(ملفوظ 361)ارشاد ماموں امداد علی صاحب :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ماموں امداد علی صاحب حکیمانہ دماغ رکھتے تھے گو مسلک میں ان سے ہمارا اختلاف تھا مگر بعضی باتیں بڑے کام کی فرمایا کرتے تھے چنانچہ ایک بار یہ فرمایا کہ میاں دوسروں کی جوتیوں کی حفاظت کی بدولت کہیں اپنی گٹھڑی نہ اٹھوا دینا واقع بڑے ہی کام کی بات ہے لوگ دوسروں کی جوتیوں کی حفاظت کی بدولت کہیں اپنی فکر نہیں کرتے جس سے دوسروں کی کوئی خفیف سی مصلحت تو محفوظ ہوجاتی ہے مگر اپنا غرور عظیم ہوجاتا ہے اور ممدوح ظریف بھی بہت تھے ایک مرتبہ روڑ کی قیام تھا بارش ہوکر ختم ہوئی تھی کیچڑ ہو رہی ہے اس طرح نہیں چلنا چاہئے اندیشہ گرجانے کا ہے وہ صاف فرماتے ہیں کہ میں گرنہیں سکتا اقلیدس کی قاعدہ سے چلتا شکل بنی روڑ کی ہی کلیہ بھی واقعہ ہے کہ ایک مولوی صاحب فرماتے ہیں کیوں صاحب کونسی شکل بنی روڑ کی ہی کلیہ بھی واقعہ ہے کہ ایک مولوی صاحب باہر سے مہمان آئے اور ایک مولوی صاحب وہاں ہی مقیم تھے اور دونوں خوب موٹے تھے دونوں کی توند نکلی ہوئی تھی ملاقات کے وقت دونوں نے معانقہ کیا تو ماموں صاحب فرماتے ہیں کہ مولانا یہ تومعانقہ نہیں ہوا مباطنہ ہوگیا یعنی پیٹ سے پیٹ مل گئے ۔

(ملفوظ 360)بخل لغوی

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں تو کہا کرتا ہوں کہ اتنا بخل محمود ہے کہ جس ہے آدمی انتظار کرسکے اور اپنے دل کو تشویش اور پریشانی سے بچانے کے لیے کچھ پیسے اپنے پاس رکھے بدون اتنے بخل کے انسان منتظم نہیں ہوسکتا اور یہ بخل لغوی ہے شرعی نہیں حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ آدمی نفس کے بہلانے کو کچھ نہ کچھ ضرور اپنے پاس رکھے ۔

(ملفوظ 359) واپسی قرض کی یاداشت میں تحریر

فرمایا کہ جولوگ بوقت مجھ سے کچھ قرض لے لیتے ہیں جب کوئی قسط اداا کرنے آتے ہیں تو ان کو پاس بیٹھا لیتا ہوں اور اپنی یادداشت میں وصول لکھ کر ان کو بھی دکھلا دیتا کہوں کہ دیکھو یہ وصولی یا بی لکھ لی ہے محض اس خیال سے کہ ان کو یکسوئی ہوجائے یہ خیال نہ رہے کہ کہ شاید وصول لکھنا یاد نہ رہے ۔

(ملفوظ 358)اہل حق کو اہل باطل سے جھگڑنے کا حق

فرمایا کہ ایک درویش سے میری گفتگو ہوئی انہوں نے کہا کہ اس آیت کا ترجمہ کیا جاوے ۔
لکل امۃ جعلنا منسکا ھم ناسکوہ فلا ینازعنک فی الامر ، مقصود یہ تھا کہ اس آیت میں کسی سے نزاع کی ممانعت ہے یعنی کوئی کسی سے تعارض نہ کرے جو صلح کا صاصل ہے میں نے کہا کہ لا یناز عنک فرمایا الا تنازعہم نہیں فرمایا تو اہل باطل کو اہل حق سے جھگڑا کرنے سے منع فرمایا گیا ہے اہل حق کو اہل باطل کے ساتھ جھگڑنے سے منع فرمایا اس پر شاہ صاحب خاموش رہ گئے اسی طرح میرٹھ میں ایک صاحب درویش شیخ الہی بخش صاحب رئیس میرٹھ کے خاندان کے پیر آئے ہوئے تھے والد صاحب اس زمانہ میں ان کے یہاں مختار ریاست تھے میں بھی اتفاق سے وہاں پروالد صاحب کے پاس گیا ہوا تھا ان درویش سے بھی ملنے گیا ان درویش کو یہ معلوم ہوا کہ یہ طالب علم ہے محبت سے بلا کر بٹھایا اور مثنوی کے اشعار کی شرح مولانا جامی کے یہ اشعار پڑھے :
چندا روز یکہ پیش از روز و شب ٭ فارغ از اندوہ و آزاد از طلب
متحد بودیم باشاہ وجود حکم غیریت بکلی محو ، بود
( ہم نے ہرامت کے واسطے ذبح کرنے کا طریق مقرر کیا ہے جہ وہ اس طریق پر ذبح کرتے تھے تو ان لوگون کو چاہئے کہ اس امر میں آپ جھگڑا نہ کریں ان لوگوں کو چاہئے کہ آپ سے جھگڑا نہ کریں آپ ان سے جھگڑا نہ کریں اس عالم نا سوت سے پہلے کیا اچھا زمانہ تھا کہ ہم بغیر کسی غم کے اور بغیر ضرورت طلب کے شاہ وجود کے ساتھ متحد تھے اور غیریت کا حکم بالطیہ محو تھا ) ان اشعار سے بزعم خود و حدۃ الوجود کو ثابت کرنا چاہا میں نے کہا کہ اس میں تو بودیم فرماتے ہیں ہستیم نہیں فرماتے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اب تغائر ہے تو اس سے تو وحدۃ الوجود کی نفی ہوئی بس مبہوت رہ گئے کچھ نہیں بولے اور اس تمام خاندان میں اس کی شہرت ہوگی مجھ کو خیال ہوا کہ شاید ان لوگوں کو ناگوار ہوگا اس لئے کہ ان کہ پیرہیں لیکنم عجیب بات ہے کہ اس کا عکس ہوا چنانچہ شیخ صاحب کے بتیجھے غلام محی الدین مرحوم جو کہ پر پہلو سے ریاست کے روح و روان تھے انہوں نے مجھ کو قصدا بلایا اور واقعہ کی تفصل پوچھی میں نے سب بیان کردیا تو سنکربہت خوش ہوئے اور کہا کہ خوب کیا اور میں نے بھی ان دوریش کے کہنے پراتنا جواب دیا مگر خود ابتدا نہیں کی اور نہ کوئی نے ادبی کی اور ان کے اشعار پڑھنے سے متاثر میں بھی ہوا مگر حدود شرعیہ کی حفاظت ضروری تھی اس لئے جواب دینا پڑا ۔

(ملفوظ 357)نیک ہونا اور بات ، فہیم ہونا اور بات

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بعض لوگ نیک تو ہوتے ہیں مگر ان میں فہم نہیں ہوتا نیک ہونا اور بات ہے فہیم ہونا اور بات ہے ۔

( ملفوظ 356 )حضرت شمس تبریز اور حاجی صاحب کی لسان

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ جی ہاں حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے علوم کی قدر حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے فرمانے سے ہی معلوم ہوتی ہے فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی اپنے مقبول بندوں کو ایک لسان عطا فرما تے ہیں جیسے شاہ شمس تبریز کی لسان مولانا رومی ہوۓ اور میری لسان مولوی محمد قاسم صاحب تھے یہ حضرات عجیب شان کے بزرگ تھے سلف کے نمونہ تھے اللہ کا بڑا فضل ہے کہ ان حضرات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا یہ ہی وجہ ہے کہ اور کوئ نظروں میں نہیں سماتا ان حضرات میں کوئ بات تو تھی ہی کہ ان کی صحبت سے گنوار لٹھ ایسے ہو جاتے تھے کہ بعضے علماء میں بھی وہ چیز نظر نہیں آتی ان حضرات کی صحبت جس کو نصیب ہو گئ اس کی حالت یہ حلت ہو گئ جس کو فرماتے ہیں َِ:
آہن کہ بپارس آشنا شد فی الحال بصورت طلا شد
(جو لوہا پارس کی پتھری سے چھو بھی گیا فورا ہی سونے کی شکل ہو گیا12 ۔)
مفتی الہی بخش حضرت سید صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے معتقد تھے کسی کے سوال پر مفتی صاحب نے فرمایا تھا کہ سید صاحب کے تعلق سے پہلے بھی قرآن وحدیث پڑھے ہوۓ تھے اور اب بھی وہی قرآن وحدیث پڑھتے ہیں مگر فرق یہ ہے کہ یہ قرآن وحدیث پہلے اور طرح نظرآتا تھا اب اور طرح کا نظرآتاہے ہے سو یہ چیز بزرگوں کی صحبت سے ملتی ہے مگر افسوس اتی بڑی چیز کو لوگ چھوڑے ہوۓ ہیں اور صحبت اختیار نہیں کرتے بڑا ناز ہے علم پر کہ ہم عالم ہو گۓ یاد رکھو بدون اپنے کو مٹاۓ کچھ نہیں ہوتا مٹانے کے یہ معنی نہیں کہ مٹا دو کہ ہم کچھ نہیں ب تک یہ بات نہ پیدا ہو سمجھ لو کہ دوسرے معنی کر فنا ہو یعنی برباد ہو کورے ہو کچھ نہیں ہو اب رہا وہ شبہ کہ وہ چیز کیا ہے جو بزرگوں کی صحبت سے نصیب ہوتی ہے اور اپنے کو ان کے سپرد کرنے سے ملتی ہے بات یہ ہے کہ یہ سمجھانے سے مطلق سمجھ میں نہیں آسکتی اگر سمجھایا بھی تو ایسا قصہ ہو جائے گا جیسے ایک اندھے حافظ جی کی حکایت ہے ٹیڑھی کھیر کی وہ اس طرح ہے کہ ایک حافظ جی تھے نابینا ان کی ایک لڑکے نے دعوت کی کہنے لگے کیا کھلاؤ گے اس نے کہا کہ کھیر اب گڑبڑ شروع ہوتی ہے اور غلطی میں ابتلاء ہوتا ہے حافظ جی نے پوچھا کہ کھیر کیسی ہوتی ہے اس نے کہا کہ سفید کہنے لگے سفید کسے کہتے ہیں ، اس نے کہا جیسے بگلا حافظ جی نے پوچھا بگلا کیسا ہوتا ہے ََََِ؟ اب وہ اس کو کیسے سمجھاتے ، اس نے سامنے بیٹھ کر اور ہاتھ موڑ کر سامنے کو کر دیا کہ ایسا ہوتا ہے حافط جی نے ہاتھ سے ٹٹول کر کہا کہ بھائی یہ تو بڑی ٹیڑھی کھیر ہے حلق سے نیچے کیسے اترے گی دیکھئے مناسبت نہ ہونے کی وجہ سے کس قدر حقیقت سے دور ہوتے چلے گئے یہ تو تھا بگلا اور لڑکا تھا پگلا دعوت کی صرف واحد صورت تھی طباق بھر کر لا کر حافظ جی کے سامنے رکھ دیتا کہ لو کھا کر دیکھ لو کہ کھیر کیسی ہوتی ہے ایسے ہی آپ گھبراتے ہیں مگر آپنے کو کسی محقق کے سپرد کر کے دیکھو وہ تم کو سختی میں نہ ڈالے گا کھیر کے طباق کی طرح تم پر طریق کو آسان کر دے گا جو بدون مشقت ہی حلق سے اترج جائے گی ۔

(ملفوظ 355)بزرگوں کے پاس بیٹھنے کی نیت

ایک صاحب کے سوال کے جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ بزرگوں کے پاس اس نیت سے بیٹھنا چاہے کہ جیسے یہ دیندار ہیں ہم بھی ویسے ہی ہوجائیں گے لیکن اس وقت دیں سے اتنی وحشت ہے کہ نیت توکیا کریں گے اس کے احتمال سے بھی ڈرتے ہیں چنانچہ میں الہ آباد گیا تھا اور وعظ بھی ہوتے مگر انگریزی اسکولوں کے بعض طلباء نے وعظ میں آنے سے اس لئے اجتناب کیا کہ ہم کو تو دنیا حاصل کرنا ہے کہیں وعظ سن کر ہم فلاں صاحب کی طرح نہ ہوجائیں یہ صاحب بالتزام وعظ میں آتے اورمتاثر ہوتے اب وہ ایک اسکول میں ہیڈ ماسڑ ہیں اور یہ ڈرایسا ہے جیسے ایک ڈوم نے یہ سن کرکہ چاند دیکھنے سے روزہ فرض ہوجاتا ہے یہ کہا تھا کہ میں چاند ہی نہ دیکھوں گا جو روزہ فرض ہو چنانچہ رمضان المبارک کا مہینہ آیا اس نے چاند دیکھا نہ روزہ رکھا اور گھر میں کوٹھے کے اندر گھ س کے بیٹھ گیا شب کو وہی متا ہگا جب دوچار دن گزر گۓ بیوی نے کہا کی یہ تو بڑی مصیبت ہے کہ میں کہاں تک یہ بھینس کا گوبر اوٹھاؤ گی اور گھر سے نکال دیا آخر جنگل میں پہنچا وہاں حاجت کا تقاضا ہوا اس سے فارغ ہو کر آبدست لینے کے لۓ تالاب پر پہنچا تو تلاب میں پانی کے اندر چاند نظر آ گیا کہتا ہے کہ میں تو تجھ کو دیکھتا نہیں تو آنکھوں میں روزہ فرض کرانے کیلۓ کیوں گھسا آتا ہے تو ایسا ہی ان طلبہ کا کہنا تھا کہ ہم وعظ اس لۓ نہیں سنتے کہ کبھی ہم بھی فلاں صاحب جیسے نہ ہو جائیں اس کی نظیر یہ ہے کہ حکیم کے پاس اس لۓ نہیں جاتے کہ کہیں تندرست نہ ہو جائیں اسی طرح یہ دنیا پرست مولوی لوگوں سے گھبراتے ہیں حالنکہ محقق اہل علم نا جائز نوکریاں تک چھوڑنے کو نہیں فرماتے کہ کہیں افلاس سبب نہ ہو جاۓ کفر کا کیونکہ اب تو معاصی ہی ہیں اور پھر کفر ہو گا پس جو معاصی وقایہ ہو کفر کا اس کو محقق مولوی چھوڑنے کو نہیں کہتے یہ تو نا تجربہ کار کام ہے محقق ایسا نہین کر سکتا یہ تو وہ بات ہو گی کہ چڑھ جا بیٹے سولی پر رام بھلی کرے گا بے علم واعظوں کی بدولت لوگ گڑبڑ میں پڑ گۓ ورنہ محقق کی یہ شان ہوتی ہے کہ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمۃ اللہ علیہ ایک زمانہ میں دس روپے کے ملازم تھے حاجی صاحب سے عرض کیا کہ اگر اجازت ہو تو نوکری چھوڑ دوں حضرت نے فرمایا کہ مولوی صاحب ابھی تو آپ پوچھ رہے ہیں یہ پوچھنا دلیل ہے تردد کی اور تردد دلیل ہے خامی کی اور خامی کی حالت میں ملازمت چھوڑنا موجب تشویش و پریشانی ہو گا جب پختگی ہو جاۓ گی رسے تڑا کر بھاگو گے غرض محققین کی یہ شان ہوتی ہے تم نے عطائ نسخے استعمال کۓ ہیں اس لۓ فن طب کو بدنام کرتے ہو کسی حازق کا نسخہ استعمال نہیں کیا جس سے حقیقت معلوم ہو جاتی َ۔

(ملفوظ 354) واقعہ دستار بندی حضرت حکیم الامت

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جب ہم لوگوں کو فراغ کے بعد مدرسہ سے سند ودستار ملنے کی تجویذ تھی ایک مرتبہ میں نے اورفارغ طالبعلموں نے حضرت مولانا یعقوب صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں عرض کیا کہ حضرت یہ معلوم ہوا کہ ہم لوگوں کو مدرسہ سے سند مل رہی ہے مگرہم اپنے کو اس کا اہل نہیں سمجھتے اس لئے اگر یہ موقوف کردیاجائے تو بہتر ہے ورنہ مدرسہ کی بدنامی ہے مولانا کو جوش آگیا فرمایا کہ کون کہتا ہے کہ اہلیت نہیں ہے اپنے اساتذہ کے سامنے ایسا ہی سمجھنا چاہئے ورنہ خدا کی قسم جہاں جاؤ گے تم ہی ہوگے پھر فرمایا کہ میں تواضع سے نہیں کہتا واقعہ ہے کہ علمی لیاقت کبھی حاصل ہی نہیں ہوئی مگر اپنے بزرگوں کی دعا کی برکت سے عمر بھرکہیں شرمندگی نہیں ہوئی حضرت مولانا پراس وقت ایک خاص حالت تھی نہایت ہی وثوق سے فرمایا تھا سوالحمد اللہ ساری عمربھی کبھی شرمندگی نہیں ہوئی نہ وعظ میں نہ مناظرہ میں نہ درس میں اللہ تعالٰی نے ہمیشہ غالب ہی رکھا مگر اس کے ساتھ ہی میری یہ طبعی حالت تھی اور میں اس کوبے تکلف کہہ سکتا ہوں کہ میں نے دینی طبقاط میں سے کسی کو ناراض نہیں کیا نہ علماء کو نہ مشائخ کو اگر ان سے ان کی رائے کے خلاف گفتگو بھی ہوئی تو اس طرح سے کہ ہوب کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا جس سے وہ بھی محبت کے ساتھ پیش آئے خلاصہ یہ ہے کہ دعا ئیں بہت لیں کسی قسم کے بزرگ ہوں کسی کو ناراض نہیں کیا ۔

(مفلوظ 353)امربالمعروف کے وجوب کی شرائط

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ امر بالمعروف کے وجوب کی دوشرطیں ہیں ایک تو یہ کہ مخاطب سے توقع ہو قبول کی اور کم ازکم کسی ضرر کا خوف نہ ہو اور ایک یہ کہ مخاطب کو اس کا علم نہ ہو اور اکثر یہی ہے کہ جہاں علم نہ ہو وہاں توقع ہوتی ہے قبول کی اور اگرعلم ہوتو اکثر ناگواری کا سبب ہوتا ہے

(مفلوظ 352)ریا کا علاج

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ ریا کا علاج یہ بھی ہے کہ ایسے کام کرڈالے جس میں لوگ ریا کار سمجھیں اور اس کو شرمندگی ہوکہ لوگ تجھ کو ریا کا سمجھ رہے ہیں جوشخص بجلی سے ڈرتا ہو اس کو جنگل میں جاکر بجلی کے سامنے کھڑا ہونا چاہیے خوف نکل جائے گا مگر اس علاج کے لئے شیخ کامل کی رائے کی ضرورت ہے ورنہ نفس کو بہانہ ریا کی تقویت کامل جائےگا ۔