حضرت والا نے ایک صاحب سے پانی کے لئے منگایا کٹورہ میں پانی زائد دیکھ کر فرمایا کہ اس کوکم کرکے لاؤ طبیعت اس قدر ضیعف ہے کہ زائد پانی ہونے کی وجہ سے طبیعت گھبراتی ہے تھوڑا سا بھی نہیں پیا جاتا دسترخوان پرا گر روٹی زائد آجائے توایک روٹی بھی راحت سے نہیں کھا سکتا اب بتلایئے بعضے انتظامات کی یہ بناء کیسے سمجھاؤں میرے اس مواخذہ کرنے پرکہ تکنے سے تکلیف ہوتی ہے کہتے تھے کہ یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ دیکھنے سے بھی تکلیف ہوتی ہے ۔
ملفوظات حکیم الامت جلد نمبر 4
(ملفوظ 380)اولیاء اللہ کے تذکرہ میں برکت
ایک گفتگو کے سلسلہ میں فرمایا کہ ایک آوارہ لڑکے کے متعلق اس کے والدہ کو میں نے مشورہ دیا ہے کہ اس کو بزرگوں کے حالات کی کتاب نزہتہ البسا تین پڑھنے کودے دی جائے اولیاءاللہ کے تذکرہ میں بڑی برکت ہوتی ہے اور میں نے یہ بھی کہدیا ہے کہ جو حکایت سمجھ میں نہ آوے اس کوچھوڑ دیا جاوے اس میں خوض نہ کیا جاوے اس میں خوض نہ کیا جاوے اس لئے کہ اس میں بعض حکایت ایسی ہیں کہ ظاہر نظر میں انکا مضمون شریعت معلوم ہوتا ہے پھر اس مشورہ کے متعلق یہ فرمایا کہ میں تو یہ چاہتا ہوں کہ مشقت نہ ہو اور اصلاح ہوجائے اوریہ طریقہ بزرگوں کی حکایتوں کے دیکھنے سے حاصل ہوجاتا ہے کہ ظاہر میں کوئی خاص مجاہدہ نہیں اوراندراندرسب کچھ اثر ہورہاہے فرمایا کہ مقبولین کے حالات دیکھنے اور پڑھنے کے بارہ میں حق تعالی بھی اپنے کلام پاک میں فرماتے ہیں وکلا نقص علیک من انباء الرسل مانشبت ید فوادک یعنی ہم آپ سے انبیاء کے ایسے قصے بیان کرتے ہیں جس سے آپ کے دل کو مضبوطی دیں فرمایا کہ نزہتہ البساطین میں ایک ہزار سے زیادہ حکایات ہیں تو جہاں ایک ہزار نشتر لگیں گے کہاں تک مادہ فاسد نہ نکلے گا ۔
( ملفوظ 379)تقریر کے وقت عزم راسخ :
فرمایا کہ میں جب تقریر کرتا ہوں اس وقت دل میں یہ عزم راسخ ہوتا ہے کہ مخاطب میں دین پیدا ہوجائے ۔
20 شوال المکرم 1350ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم یکشنبہ
(ملفوظ 378)جدید تعلیم یافتہ کو نصف تعطیلات ، اہل اللہ کی صحبت کا مشورہ
فرمایا کہ میں تو انگریزی کے جدید تعلیم یافتہ طلبا کے متعلق ایک رائے دیا کرتا ہوں کہ مختصر چھٹیاں اور تعطیلات جو ان کوتو وہ اپنے کھیل کود کے لئے رکھیں اوربڑی تعطیل کا نصف حصہ بھی کھیل کود میں صرف کریں اور نصف کسی اہل باطن اہل علم کی صحبت میں گزاریں اور جو کچھ وہ کہیں اس کو سنا کریں اگر اعتقاد سے بھی نہ سنیں تو انکار سے بھی نہ سنیں خلو ذہن کی ساتھ سنا کریں میرا تو یہ دعوٰٰی ہے کہ انشاءاللہ تعالٰی اس طرز سے چند روز میں ان کے قلب میں دین پیدا ہوجائے گا حضرت اس کی بڑی ضرورت ہے کہ آدمی مسلمان توہو اب تو اسی کے لالے پڑگئے کہ مسلمان بھی ہے یا نہیں اس میں ایمان بھی ہے یا نہیں بریلی میں ایک انگریزی دان لڑکا تھا بری صحبت سے اس کے عقائد خراب ہوگئے تھے میں بریلی گیا ہوا تھا ان کے دادا نے مجھ سے کہا کہ اس کو نماز پڑھنے کو کہہ دیجئے میں نے بدون کسی تمہید کے صاف لفظوں میں پوچھا کہ تم نماز کیوں نہیں پڑھتے کہا کہ میں اللہ تعالٰی کا قائل نہیں نماز کس کی پڑھوں وہ لڑکا ایک مسلم کالج میں تعلیم پاتا تھا میں نے اس لڑکے کے دادا سے کہا کہ آپ نماز کی تبلیغ کراتے ہیں یہ تو مسلمان بھی نہیں اس کو اول اسلام کی تعلیم کی ضرورت ہے ان بیچاروں کو یہ سنکر بے حد صدمہ ہوا اور مجھ سے مشورہ لیا کہ اب کیا کروں میں نے کہا کہ اس کو اس کالج سے اٹھا کر گورنمنٹ اسکول یا کالج میں داخل کرو ان کو تعجب ہوا کہ یہ کیا بات ہے اسلامی کالج میں تو یہ کافرہوا اور غیر اسلامی میں مسلمان ہوجاوے گا میں نے کہا کہ میں اس وقت تک اس کی حکمت نہ بتلاؤں گا غرض انھوں نے ایسا ہی کیا سو چونکہ اسلامی کالج میں سب ایک ہی مذہب کے تھے اس لئے آزادی کے ساتھ جوچاہتا تھا کیا سو چونکہ اسلامی کالک میں سب ایک ہی مذہب کے تھے اس لئے آزادی کے ساتھ ہوچاہتا تھا بکتا تھا اور گورنمنٹ کالج میں بہت سے غیر مسلم بھی تھے وہ اسلام پراعتراض کرتے تو قومیت کی محبت میں اس کو باگوار ہوتا ان کو جواب دیتا اس طرح اسلام کا اثر قلب میں پیدا ہوتا رہا اور چند روز میں پکا اور کٹر مسلمان ہوگیا یہ حکمت تھی اس صورت میں اورایک تدبیر تھی نہایت دقیق اور میں تو بحمد اللہ اکثر تدابیر ہی سے کام لیتا ہوں وجہ یہ کہ اول تو مجھ میں قوت باطنی ہے نہیں ہاں قوت بطنی تو ہے دونوں وقت پیٹ بھرکر کھا لیا لیکن میں کہتا ہوں کہ اگرقوت باطنی ہوتی بھی تو میں اس سے کام نہ لیتا اس لئے کہ یہ انبیاء علیہم السلام کی سنت نہیں مجال تھی کہ ابولہب اور انو جہل ایمان سے رہ جاتے اگرحضور قوت باطنی سے کام لیتے نیز عبدیت کے بھی خلاف ہے خدا پرچھوڑدینا چاہئے اور تبلیغ وتدبیراس تفویض کے خلاف نہیں کیونکہ اس کا حکم خدا تعالٰی ہی نے کیا ہے پھر فرمایا جی یہ چاہتا ہے کہ مسلمان مسلمان ہوں ہندو نہ ہوں دیکھیئے میں صرف یہ چاہتا ہوں نہ امارت کا مخالف ہوں نہ سلطنت کا مگر لوگ مولویوں کے متعلق نہ معلوم کیا کیا خیال پکائے بیٹھے ہیں کہ یہ مسلمانوں کو پستی سکھلاتے ہیں ۔
(ملفوظ 377)ہم ترقی کے دشمن نہیں
فرمایا کہ ہم کو ترقی کا دشمن کہا جاتا ہے حالانکہ ایسی دشمنی کو اپنی غرض کے لئے خود بھی پسند کرتے ہیں چنانچہ میں نے ایک صاحب سے سلسلہ گفتگو میں اس کی ایک مثال بیان کی تھی عجیب مثال ہے کہ باورچی آپ کا دس روپے کا ملازم ہے اس کو کسی شخص نے کہا کہ ہم تجھ کو بیس ورپیہ دیں گے تم ہمارے یہاں آجاؤ اوروہ اس کو قبول کرلے اور آپ کو معلوم ہوتو کیا کہیں گے آپ یہ ہی کہیں گے کہ بڑا ہی بے وفا تھا ہمارا کچھ بھی خیال نہ کیا اور اگر وہ انکار کردے اوراس دس روپیہ ہی پرقناعت کرے اور بعد میں اس واقعہ میں اس کی ترقی قبول کرنے پر آپ جفا اورترقی سے انکا ر کرنے پرخوش ہوئے سواگر علماء بھی رضائے حق کے واسطے ایسا ہی کریں تو ان پرکیوں الزام ہے یہ مثال سن کرہرمنصف پر بے حد اثر ہوگا اور بہت ہی خوش ہوگا (بشرط یہ کہ علماء بھی ایسے ہوں وقلیل ماہم ۔
(ملفوظ 376)اللہ والوں کی عجیب شان
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اللہ والوں کی شان ہی جدا ہوتی ہے ان کوکسی ظاہری شان وشوکت کی ضرورت نہیں ہوتی ان کے اندر سب کچھ ہے بہت س کمالات ان حضرات کے ایسے ہوتے ہیں کہ بیان میں بھی نہیں آسکتے اگرذوق اورفہم سلیم ہوتو وجدان ہی سے معلوم ہوسکتے ہیں اس پرمیں ایک شعر پڑھا کرتا ہوں ۔
خوبی ہمیں کرشمہ و ناز نیست ٭ بسیار شیوہ ہاست بتاں را کہ نام نیست
(سخن یہ ظاہری ناز وانداز ہی نہیں ہے حسینوں کے اندر بہت سی ادائیں ایسی ہوتی ہیں جوبیان میں نہیں آسکتی )
سوہم تم پرہنستے ہیں جیسا تم ہم پرہنستے ہو۔
ان کی تویہ شان ہوتی ہے جس کو فرماتے ہیں :
اے دل آں بہ خراب از مئے گگون باشی ٭ بے زرو بصد حشمت قارون باشی
اور فرماتے ہیں :
دل فریباں بناتی ہمہ زیور بستند دل برماست کہ باحسن خدا داد آمد
اور فرماتے ہیں :
نباشد اہل وطن درپے آرا یش ظاہر بنقاش احیتا جے نیست دیوار گلستان را
( اے دل بہتر ہے کہ شراب عشق میں مست رہو اور بغیر ظاہری دولت وثروت کے (عمدہ قلبی کی وجہ سے ایسے رہو کہ ) قارون کے برابر سینکڑوں خزانوں کے مالک ہو ) محبوبان مجازی تو بناؤ سنگھار کے محتاج ہیں ہمارا محبوب وہ ہے جس کو حسن حقیقی حاصل ہے ) ( اہل باطن ظاہری زیب وزینت کے درپے نہیں ہوتا ( جیسا کہ ) باغ کی دیوارکو رنگ وروغن کے پھول بوٹوں کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ اس پر تواصلی پھول کھلے ہوئے ہیں
(ملفوظ 375)عربی پڑھنے سے لیاقت
فرمایا میں تو کہا کرتا ہوں کہ اگرعربی دین کی غرض سے بھی نہ پڑھے تو دنیا ہی کے واسطے ضرور پڑھے اس سے اعلی درجے کی قابلیت پیدا ہوجاتی ہے مگر آجکل ہمارے ان کرتوں پاجاموں کو دیکھ کر لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ کیا جانتے ہوں گے یہ تو یونہی اول جلول ہیں اور ابگریزی لباس چاہے وہ گاڑھے ہی کا ہوکوٹ پتلون تو اس کو قابلیت کی دلیل سمجھتے ہیں اورہم ان سے یہ کہتے ہیں کہ آپ کے نزدیک یہ لباس عزت کے خلاف ہے اور ہمارے نزدیک وہ لباس دین کے خلاف ہے ۔ فانا نسخرمنکم کما تسخروں ہنسنے کا جواب یہ ہے ۔
(ملفوظ 373)بلا استصاب مصالح مشورہ دینا خلاف دین ہے :
فرمایا کہ ایک خط آیا ہے یہ صاحب اہل علم ہیں لکھا ہے کہ دنیاوی معاملات میں تکلیف دینے کو دل نہیں چاہتا تھا مگر چونکہ میں اپنے کو غلام بنا چکا ہوں اس لیے کوئی نقل وحرکت بلا مشورہ نہیں کرنا چاہتا فلاں معاملہ میں حضرت والا سے مشورہ درکار ہے (جواب ) بلا استیعاب مصالح مشورہ دینا خلاف دین ہے اور مجھ کو استیعاب حاصل نہیں اس لئے میں مشورہ نہیں دے سکتا ۔
(ملفوظ 374)احکام اسلام کی پابندی سے غیر مسلم اقوام پراثر
اس کا ذکر تھا کہ اگر مسلمان احکام اسلام کی پابندی پوری طرح کریں تو غیرمسلم اقوام پراس کا اثربہت زیادہ ہوتا ہے فرمایا ایک ماہواری رسالہ میں ایک انگریز کے رسالہ کا ترجمہ نکلا تھا میں نے اس میں حکایت دیکھی کہ وہ انگریز عرب کے کسی علاقہ میں سیاحت کے لئے گیا اور اس نے وہاں چند بدوی رہنمائی وغیرہ لے لئے ملازم رکھے جواس کے ساتھ گھوڑوں پر سوار ہوکر رہتے تھے اور کوئی کام بدویوں نے بغیر اس کی اجازت ایک دم گھوڑے روک لیے اس کو تعجب ہوا کہ بدون اس کی اجازت کے یہ کیا کیا دیکھا تو وہ سب اترکر کسی جگہ پانی جمع تھا وہاں پہنچے اور وضو کرکے صف بستہ کھڑے ہوکر نماز ادا کرنے لگے اس نے یہ منظر پہلی ہی بار دیکھا تھا ان کو دیکھتا رہا وہ انگریز لکھتا ہے کہ جس وقت میں نے ان کو اس حالت میں دیکھا ہے تو ان کی ایک عظمت میرے قلب میں پیدا ہوئی ادھر میں نے اپنے کو دیکھا کہ الگ کھڑا ہوں تو اس وقت میں ان کی صف سے الگ کھڑا ہوا ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے ایک معززجماعت کے سامنے ایک ذلیل آدمی کھڑا ہو بس یہ اول تاریخ تھی جس میں مجھ کو اسلام کے ساتھ محبت ہوئی اوراس کے بعد سے مجھ کو ان بدوؤں پرحکمرانی کرتے ہوئے شرم معلوم ہوتی تھی فرمایا یہ انگریز اس ورز سے محبان اسلام میں داخل ہوگیا گو مسلمان تو نہیں ہوا مگر اسلام کی محبت وقعت وعظمت اس کے قلب میں پیدا ہوگئی فرمایا کہ ایک دوسرا واقعہ ہے یہاں کے ایک رئیس بیان کرتے تھے کہ ریل کے سفر میں میرا ایک انگریز کا ساتھ ہوگیا میں نماز کے وقت پرنماز پڑھنے لگا وہ اس سے قبل بہت ہی آزادی سے کمر لگائے ہوئے بیٹھا ہوا اخبار دیکھ رہا تھا مگر مجھ کو نماز پڑھتے دیکھ کر اس نے پھرکمرنہیں لگائی نہایت ادب کے ساتھ پاؤں سمیٹ کر بیٹھ گیا انہی رئیس کا ایک دوسرے ہمراہی سفر انگریز کے ساتھ ایک واقعہ ہے کہ ان کو استنجے کی ضرورت ہوئی یہ ریل کے ڈبہ میں ٹہلتے ہوئے استنجا سکھلانے لگے فراغ کے بعد انگریز نے ان سےکہا کہ میں کچھ پوچھ سکتا ہوں انھوں نے کہا کہ ضرور کہنے لگا یہ طریقہ استنجا سکھانے کا کیا اسلام کی تعلیم ہے کہ سب کے سامنے اس طرح پراستنجا سکھایا جائے انہوں نے جواب دیا کہ یہ میرا فعل ہے اسلام کی تعلیم نہیں کہنے لگا مجھ کو بھی تعجب ہوا کہ اس طریق میں توایک قسم کی بے حیائی ہے اوراسلام نہایت مہذب مذہب ہے وہ ایسی بے حیائی کی تعلیم نہیں دے سکتا دیکھئے اس پر کس قدر اثرہوا ۔
(ملفوظ 372)عوام کی تحمل کی رعایت سے آزادی :
ایک صاحب نے تعویذ مانگا فرمایا کہ یہاں تعویذ لینے آئے ہوکیا پچھلی اذیتیں پہنچانا بھول گئے اب یہ چاہتے ہیں کہ یہاں آنے کو بھی منع کردوں کیا ایسی صورت نہیں ہوسکتی کہ کسی کے ذریعہ سے اپنا کام نکال لو اور مجھ معلوم بھی نہ ہو کہ کس کا کام ہے اب یہاں کیوں بیٹھے ہوکیا پچھلی یاد دلانے کو بیٹھے ہو مجھ کو تمہاری صورت دیکھ کرسب باتیں ستانے کی تازہ ہوگئیں فرمایا اگرکسی کے ساتھ تحمل کا برتاؤ کیا جائے تو وہ آگے کو بیٹھتا ہے جو شخص کسی کی رعایت کرے اس کو چاہیے کہ وہ بھی دوسرے کا خیال رکھے مگر آج کل لوگ رعایت کرنے سے لوگ آزاد ہوجاتے ہیں کیا صبر کرنے سے قلب سے اثر بھی مٹ جاتا ہے کیا سرخ رو ہوکر تعویذ مانگنے بیٹھے ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت نے تو راہ بھی بتلادی کہ کسی اورکے ذریعہ سے کام نکال لینا چاہیے فرمایا کہ میں اس کی بھی رعایت رکھتا ہوں کہ کسی کے کام میں خلل نہ ہو مگر لوگ میرے رعایت کا خیال نہیں رکھتے ۔

You must be logged in to post a comment.