کدو کا ذکر تھا حضرت والا نے فرمایا کہ صحابہ کے عشق کی کیا عجیب حالت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب سے میں نے حضور کو کدو کھاتے ہوئے دیکھا مجھ کو اس سے محبت ہوگئی غیر طبعی کا طبعی بن جانا بدون کسی بڑے قوی مؤثر کے ممکن نہیں اوریہ بھی فرمایا عورتیں جو ہاتھ میں مہندی لگائی ہیں حضور کو رائحہ (خوشبو) پسند نہ تھا وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس کی خوش بو میں ایک قسم کی تیزی ہوتی ہے جو لطافت کے خلاف ہے اور یہ حضور کا عمل طبعی تھا ورنہ داڑھی
میں مہندی لگانے کی حضور نے خود ترغیب فرمائی ہے سواس وجہ سے حضرت عاشہ مہندی نہ لگاتی تھیں اپنی زینت کو محبوب کی خاطر چھوڑ دینا بدون کامل محبت کے نہیں ہوسکتا مگر یہ سنن عادات ہیں سنن عبادات نہیں ان میں اتباع دین میں مقصود نہیں اور اس میں غلوبھی مناسب نہیں اسی کی ایک تفریح میں فرمایا کہ مجھ سے ایک شخص نے سوال کیا کہ حضور کا عمامہ اور عصاء تو سنت عادات میں سے ہے اسی کی تفریح میں ایک بزرگ کی حکایت بیان فرمائی وہ حضرت خواجہ بہاءالدین نقشبندی رحمتہ اللہ علیہ کا قصہ ہے کہ آپ نے مریدین سے فرمایا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم جوکی ورٹی اس طرح تناول فرماتے تھے کہ غلہ کو پیس لیا اور پھونک سے بھوسی اڑادی کوئی باقاعدہ آٹا چھاننے کا التزام نہ تھا اور ہم لوگ چھان کرکھاتے ہیں اب اس سے سنت پرعمل کیا کرو چنانچہ جو کے آٹے کی ورٹی بغیر چھاننے پکائی گئی چونکہ اس کا چھلکا سخت ہوتا ہے اس لئے اس کے کھانے سے لوگوں کے پیٹ میں درد ہوا اور سب نے شکایت کی مگر دیکھئے کیا ادب تھا سنت کا کہ اس میں کسی مضرت کے وسوسہ کا ایہام بھی نہیں کیا بلکہ یہ فرمایا کہ ہم نے بے ادبی کی کہ مساوات چاہی حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مساوات کا دعوٰی کیا عزیمت پر عمل کرنا ہمارا منصب نہیں ہم رخصت ہی کے لائق ہیں اور حکم دیا کہ آئندہ سے حسب معمول آٹا چھا نا جایا کرے تو خواجہ صاحب کا معمول بدل دینا اسی بناء پرتھا ایسی سنن مقصود وفی الدین نہیں البتہ فضیلت اور علامات محبت سے ہے مگرعوارض سے حکم بدل جاتا ہے ایک صاحب نے سوال کیا کہ حضور کی عادیہ چیزوں کو جس کو سنن عادات کہا گیا ہے اختیار کرنا کیسا ہے فرمایا کہ بہ نیت اتباع سنت کے موجب قرب ہے مگر اتنا مؤکد نہیں کہ اگر کوئی نہ اختیار کرے تو اس کو مطعون کرے ان کے اتنا درپے ہونا یہ حدود شرعیہ سے تجاوز ہے ۔
ملفوظات حکیم الامت جلد نمبر 4
(مفلوظ 390)حضرت ام حبیبہ کے مہر کی مقدار
فرمایا کہ بڑوں میں جونکاح پرمہر کی مقدار اسی ہزار ٹکے اور دودینار سرخ تھی اس کی حقیقت اب قریب چارماہ کے معلوم ہوئی کہ حساب کرنے سے یہ تعداد حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے مہر کی بیٹھتی ہے تقریبا گیارہ سوروپیہ اس وقت اس مقدار میں کچھ فرق ہوتا ہے ممکن ہے کہ اس وقت ٹکے سکہ سے برابر بیٹھتی ہو بزرگی کو معمول لغو تھوڑا ہی ہے ۔
(ملفوظ 389)عمل مجرب کی قید کا کوئی عمل یاد نہیں
فرمایا کہ ایک صاحب کا خط آیا ہے کچھ اپنی پریشانیاں لکھی ہیں مقدمہ وغیرہ کی اور یہ بھی ہے کہ کوئی وظیفہ یا عمل مجرب بتلا دیں میں نے جواب لکھا ہے کہ مجرب کی قید کا مجھے کو ئی عمل یا د نہیں فرمایا کہ میں اس کام کا آدمی ہوں ہی نہیں میں نے کسی عمل کا بھی تجربہ نہیں کیا اور نہ کسی عامل سے آج تک حاصل کیا اگر مجرب کی قید سے نہ پوچھتے جومناسب سمجھتا لکھ دیتا ۔
(ملفوظ 388)حضرت عمرکے عارف کامل ہونے کی شان
ایک گفتگو کے سلسلہ میں فرمایا کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ کے عارف کامل ہونے کی شان اس سے معلوم ہوتی ہے کہ بعد فتح فارس کے جب وہاں کے خزائن حاضر کئے گئے
(اوریہ سلطنت بہت ہی مالدار تھی اور خزانہ اس کا برابرمحفوظ چلا آتا تھا ) اور وجہ اس کی یہ تھی کہ اس سلطنت پرکسی نے چڑھائی نہ کی تھی اورخزائن کو دیکھ کر حضرت عمررضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اے اللہ آپ کا ارشاد ہے : زین للناس حب الشھوات من النسآء والنبین والقناطیرالمقنطرۃ من الذھب والفضۃ ، ( خوش نما معلوم ہوتی ہے لوگوں کو محبت مرغوب چیزوں کی عورتیں ہوئی بیٹے ہوئے لگے ہوئے ڈھیر ہوئے سونے اور چاندی کے ) جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان چیزوں کی طرف میلان اور رغبت اوران کی محبت آپ نے طبعی طور پرنفوس میں رکھی ہے یہ ایک خاص تفسیر پرمبنی ہے کہ تزئین کا فاعل اللہ تعالٰی کو قرار دیا جاوے اور اس صورت میں یہ تزئین حکمت کے لئے ہوگی خواہ وہ حکمت کچھ ہی ہو اور جب یہ محبت طبعی ہے تو اس سے ہم بھی بری نہیں اور نہ اس کے ازالہ کی ہم دعاکرتے ہیں البتہ یہ ضرور دعا کرتے ہیں کہ اس کی محبت معین ہوجائے آپ کی محبت میں اللہ اکبر ان حضرات کی حقائق پرکیسی نظر تھی ۔
(ملفوظ 387)چھوٹے بچوں سے مشغول ہونے سے مریض کا دل بہلنا :
اصول طب کا ذکر تھا اس سلسلہ میں حضرت والا نے فرمایا کہ میں کہا کرتا ہوں کہ طب میں جہاں تفریح کی اور چیزوں کو مدون کیا ہے دوچیزوں کو مدون نہیں کیا ایک تو مال کا مالک بننا اور چھوٹے بچوں سے مشغول ہونا ایک طبیب بھی مجلس میں موجود تھے انہوں نے عرض کیا کہ شیخ بوعلی سینا نے لکھا ہے دق کے علاج میں کہ اس کو مال کثیر کا مالک بنادیا جاوے یہ بھی اس مریض کے اچھا ہونے کی تدبیر ہے فرمایا کہ یہ بھی لکھا ہے فرمایا واقعہ حکیم تھا ان چیزوں سے طبیعت کواور خیال کو قوت پہنچتی ہے اور خیال کو ایسے آثار میں بڑا دخل ہوتا ہے اس قوت خیالیہ پرایک حکایت یا د آئی سہارنپور میں ایک گنوارکا مقدمہ حاکم کے سامنے پیش ہوا جن کا نام ظہیر عالم تھا کہنے لگا ذرا ٹھہرجا میں نے دیوبند والے حاجی سے ترے واسطے ایک ( تویج ) تعویذ لکھوالیا تھا وہ میں باہر بھول آیا وہ لے آؤں تب پوچھیو کیا پوچھے گا حاکم اس وقت تک آزاد خیال کے تھے ایسی چیزوں کے یہ لوگ معتقد نہیں ہوتے حکم دیا جالے آدیکھیں ترے تعویز سے کیا ہوتا ہے وہ گنوار اجلاس سے باہر آیا اور اپنے کسی رفیق سے تعویذ لیا اور اس کو پگڑی میں رکھ کراجلاس پرحاکم کے سامنے حاضر ہوا اور کہا کہ دیکھ یہ رکھا ہے پگڑی میں اب پوچھ لے جو پوچھنا ہے اس نے اظہار لے کر اور اس کو بگاڑ کرمقدمہ اس شخص کے خلاف کرنے کے ارادہ سے فیصلہ لکھنا شروع کیا مگر فیصلہ لکھنے کے بعد جو اس کو بڑھتے ہیں دیکھا تو فیصلہ اس کے موافق لکھا ہوا پاتے ہیں اتنا بڑا تصرف ہوتا ہے خیال کا حاکم سخت متحیر ہونے اور دیوبند حاضر ہوکر حاجی صاحب کے سامنے اپنے پہلے خیال سے تائب ہوئے ۔
(ملفوظ 386)اپنے نفس کا معالجہ ضروری ہے
ایک لفافہ پرٹکٹ بالکل صاف تھا ڈاکخانہ کی مہر سے بھی بچ گیا تھا حضرت والا نے اس کو فورا چاک کرڈالا اور فرمایا کہ بعض لوگ تو استعمال کوجائز کہتے ہیں مگر میں کہتا ہوں کہ اگرجائزنا جائز کا بھی خیال نہ ہوتب بھی اپنے نفس کا تو معالجہ ضروری ہے ایسی جائز چیزوں سے بھی ناجائز کی عادت پڑتی ہے نفس کو اور میں توایسے دوبارہ انتفاع حاصل کرنے کو ناجائز سمجھتا ہوں ایسی باتوں سے عوام کی جرات بڑھتی ہے ایسی جزیات میں سخت احتیاط کی ضرورت ہے ۔
20 شوال المکرم 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم یک شنبہ
(ملفوظ 385) جیوہتیاں کوانسان ہتیا کی پرواہ نہیں
ایک گفتگو کے سلسلہ میں فرمایا کہ جتنے فرقے جیوہتیا پر معترض ہیں ان کو انسان ہتیا کی ذرہ برابر پرواہ نہیں ان کے یہاں سانپ بچھو بھنگا مچھر کیڑی مکوڑے سب کی حفاظت ہے اگر نہیں تو آدمی کی حفاظت نہ یں ۔
(ملفوظ 384)رعایا کی مصلحت ضروری ہے
فرمایا کہ آج کل لوگ حکومت کے بعض قواعد سے ناخوش ہیں اس کا اصلی سبب یہ ہے کہ ان قواعد کے تحت ہروقت روپیہ گھسیٹنے کی فکر میں رہتے ہیں رعایا کی مصلحت اوررعایا کی راحت کی ذرہ برابر پرواہ نہیں پہلے سلاطین میں یہ بات نہ تھی گواور قسم کے ظلم ہوں ۔
(ملفوظ 383)شریعت مقدسہ کے اصول
فرمایا کہ آج کل اکثر لوگ محل بے محل جوش میں کہہ دیتے ہیں کہ دین کے لئے جانیں دے دینی چاہئیں اس سے ہم بھی متفق ہیں بشرط یہ کہ قاعدہ سے ہو مراد قاعدہ سے شرعی قاعدہ ہے قاعدہ سے جان دینے میں ارمان نہیں ہوتا یہ تو اطمینان ہوتا ہے کہ محل میں جان صرف ہوئی اور بے قاعدہ اور بے اصول کس طرح دے دی جائے اس کے دینے کے لئے بھی تو شریعت مقدسہ نے اصول بیان کئے ہیں اور جب ہم کو معمولی معمولی باتوں میں احکام کا مکلف بنایا ہے تو اتنی بڑی چیز جان دینے کے باب میں کیسے آزاد چھوڑ دیا جاتا ۔
(ملفوظ 382) تبحر فی العلوم فرض ہونے میں حکمت
ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت نے ایک بار فرمایا تھا کہ آج کل تبحر فی العلوم قریب قریب عین ہے فرمایا جی ہاں وجہ اس کی یہ ہے کہ پہلے زمانہ میں عام لوگوں میں انقیاد اور بزرگوں پراعتماد زیادہ ہوتا تھا انکی تقلید علم و عمل کے لئے کافی ہوتی تھی اب یہ نہیں رہا تو پھراب کونسی صورت ہے حفاظت دین کی بس یہ حفاظت اسی میں ہے کہ شخص ضرویات کا درسی عالم ہو اس لئے ایسا نہ کرنے میں نہ تو خود دین کو سمجھ سکتے ہیں اور سمجھانے والے پراعتماد کرنے سے عار ہے تو اب دین کی حفاظت کی واحد صورت یہی ہے کہ ہرشخص اس قدر علم دین حاصل کرے کہ جس سے دین کو سمجھ سکے ورنہ آگے چل کراندیشہ ہے گمراہی میں پھنس جانے کا اس وجہ سے میں تبحرفی العلوم کو تقریبا فرض عین کہتا ہوں ۔

You must be logged in to post a comment.