوپر اور اندر رسائی نہیں اور ایک مچھلی متبحر کہ عمق ( دریا کی تہہ)میں پہنچی ہے
واقعی مثال بے نظیر ہے ہمارے بزرگوں کے مضامین میں طول عرض تو ہوتا نہیں مگر مثل مچھلی کے عمق
اور گہرائی پر پہنچتے ہیں اور حقیقت کا انکشاف فرما دیتے ہیں بخلاف سطحی نظر والوں کے کہ کدو متبحر ہیں
اوپر اوپر پھرتے ہیں حقیقت سے بالکل بے خبر اور نا آشنا ہوتے ہیں ـ
ملفوظ 9: قنوت نازلہ کا حکم
ایک سوال کے سلسلہ میں فرمایا کہ قنوت نازلہ کے احکام اصل مذہت میں منقح نہیں اس لئے میں نماز پنجگانہ کے بعد دعا کرنے کو بہتر سمجھتا ہوں اور میں نے تو اس موقع خاص کیلئے بعض دعائیں قرآن و حدیث سے منتخب کر لی ہیں ہر نماز کے بعد یا جس وقت جی چاہا پڑھ لیتا ہوں ـ ایک
بات تو یہ بھی قابل نظر ہے کہ قنوت نازلہ کا اختیار کرنا دوسروں کو یاد دلانا ہے کہ ہمیں فکر ہے اندیشہ
ہے ـ میرے نزدیک بجائے قنوت نازلہ کے یہ ہی بہتر ہے کہ ہر نماز پنجگانہ کے بعد دعا کریں یہ
عجیب و غریب طریق ہے ـ میں نے بھی پہلے قنوت نازلہ پڑھی ہے مگر زیادہ تر رجحان اسی طرف تھا
کہ جب کہ ایک طریق اسلم و اسہل ہے اور اس میں اخفا بھی ہے ـ اس کو ہی کیوں نہ اختیار کیا جاوے
دوسرے طریق میں اظہار ہے اور اخفاء کی صورت بہتر ہے اظہار سے اور حضرت جو اصلی تدبیر ہے
اس کی طرف اس وقت تک بھی کسی کو خیال نہیں وہ یہ ہے کہ اپنے اعمال کی اصلاح میں لگ جائیں
اگر ایسا کریں تو چند روز میں انشاء اللہ اس کی برکت سے د شمن خائف ہو جائیں ـ اور مخترع
طریقوں کے متعلق فرمایا کہ ایسے وقت میں شریعت میں دو ہی صورتیں ہیں ـ قوت کے وقت مقابلہ
اور عجز کے وقت صبر ـ خدا معلوم یہ تیری صورت بخوشی گرفتار ہو جانے کی کہاں سے نکالی ہے
ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت یہ گاندھی کی تعلیم ہے ـ فرمایا گاندھی کہاں سے لایا
اس نے بھی یورپ سے ہی سبق حاصل کیا ہے مگر گاندھی کے کہنے سے اس کو قرآن و حدیث پر منطبق
کیا جاتا ہے انا للہ وانا لیہ راجعون ـ
ملفوظ 8 : حالات کشمیر سے متعلق ایک بے کار سوال کا جواب
ایک صاحب نے سوال کیا کہ حضرت کشمیر کے متعلق اکثر لوگوں کو مالی و جانی امداد
کرنے میں اشکال ہیں اس کے متعلق شرعی حکم کیا ہے چونکہ اس سائل کا قصد خود عمل کا نہ تھا ویسے ہی
مشغلہ کے طور پر پوچھتا تھا اس لئے فرمایا کہ جس شخص کا ارادہ امداد کرنے کا ہو اس کو خود سوال
کرنا چاہئے اس کو جواب دیا جائےگا اگر آپ کا ہی ارادہ ہے تو آپ ظاہر کریں کہ کون سی امداد کرنا
چاہتے ہیں تاکہ اس کا حکم ظاہر کریں ـ عرض کیا کہ بعض لوگ دریافت کرنے لگتے ہیں فرمایا میں جو
کہ رہا ہوں آپ سمجھے نہیں پھر سن لیجئے کہ جس شخص کا ارادہ ان دونوں صورتوں میں سے امداد کا ہو
وہ خود آکر سوال کرے اس کو جواب دیا جائے گا ـ اگر آپ کا ہی ارادہ ہے تو آپ ہی فرمائیں کہ کون
سی امداد کرنا چاہتے ہیں سیدھی بات کو الجھا تے کیوں ہو ـ سوال اس ہی شخص کو کرنا چاہئے جس کا
کچھ کرنے کا ارادہ ہو باقی دوسروں کو جواب دینے کی آپ کو کیا فکر ـ کوئی پوچھے کہہ دیجئے ہم کو معلوم
نہیں ـ دوسرے جواب تو جب ہی ہو سکتا ہے جب کہ سوال کی صورت متعین ہو وہاں کے واقعات
کی تنقیح جب تک نہ کی جائے جواب کس بات کا ہو ـ
فرمایا کہ اس کے متعلق یہاں پر بہت سوال آتے ہیں میں جواب میں لکھ دیتا ہوں کہ
زبانی سمجھنے کی بات ہے زبانی آ کر سمجھ لو ـ یہ اسی واسطے کہ سائل سے واقعات کی تنقیح تو کر لی جائے ـ
فرمایا کہ کشمیر پر جو جتھے جا رہے ہیں ان کے متعلق ایک صاحب مجھ سے فرمانے لگے کہ ان جتھوں کے
جانے کا جائز و نا جائز ہونا تو الگ بات ہے مگر نافع بہت ہے میں نے کہا جی ہاں خمر(شراب) بھی
نافع ہے میسر (جوا) بھی نافع ہے بلکہ ان کا نافع ہونا تو نص سے ثابت ہے آپ تو اپنی ہی رائے
اظہار فرنا رہے ہیں اگر نافع ہونے پر امداد ہے تو ان چیزوں میں بھی کوئی جرم نہ ہونا چاہیے ـ
ملفوظ 7: کشمیر کے واقعات پر قنوت نازلہ
ایک صاحب نے دریافت کیا ( یہ سوالات و جوابات اس وقت کے ہیں جب
انگریزی عہد میں کشمیر میں مسلمانوں کی راجہ سے جنگ جاری تھی ـ12) کہ حضرت کشمیر کے
مسلمانوں پر جو واقعات پیش ہیں اور ان پر سختی ہو رہی ہے ایسے وقت میں اگر قنوت نازلہ پڑھی
جائے کیا حکم ہے ـ فرمایا کہ مولوی ظفر احمد صاحب نے اس کے احکام اور مواقع وطریق و شرائط
کے متعلق لکھا ہے ـ میں نے بھی ان سے کہ دیا تھا کہ اس بحث کو اچھی طرح لکھ دینا غالبا یہ بحث
اعلاء السنن ( قنوت نازلہ کے متعلق مفصل بحث اعلاء السنن حصہ ششم میں ہے 12شبیر علی ) میں
ہے اس میں دیکھ لیا جائے یہ صحیح یاد نہیں کہ چھپے ہوئے نسخہ میں ہے یا مسودہ میں یہ مولوی شبیر علی سے
معلوم ہو جائے گا ـ
ملفوظ 6: دیہاتیوں کی مزیدار گفتگو
ایک گفتگو کے سلسلہ میں فرمایا کہ کالے دہولے (سیاہ و سفید ) پر ایک حکایت یاد آئی
ایک گاؤں کا آدمی یہاں پر آیا اور مجھ سے دریافت کیا کہ مولوی اشرف کون سا ہے میں نے کہا کہ
بھائی میٰں ہی ہوں کہا تو نہیں ـ میں نے دریافت کیا کہ اس کی کوئی خاص پہچان ہے کہا کہ ہاں ہے
میں نے دریافت کیا کہ کیا پہچان ہے ـ کہا وہ دھولا دھولا (گورا گورا ) ہے میں نے پوچھا کب دیکھا
تھا معلوم ہوا بہت عرصہ جب دیکھا تھا میں نے کہا کہ بھائی وہ جوانی کا زمانہ تھا جب تم نے
دیکھا تھا جوانی کا رنگ و روغن اور ہوتا ہے اب بڈھے ہو گئے کہا کہ کیوں جھوٹ بولے مولوی
حبیب احمد صاحب سامنے بیٹھے تھے میں نے کہا کہ یہ دیکھ یہ ہوں گے یہ ہیں دھولے کہا کہ یہ بھی
نہیں ـ یہ ڈھیر دھولا ( زیادہ گورا ) ہے تب میں نے اس سے کہا کہ دیکھ وہ معمار مزدور کام کر رہے.ہیں ان سے پوچھ لے دوڑا گیا ان سے جا کر پوچھا پھر آیا کہنے لگا ہاں تو ہی ہے میری کھطا (خطا)
معاف کر دے ـ فرمایا کہ الفاظ تو اس کے پاس نہ تھے مگر خلوص تھا جی چاہتا تھا کہ اسی بے تہذیبی
کے ساتھ سلسلہ گفتگو جاری رہے بے حد لطف آ رہا تھا ـ ایک ایسی ہی حکایت قاری عبدالرحمن صاحب ؒ
پانی پتی کی مولوی حبیب احمد صاحب نے روایت کی ـ کہ
قاری صاحب ریل میں سفر کر رہے تھے ایک گنوار کو معلوم ہوا کہ یہ قاری ہیں اور وہ اتنا
جانتا تھا کہ قاری خوش آواز اور لہجے سے قرآن شریف پڑھنےوالے کو کہتے ہیں اس پر اس کو خیال
ہوا کہ قاری صاحب سے قرآن شریف سننا چاہئے ـ غرضیکہ قاری صاحب سے درخواست کی قاری
صاحب نے درخواست منظور فرما کر سنانا شروع فرما دیا یہ گنوار سن کر کچھ خوش نہ ہوا اس لئے کہ وہاں
اتار چڑھاؤ اور رنگینی نہ تھی قاری صاحب سے کہا کہ اب میرا بھی سن لے ـ مطلب یہ تھا کہ میں بھی
اچھا پڑھنےوالا ہوں قاری صاحب نے اجازت فرما دی اس نے بھی پڑھ کر سنایا اس طرف سے
بھی کوئی داد نہ ملی تو کیا کہتا ہے قاری صاحب سے کہ جیسا تو پڑھے ویسا ہی میں پڑھوں فرک
(فرق) یہ ہے کہ تو جنانی (زنانی) بولی میں پڑھے اور میں مردانی بولی میں مطلب یہ تھا کہ تیری
باریک بولی ہے اور میری موٹی ـ زنانی سے مراد باریک اور مردانی سے مراد موٹی ـ
ملفوظ 5: میدان میں آنا چاہیے کا نعرہ
فرمایا کہ اب تو یہ حالت ہے اور اسی کی فکر ہے کہ میدان میں آنا چاہیے میدان میں
آنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ حجرہ بھی ہاتھ سے جاتا رہتا ہے اور میدان بھی ہاتھ نہیں آتا پھر ان لوگوں
کے نزدیک میدان میں آنے کے نہ کچھ شرائط ہیں نہ حدود ہیں ـ دیوانوں کی سی ایک بڑ ہے کہ
میدان میں نکلنا چاہئے آنا چاہئے یہاں تک نوبت آ گئی کہ زبانوں پر یہ آتا ہے کہ مسائل کا وقت
نہیں کام کا وقت ہے کام کرنا چاہئے جو لوگ ایسے ہیں وہ خود تو کسی کام کے رہے ہی نہیں اس پر
غضب یہ ہے کہ خود تو مبتلا ہوئے ہی تھے بے چارے طالب علموں کو جو پڑھنے پڑھانے میں
مشغول تھے اس بلا میں مبتلا کر دیا اور میدان میں لا کھڑا کیا یہ ایسا چٹیل میدان ہے کہ دانہ
ہے نہ پانی نہ دنیا ہے نہ دین ـ اس بد نظمی اور بے ڈھنگے پن کی کوئی حد ہے ـ
میری یہ رائے ہے کہ کسی تحریک میں بھی طالب علموں کو شرکت کی اجازت نہ ہونی
چاہئے اس میں سخت مضرت ہے آئندہ کیلئے جو کہ اس وقت محسوس نہیں ہوتی آخر میں پوچھتا ہوں
کہ پڑھنے پڑھانے میں جب کوئی مشغول نہ رہے گا تو پھر یہ جماعت علماء کی آئندہ کام کرنے والی
کہاں سے پیدا ہوگی ـ تم تو سب کچھ ہو علماء ہو مقتداء ہو پیشوا ہو تم ہی کرو جو کرنا ہے مگر طلباء کو تو اپنے
کام میں لگا رہنے دو تاکہ آئندہ دین کے احکام بتلانے والی جماعت کا سلسلہ
جاری رہے ـ کیا یہ
خیال ہے کہ آئندہ دین کی ضرورت ہی نہیں رہے گی ـ جیسا کہ کہتے ہیں کہ اب مسائل کا وقت نہیں
کام کا وقت ہے ـ کوئی ان حضرات سے پوچھے کہ جو آپ مقتدا اور پیشوا کہلائے یا بنے وہ لکھنے
پڑھنے ہی کی بدولت تو بنے اور اب اسی کی جڑ کاٹ رہے ہو ـ خود تو مزے میں رہے سب کچھ بن
گئے دوسروں کی جڑ کاٹی جا رہی ہے ـمیں نے انبالہ کے ایک وعظ میں کہا تھا کہ سب کو مل کر کام کرنے کے یہ معنی نہیں کہ سب
ایک ہی کام میں لگ جائیں یا ایک کا کام دوسرا کرنے لگے اس پر ایک مثال بیان کی تھی کہ جیسے ایک
مکان تیار کیا جا رہا ہے اس کی تیاری کیلئے معمار کی بھی ضرورت ، بڑھئ کی بھی ضرورت ، مزدور کی بھی
ضرورت ـ اب یہ بتلاؤ کہ سب مل کر جو تعمیر کا کام کر رہے ہیں اس کا کیا طریقہ ہے یہ ہی کہو گے کہ
معمار اینٹ لگائے بڑھئ آرہ چلانے مزدور گارا پہنچائے اینٹ پہنچائے ـ جب یہ سمجھ میں آ گیا ـ اب
میں پوچھتا ہوں کہ اگر یہ سب مل کر اینٹ ہی لگانے لگیں یا سب کے سب آرہ
ہی چلانے لگیں
یا سب کے سب گارا اینٹ ہی پکڑانے لگیں کیا مکان تیار ہو سکتا ہے ـ ظاہر ہے نہیں ـ تو اسی طرح
یہاں خیال کر لو کہ سب کو مل کرکام کرنے کے معنی صرف یہ ہیں کہ تجربہ کا کام تو لیڈر کریں اور اس
طرح کریں کہ وہ کسی کام کرنے سے قبل علماء سے جائز نا جائز معلوم کر لیا کریں اور احکام بتلانے
کا کام علماء کریں ـ بس اس طرح ہر ہر شخص اپنے فرض منصبی کو انجام دے اس صورت میں امید
کامیابی کی نکل سکتی ہے کہ ہم اپنا کام کریں وہ اپنا کام کریں سب کے مل کر کام کرنے کے یہ معنی نہیں
کہ سب ایک ہی کام میں لگ جاؤ یہ علاوہ دین کے عقل کے بھی تو خلاف ہے ـ خدا معلوم یہاں ان
لوگوں کی عقل کیوں کام نہیں دیتی موٹی بات ہے جو میں کہہ رہا ہوں ایک اور مثال سے سمجھ لیجئے کہ
اگر مرد کمایا بھی کرے اور پکایا بھی کرے جھاڑو بھی دیا کرے بچوں کا ہاتھ منہ بھی دھلایا کرے یعنی یہ
سب اسیکے ذمہ ہو یا اسی طرح عورت امورخانہ داری کی بھی ذمہ دار ہو اور باہر سے کما کر بھی لایا کرے
اس گڑ بڑ میں کچھ بھی نہ ہو گا نہ کمائی ہوگی نہ امور خانہ داری کا انتظام ہو گا سب نظام گڑبڑ ہو جائے گا یہ
کیسے ہو سکتا ہے ہر شخص کو اپنا اپنا کام انجام دینا چاہئے یہ ہی کامیابی کا راستہ ہے ورنہ گڑبڑ کرنے سے
کچھ بھی نہیں ہو سکتا ـ علماء کا کام مسائل بتانا ہے جواز وعدم جواز ہم سے پوچھ ہو لو ـ
احقر جامع نے عرض کیا کہ حضرت ان کو پوچھنے کی ضرورت ہی کیا ہے جس طرح جہلاء
صوفیاء نے شریعت اور طریقت کو دو چیز بتلا کر احکام سے جان بچالی اور ایک مستقل فرقہ بن گیا اب
وہ شریعت کی ضرورت نہیں سمجھتے اسی طرح اس گروہ نے شریعت اور سیاست کو جدا جدا بتلا کر احکام
سے جان بچالی یہ بھی ایک مستقل فرقہ بن گیا ـ فرمایا بالکل صحیح ہے ان لوگوں کو شبہ یہ ہو گیا ہے کہ مولوی تو ہر چیز کو حرام ہی کہیں گے ـ اس بدگمانی کا کیا علاج ہے اس لئے ان سے پوچھنا ہی بیکار
ہے ان لوگوں کی تو یہ حالت ہو گئی ہے کہ یہاں پر پچھلے دنوں کچھ لوگ نماز کی تبلیغ کیلئے باہر سے آئے
تھے مجھ سے بھی آ کر ملے تھے ـ تحقیق سے معلوم ہوا کہ خود نماز بھی نہ پڑھتے تھے ہاں نظمیں خوب
پڑھتے تھے ان کے مضمون خلاف شرع بھی تھے مجھ سے بڑی کوشش کی کہ وہ نظمیں خانقاہ میں
سنائیں ـ میں نے دل شکنی نہیں کی نہایت لطیف عذر کے ساتھ ٹال دیا دین شکنی بھی نہیں کی یعنی
خانقاہ میں پڑھنے کی اجازت نہیں دی ـ عین نماز کے وقت ایک مسجد کے قریب نظمیں پڑھ رہے
تھے مگر وہاں جب نماز نہیں پڑھی تو خیال ہوا کہ شاید دوسری مسجد میں پڑھی ہوگی معلوم ہوا کہ یہاں
پر بھی نہیں پڑھی تو خیال ہوا کہ شاید تیسری مسجد میں پڑھی ہو ـ معلوم ہوا کہ کہیں بھی نہیں پڑھی خود
تو نماز سے بھاگیں اور دوسروں کو تبلیغ کریں یہ حالت ہے ان تحریکات میں شرکت کرنے والوں کی
کہ خود اپنی حالت پر نظر نہیں دوسروں پر نکتہ چینی کی جاتی ہے ـ بعض علماء کی بھی یہی حالت ہے مگر ان
کے پھلسنے کا بے حد قلق ہے ـ
27 شعبان المعظم 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم پنجشنبہ

You must be logged in to post a comment.