ایک صاحب نے ایک شخص کے متعلق عرض کیا کہ حضرت سے وہ شخص سال بھرکے مرید ہونے کا ارادہ کررہے ہیں مگر یہ کہتے ہیں درخواست کرتے ہوئے خوف معلوم ہوتا ہے فرمایا کہ اس شخص کے قلب میں طریق کی وقعت اور عظمت ہے یہ بھی غنیمت ہے اس معاملہ میں ان لکھوں پڑھوں سے تو یہ گنوارہی اچھے ہیں ان کی جوبات ہوتی ہے بیساختہ اور سادگی سے اورخلوص لئے ہوئے ہوتی ہے حضرت مولانا گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ سے ایک شخص گاؤں کا رہنے والا مرید ہونے آیا حضرت نے جیسا طریقہ ہے بیعت کا معاصی سے توبہ کرائی اورنماز وغیرہ کی پابندی کا امر فرما دیا وہ کہتا ہے کہ مولوی جی جن باتوں سے تم نے توبہ کرائی ہے یہ کام تومیں کبھی کرتا بھی نہیں اور جو کرتا ہوں اس کی توبہ کرائی بھی نہیں حضرت نے دریافت فرمایا وہ کیا ہے کہتا ہے کہ میں افیم کھاتا ہوں فرمایا اچھا یہ بتلا کتنی کھاتا ہے اتنی میرے ہاتھ پررکھ دے اس ارشاد کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت حضرت کی بینائی نہ رہی تھی چنانچہ اس نے ایک گولی بناکر ہاتھ پررکھ دی حضرت نے اس کا ایک حصہ توڑ کر اس کودکھلایا کہ اتنی کھالیا کر پھر تھوڑے روز بعد اور کمی بتلادی جاوے گی اس کی وجہ یہ تھی کہ افیون کے دفعتہ چھوڑنے سے بہت تکلیف ہوتی ہے وہ کہتا ہے کہ جی جب توبہ کرلی پھراتنی اور اتنی کیسی اور ڈبہ افیم کا جیب سے نکال دور پھینک کرمارا کہ جا افیم میں نے تجھے چھوڑدیا اوراپنے گاؤں کو چل دیا گھر پہنچ کردست آنے شروع ہوگئے حضرت مولانا سے دعاء کے لئے کہلا کر بھیجا کرتا کہ میں اچھا ہو جاؤں کچھ عرصہ بعد تندرست ہوکر آیا اوربعد تعارف دو روپیہ حضرت کی خدمت میں پیش کئے بعد اصرار حضرت نے قبول فرمالئے کہتا ہے کہ مولوی جی روپئے تولے کررکھ لئے اوریہ پوچھا بھی نہیں کہ کیسے ہیں حضرت نے دریافت فرمایا اب بتلادے کیسے ہیں کہتا ہے کہ میں دو روپیہ ماہوار کی افیون کھاتا تھا اس کے چھوڑ دینے پرنفس بڑا خوش ہوا کہ اب دو روپیہ ماہوار بچا کریں گے بڑا فائدہ ہوا میں نے کہا کہ تجھے خوش نہ ہونے دوں گا یہ دو روپے اپنے پیر کو دیا کروں گا اب یہ اپنی زندگی تک دیا کروں گا میں کہتا ہوں کہ اس دقیقہ کی طرف شیخ کامل کا ذہن پہنچے تو پہنچے نفس کے کید خفی کو کیسا سمجھا اور اس گنوار نے کیسے خلوص کے ساتھ توبہ کی تکلیف کا نام تک نہیں سلف میں البتہ بڑے بڑے لوگوں کی ایسی نظیریں موجود ہیں مثنوی مولانا رومی می ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک یہودی پربڑی جدوجہد کے بعد غلبہ پایا اوراس کے سینے پرچڑھ کربیٹھ گئے تلوار سے اس کا کام تمام کرنا چاہتے تھے کہ اس نے آپ کے منہ پرتھوک دیا آپ چھوڑ کرالگ ہوگئے اس یہودی کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی اس کے دریافت کرنے پر فرمایا کہ ہمارا جو کام بھی ہوتا ہے اللہ کے واسطے ہوتا ہے نفس کے واسطے نہیں ہوتا جب تک تجھ کو پچھاڑا اور تلوار تیرے قتل کوا ٹھائی یہ سب اللہ کے لئے تھا جب تونے منہ پر تھوک دیا تو ایک نیا غصہ پیدا ہوا اس لئے شبہ پیدا ہوگیا کہ اب کہیں اس کا قتل نفس کے واسطے نہ ہو اس لئے چھوڑدیا وہ یہودی ایمان لے آیا اب بھی اللہ کے بندے مخلص ہیں گو کم سہی ابھی کا واقعہ ہے کہ یہاں ایک مسجد جولا ہوں کے محلہ میں ہے وہاں کے مہتمم کی درخواست پرکہ وہ بھی جولا ہے ہی ہیں اور غریب آدمی ہیں آٹھ روپیہ میں نے مسجد کی مرمت کی مد میں دیئے اور یہ کہ دیا کہ فی الحال اتنا ہی انتظام ہوسکا بقیہ کا کچھ اور انتظام کرلیا جاوے انہوں نے اس میں سے سات ورپیہ رکھ لئے اور ایک روپیہ واپس نہ کرتے بعض طبیعتیں سلیم ہوتی ہیں ابوالحسن نوری ایک بزرگ ہیں ایک بار دریا کے کنارے کنارے جارہے تھے دیکھا کہ ایک کشتی سے شراب کے مٹکے اتررہے ہیں معتصم باللہ کا زمانہ تھا اس کے لئے وہ مٹکے آئے تھے مگراس اطلاع کے بعد بھی عصا لے کرمٹکے توڑنے شروع کئے مٹکے دس تھے ان میں سے نو تو توڑڈالے اورایک چھوڑ دیا متصم باللہ کو اطلاع ہوئی یہ بزرگ بلوائے گئے معتصم بااللہ نے دریافت کیا کہ آپ نے مٹکے توڑے کیا آپ محتسب ہیں فرمایا کہ محتسب ہوں کہا کس نے محتسب بنایا فرمایا جس نے تم کو بادشاہ بنایا پوچھا احتساب کی سند فرمایا یہ آیت سند ہے یبنی اقم الصلوٰۃ وامربالمعروف وانہ عن المنکر واصبر علی مآاصابک دریافت کیا کہ پھر آپ نے نومٹکے توڑے ایک چھوڑ دیا اس کی کیا وجہ فرمایا کہ نومٹکے توڑنے تک حلوص رہا دسویں پر قلب میں عجیب پیدا ہوگیا تھا کہ ہم بھی ایسے ہیں کہ کسی سے نہیں ڈرتے چونکہ ہمارا ہرکام اللہ کے واسطے ہوتا ہے نفس کے لئے ایک کام بھی نہیں ہوتا اس لئے ایک مٹکا چھوڑ دیا یہ سن کر معتصم باللہ پرکچھ ایسی ہیت طاری ہوئی کہنے لگا کہ میں آج سے آپ کو باقاعدہ محتسب بناتا ہوں دیکھ لیجئے ان بزرگ کا جہاں ذہن پہنچا اس گاؤں والے کا ذہن جس نے افیم کھانے سے توبہ کی تھی وہاں تک پہنچا یہ ہیں وہ علوم جن کے متعلق فرماتے ہیں :
بینی اندر خود علوم انبیاء ٭ بے کتا ب وبے معید و اوستاد
( بیٹا نماز پڑھا کراور اچھے کاموں کی نصیحت کیا کر اور برے کاموں سے منع کیا کر اور تجھ پرجو مصیبت واقع ہو ، اس پر صبر کیا کرتم اپنے اندر بغیر کسی مدد گار اور استاد کے انبیاء علیہماالسلام جیسے علوم کا مشاہدہ کروگے ) ۔
ملفوظات حکیم الامت جلد نمبر 4
(مفلوظ 350 )والد مرحوم کی ادائیگی حقوق کے لئے کاوش :
فرمایا اہل حقوق کا حق پہچانے کی کوشش کررہا ہوں یہ وقت تھا کہ اپنے والد صاحب مرحوم کی چاربیبیوں کا حصہ مہران کے ورثہ کو پہنچانے کا اہتمام کیا جارہا تھا کسی ملفوظ میں اس کی تفصیل بھی ہوچکی ہے جی چاہتا ہے کہ جلد سے جلد پہنچ جائے جتنی جلد حق پہنچ جائیں اتنی ہی جلد طبیعت ہلکی پھلکی ہوجائے گی حق تعالٰی کی طرف سے غیب سے امداد اس میں ہورہی ہے ذرائع ایسے پیدا ہورہے ہیں کہ مجھ پرکوئی ذرہ برابر گرانی نہیں اور برابر اہل حقوق کو ان کے حق پہنچ رہے ہیں ۔
(ملفوظ 349)حیات المسلمین پرعمل سے فلاح دارین ہوگی
فرمایا میں نے مسلمانوں کے لئے کافی انتظام کردیا ہے فلاں دنیا کا بھی اورفلاں دین کا بھی یعنی رسالہ حیات المسلمین میں سب کچھ لکھ دیا ہے اگر اس پر عمل کریں انشاءاللہ دین ودنیا کی فلاح اس میں موجود ہے فرمایا کہ ریل کے سفر میں ایک گنوارکو کہتے سنا تھے بڑے ہی کام کی بات کہہ رہا تھا کہ نیک رہو اور ایک رہو تو حیاۃ المسلمین میں نیک ہونے کا راستہ بتلا دیا ہے اور صیانہ المسلمیں میں ایک ہونے کا راستہ بتلا دیا ہے اب عمل کرنا یہ لوگوں کی ہمت پرہے اور صورت اس کی بہت سہل ہے وہ یہ ہے کہ ہرجگہ پردس دس آدمی ہم خیال ہوکر پنچایت کی صورت بنا لیں اور کام شروع کردیں انشاءاللہ تعالٰی دس ہی آدمی کے ہم خیال ہوجانے سے ساری بستی پراثرہوگا بس اتناعمل کافی ہے پھر جو کام بھی جس سے لینا چاہیں گے کوئی انکار نہ کرے گا صیانہ المسلمین کا حاصل یہی ہے باقی جو مبلغ و واعظ ہیں ان کے بس کا یہ کام نہیں وہ تو صرف طریقہ بتلاسکتے ہیں اور ترغیب دے سکتے ہیں یہ انتظامی کام مقام لوگوں کےکرنے کا ہے کہ وہ جماعتیں بنا کر کام کرتے رہیں اورمبلغ وقتا فوقتا پہنچ کر عام لوگوں کو نصائح کرتے رہیں اس کی برکت سے انشاءاللہ تعالٰی چند روز میں مسلمانوں کی حالت درست ہوسکتی ہے فلاح اور بہبود کا سہران کے سربند سکتا ہے البتہ یہ ضرور ہے کہ کام کرنے والے مخلص ہوں یہ نہ کہ غیر مخلص اول ہی میں گھس جائیں ورنہ پھر یہ ہوگا کہ صدر میں ہوں دوسرا کہے گا میں ہوں اگرمخلص حضرات کام کریں گے انشاءاللہ تعالٰی کامیابی ہوجائے گی اس لئے کہ جتنی ضرورتیں اس وقت مسلمانوں کو ہیں اس رسالہ میں سب ہیں صرف عملی صورت کام شروع کرنے کی ضرورت ہے لیکن اگرمسلمان کچھ کرنا ہی نہ چاہیں تواس کا میرے پاس کیا علاج ہے ۔
18 شوال المکرم 1350ھ مجلس بعد نماز جمعہ
(ملفوظ 348) حضرت والا کا عفو وحلم
ایک صاحب کا ذکر فرمایا کہ یہ فلاں مولوی صاحب کے صاحبزادے ہیں ایک سنگین معاملہ میں پھنسے ہوئے ہیں یہاں پردعاء اور ایک عہدہ دارسے سفارش کے لئے آتے تھے میں نے دعا سفارش دونوں کردیں سفارش میں یہ لکھ دیا کہ آپ کو بعد تحقیقات صحیح جوواقعہ کا علم ہو اس عمل اور اتنا اورلکھ دیا کہ میرے پیر بھائی کے بیٹھے ہیں یہ میں نےلکھ کر ان کو دکھلا بھی دیا کہ اگر یہ کافی ہوتو دیکھ لیں ورنہ اورمضمون بدل دوں کہنے لگے بہت کافی ہے بہت زیادہ ہم لوگوں کو گالیاں دینے والے یہ صاحب تھے مگر یہ انتقام کا موقعہ تھوڑا ہی تھا بلکہ امداد کا مو قعہ تھا سو میں نے دعا بھی کی اور سفارش بھی کی اللہ تعالٰی نے ان نجات دی سخت پریشان تھے ۔
(ملفوظ 347)ستانے کا تعویذ :
ایک شخص نے بہت ہی پست آواز سے تعویذ مانگا فرمایا کہ زور سے بولو تاکہ میں سن لوں اس طرح پربولنا کہ دوسرا سن ہی نہ سکے کہاں سے سیکھا ہے اس نے پھر دوبارہ عرض کیا مگر قریب قریب اس ہی لہجہ میں فرمایا کہ میں نے اب بھی نہیں سنا تیسری مرتبہ میں بلند آواز سے عرض کیا ستاؤ کا تعویذ چاہے فرمایا بندہ خدا اول ہی دفعہ میں اس طرح کیون نہ بولا تھا پھر فرمایا جب جن تمہیں ستاتا ہے اور تم مجھے ستاتے ہوتو جن کے تعویذ کے ساتھ ایک تعویذ تمہارے لئے بھی چاہئے تاکہ تم بھی کسی کو بہ ستاؤ ۔
( ملفوظ 346 )مسلمان کی پہچان تو ڈاڑھی سے ہوتی ہے :
دو شخص تعویذ کے لئے حاضرہوئے حضرت والا ان لوگوں کی صورت دیکھ کر یہ امتیاز ن فرماسکے کہ یہ مسلمان ہیں یا ہندو اس لئے حضرت والا کا معمول یہ ہے کہ اگر مسلمان ہوں تو تعویذ عطا فرماتے ہیں اور ہندوؤں کو احتیاطا فرمایا کرتے ہیں کہ کچے سوت کی چنیچلی لے آؤ گنڈا بنادیا جائےگا اور ا ثر میں کچھ فرق نہیں پڑتا لہذا ان شخصوں سے یہ ہی فرمایا کہ پانی لے آؤ پڑھ دوں گا اور ایک سوت کی چنچیلی لے آؤ گنڈا بنادوں گا جب وہ چلے گئے فرمایا کہ آج کل بڑی آفت ہے ہندو مسلمانوں میں امتیاز نہ رہا ایک سی صورت ایک لباس کس طرح پہچانا جائے داڑھی منڈانے کا ایسا عام رواج ہوگیا ہے کہ جیسا داڑھی رکھنا شعار اسلام تھا ویسا ہی بعض مقامات میں داڑھی منڈانا شعار اسلام ہوگیا ہے اس کے متعلق ایک حکایت یا د آئی سہارنپور میں ایک صاحب تھے جنکی بڑی داڑھی تھی وہ ہندوستان سے شام میں گئے تھے بڑی داڑھی کی وجہ سے بیچارے پکڑے گئے معلوم یہ ہوا کہ وہاں داڑھی رکھنا علامت ہے یہودی ہونے کی اور داڑھی منڈانا یا کٹانا علامت ہے مسلمان ہونے کی جب شام میں یہ حالت ہے تو رات میں نہ معلوم کیا ہوگی اس میں لفظی صنعت ہے مراد رات سے دارالکفر ہے جہاں ظلمت ہی ظلمت ہو پھر فرمایا اب تو یہ حالت ہورہی ہے کہ اس حالت کو دیکھ یہ شعر یا د آتا ہے :
اے بسرا پردہ یثرب بخواب ٭ خیز کہ شد مشرق ومغرب خراب
( اے وہ ذات جو مدینہ منورہ میں استراحت فرمارہے ہیں اٹھئے کہ مشرق ومغرب خراب ہورہے ہیں )
(ملفوظ 345)چند واقعات بچپن حضرت حکیم الامت :
فرمایا کہ بچپن میں ایسے ایسے کھیل سوجھتے تھے ایک قصبہ چرتھاول ہے وہاں پربڑی ہمشیرہ کی شادی ہوئی تھی جن کا اسی زمانہ میں انتقال بھی ہوگیا اور تائی صاحبہ بھی وہیں کی تھیں اس وجہ سے سب لوگ مرد وعورت ہم لوگوں سے بہت محبت کرتے تھے ان کا بڑا کنبہ تھا ایک بہت بڑی حویلی ہے جو پخن کا محل کہلاتا تھا اس میں سب رہتے بہت سے بچے اور بہت سی عورتیں تھیں ایک روز سب لڑکوں اور لڑکیوں کے جوتے جمع کرکے ان کو برابر رکھا اور ایک جوتے کو سب کے آگے رکھا وہ گویا کہ امام تھا اور رنگ کھڑے کرکے اس پرکپڑے کی چھت بنائی وہ مسجد قراردی یہ کھیل تھا ایک اور کھیل یا د آٰیا ایک مرتبہ میرٹھ میں ایسا ہوا کہ بارش کے ایام تھے مگر کبھی کبھی ترشح بھی ہوتا تھا باہر صحن میں لیٹا کرتے تھے والدہ صاحبہ کا انتقال ہوگیا تھا ہم لوگ والد صاحب کے پاس رہتے تھے تین چار چارپائیاں برابر بچھی ہوئی تھیں والد صاحب کی اور ہم دونوں بھائیوں کی میں نے رسی لےکر سب کے پائے ملا کر خوب کس کرباندھد دیدیئے اور پڑکرسوگئے پھروالد صاحب بھی آکرلیٹ گئے اتفاق سے بارش آئی تو والد صاحب اٹھے اورہم کو بھی اٹھایا بچپن کی نیند تھی ہوں ہوں کرکے پھرسو گئے والد صاحب جھنائے نہیں اٹھتے تو پڑا رہنے دیا اور اپنی چار پائی گھسیٹی اب وہاں تینو چارپائیاں ایک چلی آرہی ہیں بے حد غصہ ہوئے اور فرمایا کہ ایسی ایسی حرکتیں کرتے ہیں اب سب بھیگ رہے ہیں چاقو تلاش کرکے لائے اور ان رسیوں کو کاٹا تب وہاں سے چارپائیاں اٹھ سکیں صحیح تو یاد نہیں کہ اس حرکت پرکوئی چپت لگایا نہیں ایک اور کھیل یا د آٰیا یہ بھی میرٹھ کا واقعہ ہے دیوالی کے روز شب کے کوجودوکانوں کے سامنے چراغ جلتے رکھدیئے جاتے تھے ہم دونوں بھائی کئی سال تک ایسا کرتے کہ رومال ہاتھ میں لے کر ایک طرف سے بجھاتے ہوئے چلے گئے اور واپسی میں دوسری طرف کے بجھا دیئے مگر کوئی کچھ نہیں کہتا حالانکہ ہماری کوئی حکومت نہ تھی مگر والد صاحب کا لحاظ تھا حتیٰ کہ برا تک نہیں مانتے تھے فرمایا ایک مرتبہ میرٹھ میں میاں الہی بخش صاحب مرحوم کی کوٹھی میں جو مسجد تھی سب نمازیوں کے جوتے جمع کرکے اس کے شامیانہ پرپھینک دیئے نمازیوں میں غل مچا کہ جوتے کیا ہوئے ایک شخص نے کہا کہ یہ لٹک رہے ہیں مگر کسی نے کچھ نہیں کہا یہ خدا کا فضل تھا باوجودہ ان حرکتوں کے اذیت کسی نے نہیں پہنچائی وہ ہی قصہ رہا جیسا کسی نے کہا ہے :
تم کوآتا ہے پیار غصہ ٭ ہم کو غصہ پر پیار آتا ہے
یہ سب اللہ کی طرف سے ہے ورنہ ایسی حرکتوں پرپٹائی ہوا کرتی ہے فرمایا کہ ایک صاحب تھے سیکری کے ہماری سوتیلی والدہ کے بھائی بہت ہی نیک اور سادہ آدمی تھے والد حاحب نے ان کو ٹھیکہ کے کام پررکھ چھوڑا تھا ایک مرتبہ کمریٹ سے گرمی میں بھوکے پیا سے پریشان گھر آئے اور کھانا نکال کرکھانے میں مشغول ہوئے گھرکے سامنے بازار ہے میں نے سڑک پرسے ایک کتے کا پلہ چھوٹا سا پکڑکر گھر آکر ان کی دال کی رکابی میں رکھ دیا بیچارے روٹی چھوڑ کر کھڑے ہوگئے اور کچھ نہیں کہاں جہاں اس قسم کی کوئی بات شوخی کی ہوتی تھی لوگ والد صاحب کا نام لے کر کہتے کہ ان کے لڑکوں کی حرکت معلوم ہوتی ہے مگر کوئی کچھ کہتا نہ تھا اوران شوخیوں پرکبھی والد صاحب کو غصہ آتا تو بھائی کو زیادہ مارتے اورکوئی پوچھتا تو فرماتے کہ سکھلاتا یہ ہی ہے حالانکہ یہ بات واقع کے خلاف ہوتی تھی میں خود بھی ایسی حرکتیں کرتا تھا مگر مشہور یہ ہی تھا کہ یہ سکھلاتا ہے ایک مرتبہ تائی صاحبہ نے والد صاحب سے فرمایا کہ بھائی تم چھوٹے ہی کو کیوں مارتے ہو حالانکہ دنگا دونوں ہی کرتے ہیں فرمایا دو وجہ ہیں ایک تو یہ کہ سبق یاد کرلیتا ہے میرے متعلق فرمایا اس لئے یہ پیارا معلوم ہوتا ہے اور ایک یہ کہ یہ خود نہیں کرتا چھوٹا سکھلاتا ہے فرمایا میں ایک روز پیشاب کر رہا تھا بھائی صاحب نے آکر میرے سرپر پیشاب کرنا شروع کردیا ایک روزایسا کہ بھائی پیشاب کررہے تھے میں نے ان کے سرپرپیشاب کرنا شروع کردیا اتفاق سے اس وقت والد صاحب تشریف لے آئے فرمایا یہ کیا حرکت ہے میں نے عرض کیا ایک روز انہوں نے میرے سرپر پیشاب کیا تھا بھائی نے اس کا بلکل انکار کردیا مختصرسی پٹائی ہوئی اس لئے کہ میرا دعوٰی ہی دعویٰ رہ گیا تھا ثبوت کچھ نہ تھا اورمیرے فعل کا مشاہدہ تھا غرض جوکسی کو نہ سوجھتی تھی وہ ہم دونوں بھائیوں کو سوجھتی تھی بھائی صاحب بچپن میں مجھ سے کہا کرتے تھے کہ ہم ایک کرسی پربیٹھے ہوں گے سامنے میز ہوگی اور پکار پکار کرکہتے ہوں گے کہ او فلاں او فلاں نے مراد حکومت تھی اورتم ایک چٹائی پربیٹھے ہوگئے دوچار لڑکے سامنے ہونگے ایک قمچی ہاتھ میں ہوگی مطلب یہ تھا کہ لڑکے پڑھاؤ گے مگر ایسا ہونے کے بعد ان ہراس فرق کا یہ اثر ہواکہ اب ان کو یہ حسرت ہوا کرتی تھی کہ افسوس مجھکو والد صاحب نے علم دین کیون نہیں پڑھایا اور مجھ کو بحمداللہ کبھی یہ حسرت نہیں ہوئی کہ والد صاحب نے مجھ کو علم دنیا کیوں نہیں پڑھایا ۔
(ملفوظ 344)حضرت حاجی صاحب فن طریقیت کے امام تھے :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ہمارے حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ اس فن کے امام تھے حدیث شریف میں آیا ہے الغیبۃ اشد من الزنا یہ تو مسلم ہے کہ احکام میں متعدد حکمتیں ہوتی ہہیں چنانچہ اس کی ایک حکمت تو مشہور ہے وہ یہ کہ زنا حق اللہ ہے اور غیبت حق العبد ہے اور ایک حضرت نے اپنے علوم موہوبہ سے ایک مرتبہ بیان فرمائی وہ یہ کہ غیبت گناہ جاہی ہے اور زنا گناہ باہی ہے یعنی منشاء غیبت کا تکبر ہے جوبعد غیبت کے بھی باقی رہتا ہے اور اسی لئے اکثر غیبت کرنے والے کو مذمت نہیں ہوتی ہے اور اپنے کو گنہگار نہیں سمجھتا بخلاف زنا کرنے والے کے کہ اس کو مذمت نہیں ہوتی ہے اور اپنے گنہگار نہیں سمجھتا بخلاف زنا کرنے والے کے کہ اس کو ندامت بھی ہوتی ہے اور اپنے کو گنہگار بھی سمجھتا ہے سبحان اللہ کیا ٹھکانا ہے ان علوم موہوبہ کی لطافت کا اور جوحکمتیں خود منصوص ہیں وہ ان واردات سے بھی زیادہ لطیف ہیں ۔
17 شوال المکرم 1350ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم پنج شنبہ
(ملفوظ 343)طریق میں دوچیزوں کا تزکیہ :
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ طریق بہت ہی سہل ہے مجھ جیسے نادان آدمی نے جب اس کو سمجھ لیا پھر کیا مشکل رہا اب میں اس کوسہل عنوان سے سمجھاتا ہوں کہ اس طریق کا حاصل نفس کا تزکیہ ہے اور جس چیز سے تزکیہ کیا جاتا ہے وہ دو چیزیں ہیں شہوت اور کبر اوران کا علاج کامل کی صحبت ہے کیونکہ وہ اس کنارے سے اس کنارے لے جاکر کھڑا کردیتا ہے طالب کاکام صرف یہ ہے کہ اپنے کو اس کے سپرد کرکے وہ جوتعلیم کرے اس کو بجالائے اس میں سر موفوق نہ کرے اسی کو مولانا فرماتے ہیں:
قال رابگذار مرد حال شو ٭ پیش مردے کاملے پا مال شو
آج کل خرابیاں پیدا ہورہی ہیں یہ ساریاں خود رائی کی ہیں خودرائی بڑی ہی مضر چیز ہے فرماتے ہیں
فکرورائے خود ودر عالم رندی نیست ٭ کفرست دریں مذہب خود بینی وخود رائی ( اپنی رائے اور فکر عالم رندی میں بلکل چھوڑنے ضروری ہیں خود بینی اورخود رائی اس راہ میں مثل کفر کے ہیں )
(ملفوظ 341)مخالفین کے قلوب میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جوحضور علیہ الصلوۃ والسلام کے غلام ہیں وہ تو میں ہی مگر جومخالف ہیں ان کے قلوب میں بھی حضورکی عظمت ہے اگرکوئی مخالف شخص نبوت کا بھی مصدق تصدیق کرنے ولا ) نہ ہوتو اور کمالات اور عادات واخلاق حضور کے ایسے ہیں کہ ان کا تو انکار ہو ہی نہیںسکتا ۔
فضولیات میں وہ مبتلا ہیں جن کو عاقبت کی فکر نہیں کرنی چاہئے اپنی خیر منانا چاہئے دوسروں کے متعلق نہ اس کو مشورہ کی ضرورت نہ فتوٰی حاصل کرنے کی ضرورت اسکو ایک مثال سے سمجھئے ایک شخص پرپھانسی والے کے پاس جائے کہ مجھ کو بچاؤ اور وہ اس کے ساتھ ہوکہ اس کے بچانے کی فکر میں لگ جائے تولوگ اس کوکیا کہیں گے یہی کہیں گے کہ تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑتو ۔

You must be logged in to post a comment.