ادائے رقوم مہر کی تقسیم کے سلسلہ میں جس کا ذکر اوپر آچکا ہے کہ اپنے والد صاحب مرحوم کے ازواج اربعہ کے مہر کے حصص مستحقین کو ادا کئے گئے فرمایا کہ میں نے کاندھلے والوں کو جو بفضلہ تعالٰی معزز اور ذی وسعت ہیں اور جن کا حصہ بہت ہی حقیر رقم تھی لکھا ہے کہ اس تھوڑی سی رقم کا قبول کرنا آپ لوگوں کی شان کے بلکل خلاف ہے لیکن اگر ادا نہ کرتا تو اور کیا کرتا اہل حقوق کو حق دینا تو ضروری تھا امید ہے کہ آپ ایک مسکین کی خاطر سے اس کو قبول فرمالیں گے جو آپ حضرات کی اور زیادہ وقعت اور عظمت کا سبب ہوگا اس کا متعلق ایک انتظام میں نے یہ کیا کہ ان صاحبوں کو براہ راست رقوم نہیں بھیجیں کہ طبعا زیادہ خجلت کا سبب ہوتا بلکہ مولوی زکریا صاحب مذہلوی مدرس حدیث مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور کے ذریعہ سے یہ مضمون اور رقم بھیج رہا ہوں آج سہارنپور منی آرڈرکرنے کا خیال ہے اور اگر کوئی صاحب جانے والے مل گئے ان کے ہاتھ بھیج دوں گا براہ راست اس لیے نہیں بھیجتا تاکہ لینے والے کو گرانی نہ ہوشرمائیں نہیں مجھے اس کا بھی خیال ہے کہ میری وجہ سے کسی پرگرانی یا بارنہ ہو ان باتوں پرمجھ کو لوگ وہمی کہتےہیں۔
شوال المکرم 1350ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم شنبہ
ملفوظات حکیم الامت جلد نمبر 4
(ملفوظ 370)بعد وفات روح کو قلق وحزن
ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت بعد مرجانے کے جسم کو قطع کرنے سے یا اس کے احراق سے کیا روح کوکوئی تکلیف ہوتی ہے فرمایا روح کا الم یعنی دکھ نہیں ہوتا البتہ قلق وحزن ہوتا ہے جیسے مثلا کسی کی رضائی بدن سے اتار کرجلادی جائے تو چونکہ اس سے ایک زمانہ تک ملابست رہ چکی ہے اس پر قلق اور رنج ہوتا ہے مگر ایسی تکلیف نہیں ہوتی چاہے پھاڑیئے چیریئے اسی طرح روح کو ایسی چیزوں سے کوئی تکلیف نہیں ہوتی ہاں قلق ضرور ہوتا ہے جس کی وجہ موانست ہے ۔
(ملفوظ 369)تبحرفی العلوم کا فرض ہونا
ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت نے آج کل کے غالب حالات پر نظرکرکے تبحر فی العلوم کو فرض عین فرمایا تھا جس سے مجھ کو تو ضروری تبحر کا بے حد شوق ہوگیا ہے کیا سہولت کے ساتھ کوئی صورت پیدا ہوسکتی ہے کہ وقت بھی زائد صرف نہ اور قابلیت بقدر ضرورت پیدا ہوجائے فرمایا کہ یہ کون مشکل ہے اس کی صورت یہ ہے کہ اگر کوئی شفیق استاد توجہ کرے تو اول ایک کتا ب ادب کی پڑھادے خواہ مفیدالطالبین ہی ہومگر اس طرح کہ اس میں صرف ونحو کے قواعد بھی ساتھ ساتھ جاری کراتا جاوے اور ایسے قواعد کچھ زیادہ نہیں ہیں پندرہ بیس ہوں گے جس سے صرف اتنا معلوم ہوجائے کہ اس کلمہ پرزبر کیون ایا زیرکیوں ہے اس کے بعد قرآن شریف کا ترجمہ اسی طرح ہو کہ اس میں بھی قواعد جاری کرائیں اور ایک کتاب حدیث شریف کی پڑھادی جائے مثلا مشارق الانور کہ بہت بڑی بھی نہیں اور ایک کتا ب فقہ کی جیسے قدوری اس کے بعد یا ساتھ ساتھ دو تین کتابیں صرف ونحو کی بھی پڑھادی جائیں اس سے مناسبت پیدا ہوکر ضروری کتا بوں کا مطالعہ بہت سہل اور آسان ہوجائے گا ۔
(ملفوظ 368) سیری کی مذمت
ایک صاحب کا تذکرہ ہوا فرمایا کہ کس ذوق سے تو لوگ تعلق پیدا کرتے ہیں اور کچھ نہیں لوگ سیر ہوتے ہیں اسی سیری کی مذمت میں کہتے ہیں ۔
مصلحت نیست مراسیری ازاں آب حیات ٭ ضاعف اللہ بہ کل زمان عطشی
(اوس آب حیات سے خدا کرے اوس آب حیات کی پیاس مجھے ہردم بڑھتی ہی رہے ) ۔
فرمایا اگر ولی طلب نہ ہوتا ظاہری نباہ ہی ہوتو یہ سہی پھرنباہ سے اکثر طلب بھی پیدا ہو فاتی ہے شرم آنا چاہے کہ صرار کرکے تو تعلق پیدا کیا دوسرا انکار کررہا تھا اب صعف تعلق پروہ کیا کہے گا یہی سمجھ کرنباہ کرے ۔
ملفوظ 367)کمال کی غایت
( ایک مضمون کے سلسلہ میں فرمایا کہ آج کل کمال کی غایت مقصودہ مال رہ گیا تمام کمالات کا خلاصہ یہی ہے ۔
(ملفوظ 366)مستقبل بعید کی فکر میں نہ پڑو
ایک صاحب نے حضرت والا سے کچھ مشورہ چاہا جس کا تعلق مستقبل بعید سے تھا فرمایا کہ میں نے تجربہ کیا ہے کہ آدمی کو ایسے مستقبل کے سوچ و بیچار میں نہ پڑنا چاہیئے یہ ایسا سلسلہ ہے کہ تازیست اس سے نجات مشکل ہے اگر آدمی اس کے پییچھے پڑے پاگل بن جائے بس راحت اسی میں ہے کہ جوواقع ہوتا جائے یا اس کا وقوع غالب ہواس کا حق ادا کرتا رہے
(ملفوظ 365)لیڈیوں کو ساحر فرمانا
فرمایا کہ میں تو لیڈیوں کو ساحر کہا کرتا ہوں بات کرنا ان سے غضب ہے بہت جلد دوسرے کو اپنا ہم خیال بنا لیتی ہیں اس فن میں کمال ہے ایک واقعہ ہے کہ ایک نیک بخت بی بی کی آنکھوں میں کچھ امراض پیدا ہوگئے تھے ان کو ہر چند سمجھایا گیا اور کئی سال تک سمجھایا گیا کہ ڈاکڑکو آنکھیں دکھلا دی جائیں شرعا جائز ہیں مگر بوجہ شرم و حیا کے منظور نہ کرتی تھیں اتفاق سے سلسلہ علاج ہی میں ان بی بی کا سفر لکھنؤ کا ہوا وہاں پر انہوں نے کہا اگر کوئی عورت ڈاکٹر کو آنکھ دکھلا دوں گی جب وہ چلی گئیں تب ان بی بی کی سمجھ میں آیا کہا کہ میں نے اب ڈاکٹر کو آنکھ دکھلانے کا ارادہ کرلیا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی پختہ اردہ کیا ہے کہ تما عمر میں کسی لیڈی سے نہ ملوں گی ان سے ملنا سراسر خطرناک ہے یہ جادو گرنیاں ہیں ان کی گفتگو سے میں اس قدر مغلوب ہوئی کہ رائے بدل دی ۔
(ملفوظ 364)حضرت شیخ سعدی کی حکمت
ایک مضمون کے سلسلہ میں فرمایا کہ شیخ سعدی علیہ الرحمتہ بڑے حکیم ہیں ہر معاملہ میں ان کا کلام موجود ہے حتی کہ سلطنت کے معاملات میں بھی رائے دیتے ہیں میرا تو خیال ہے کہ آج کل اہل حکومت شیخ ہی کی تعلیم اور تجربات کا اکثر حصہ لیے ہوئے ہیں جس پرعمل درآمد ہے اچھی بات پرکوئی بھی عمل کرے اس کا فائدہ پہنچتا ہی ہے اگر اہل حکومت مسلمان ہوتے تواور بھی نورعلی ہوتا ایک صاحب نے عرض کیا کہ شیخ علیہ الرحمتہ نے باوجود اس کے سلطنت نہیں کی مگر پھر بھی اس قدر تجربات بیان فرمائے کہ ورشن دماغ تھے جب اللہ کی اطاعت ہوتی ہے قلب میں ایک نور ہوتا ہے شیخ نے جس قدر سلطنت کی بقاء کی تدابیر بیان فرمائی ہیں نہایت حکیمانہ ہیں اگرایسی تدابیر حدود شریعت کے ماتحت اختیار کی جائیں کوئی حرج نہیں بلکہ ایک خاص برکت ہوتی ہے اور شریعت کے تجاوز کرنے سے فی الحال بے برکتی اور فی المآل زوال ہوتا ہے اور حاصل اکثر تدابیر کا یہ ہے کہ لا یخدع ( بصیغہ معروف ) ( کسی کودھوکہ نہ دے ) ولا یخدع ( بصیغہ مجہول ) کسی سے دھوکہ نہ کھاوے )۔
(ملفوظ 363) کوتاہ نظری اور کوڑ مغزی کی حد :
ایک صاحب کی غلطی پرمواخذہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ ایسی کوتاہ نظری اور ایسی کوڑمغزی کی بھی کوئی حد ہے پھر کہتے ہیں کہ ہم پرسختی کی جاتی ہے پہلے رنجیدہ کرتے ہیں پھر کچھ کہا جاتا ہے تو رنجیدہ ہوتے ہیں ایسوں سے تویہ ہی کہنا اسلم ہے کہ بس یہاں سے جاؤ ہم برے ہی سہی کون ان کوڑمغزوں کی چاپلوسی اورغلامی کرے غیرت کے بھی تو خلاف ہے میں تو اپنے متعلق کسی شبہ کو دور کرنا بھی غیرت کے خلاف سمجھتا ہوں جیسے بیٹی کے بارہ میں کوئی بیام والا کہے کہ سنا ہے کہ تمہاری بیٹی کافی ہے تو کیا وہ جواب میں یہ کہنے بیٹھے گا کہ کانی نہیں بہت حسین ہے بلکہ یہی کہے گا کہ وہ صرف کانی ہی نہیں اندھی ہے تم نہیں چاہتے تو کہیں اور جاؤ تو کیا طریق کی اتنی بھی وقعت نہ ہو دوسرا تو اعراض کرے اور ہم اس کوترغیب دیں لیکن جس چیز کی اصلاح فرض ہے وہاں تبلیغ ہرحال میں فرض ہے مگر تبلیغ کا رنگ اور ہے اس ترغیب کا رنگ اور جن میں وجدانی فرق ہے توایک کی نفی سے دوسرے کی نفی لازم نہیں آتی ۔
شوال المکرم 1350ھ مجلس خاس بوقت صبح یوم شنبہ
(ملفوظ 362)تربیت کا راز سمجھ نہیں آتا
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایسے ایسے بھی فہیم لوگ دنیا میں آباد ہیں یہاں پرایک صاحب آتا تھے یہ کہہ کر گئے ہیں کہ تربیت کے اس طرز کا بھید ہی سمجھ میں نہیں آتا مبتلایئے یہاں کون سے اسرار میں راز ہیں جو سمجھ میں نہیں آتے ۔

You must be logged in to post a comment.