ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک صاحب نے لکھا تھا کہ مجھ کو جیسی محبت آپ سے پہلے تھی اب نہیں رہی میں نے لکھا کہ پھردینی ضرر کیا ہوا بھی مکھا تھا کہ نماز میں خشوع و خضوع نہیں رہا میں نے لکھا کہ اختیاری درجہ نہیں رہا یا غیراختیاری نہیں ریا یہ بھی لکھا تھا کہ پہلی باتیں یاد کر کے دل ڈھونڈتا ہے میں نے لکھا کہ بچپن کو یاد کرکے بھی دل ڈھونڈتا ہے اس پرفرمایا کہ ان کو تو میری محبت نہ رہنے پرحسرت ہے اگرحق سبحانہ وتعالٰٰی کے ساتھ بھی محبت طبعی نہ ہو تو اس میں بھی کوئی ضرر نہیں عقیلہ اختیاریہ ماموربہ ہے وہ ہونا چاہئے وہی کافی ہے اس ہی لئے شیخ مبصری کی اس راہ میں ضرورت ہے ورنہ اس راہ میں ہزارہا حضرات ہیں ۔
ملفوظات حکیم الامت جلد نمبر 4
(ملفوظ 339)ہمت سے زائد اپنے ذمہ کام رکھنا خلاف عقل ہے :
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کام اس قدر کرنا چاہئے جس کا تحمل بے تکلف ہوسکے ہرکام کے لیے اسی کی ضرورت ہے ہمت سے زائد اپنے ذمہ کام رکھ لینا عقل کے خلاف ہے حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے ایک مثال عجیب و غریب بیان فرمائی تھی کہ جس قدر کام کا ذوق وشوق ہو اس سے کچھ کام چاہئے اسی طرح جس قدر بھوک ہو اس سے کچھ کم کھانا چاہئے جیسے چکی کہ اس میں پھرانے کے وقت کچھ تاگہ چھوڑ دیا جاتا تاکہ وہ اس کے ذریعہ سے واپس آسکے اگرنہ چھوڑا جائے وہ لوٹ نہیں سکتی پھر از سرنو اہتمام کرنا پڑتا ہے اس مثال کی خوبی پرایک دوسری مثال کا قصہ بیان فرمایا گو وہ دوسرے باب کا مضمون ہے وہ قصہ مولوی محمد یسین صاحب والد مولوی محمد شفیع صاحب سے نقل فرمایا وہ مولانا محمد یعقوب صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے پاس زیادہ بیٹھتے تھے اور دل کھلا ہوا تھا اس لئے جوجی میں آتا کہہ بھی دیتے ایک روز مولانا کے ایک مبسوط کلام کے بعد ان سے کہتے ہیں کہ کثرت کلام کو بزرگوں نے اچھا نہیں سمجھا اور آپ کثرت سے کلام کرتے ہیں یہ کیا بات ہے مولانا نے فرمایا کہ تقلیل کلام خود مقصود بالزات نہیں مقصود تویہ ہے کہ فضول کلام نہ ہومگر مبتدی ابتداء تعدیل پرقادر نہیں ہوتا اس لئے معالجہ کے درجہ میں بہت زیادہ تقلیل تجویز کرتے ہیں تاکہ اعااعتدال پرآجائے اس کی ایسی مثال ہے کہ کاغذ لپٹا ہوا رکھا ہوتا ہے جب اس کو کھولتے ہیں تو وہ پھر اسی طرح لپٹ جاتا ہے اس لئے اس کو اس طرح سیدھا کرتے ہیں کہ اس کو دوسری مخالف طرف اسی طرح لپیٹنے ہیں جس سے وہ سیدھا ہوجاتا ہے اسی درجہ میں ضرورت ہے تقلیل کلام کی ورنہ وہ خود مقصود بالذات نہیں مولانا کے علوم عجیب ہوتے تھے بڑی سے بڑی بات کو اس طرح پر بیان فرمادیتے تھے کہ ہرشخص جاتا تھا ۔
(ملفوظ 338)متمرد کے نکالنے پرمعزورہونا :
ایک صاحب کی غلطی پرمواخذہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ لوگ سیدھی اور سہل بات کوکس قدر الجھا دیتے اورسخت بنادیتے ہیں گفتگو کے ختم تک یہ بھی تو فیق نہ ہوئی کہ یہ کہہ دیتے کہ مجھ کو اس کا علم نہ تھا کہ یہ مصافحہ کا موقع ہے یا نہیں باقی غلطی کا تو اقرار کیا کرتے خناس دماغوں میں گھسا ہوا ہے میں اسی کو نکالنا چاہتا ہوں جس شخص می اتنا تمرد ہو اس کی اصلاح کی امید کیا کی جائے یہ بھی حس نہ ہوئی کہ دوسرے پراس کا کیا اثر ہوگا بتلایئے ایسے متمرد کے نکالنے پربھی میں معذور ہوں یا نہیں یہ اچھا ہوا کہ میں نے بواسطہ گفتگو کی جس سے مزاج میں کوئی تغیر نہیں ہو اور نہ الزام دیتے کہ مجھ پرسختی کی اس لئے گڑبڑ میں پڑگیا مگر اب توکوئی شبہ ہی نہیں رہا اورنہ کسی تاویل کی گنجائش رہی کیا ٹھکانا ہے اس بدفہمی کا خیر ہمیشہ کو گئے مگر اب پیچھا چھٹا اس لئے کہ بہت باگواری کے ساتھ فیصلہ ہوا اگر میں براہ راست گفتگو کرتا یا تیزی سے کچھ کہتا تو یہ احتما ل ہوسکتا تھا کہ مغلوب ہوکر ایسا خبط ہوگیا اس میں شبہ کی گنجائش رہ سکتی تھی اوراب تو کوئی گنجائش ہی نہیں رہی ، بیچارے بہت سی پریشانیوں سے بچ گئے دیکھئے میں اس قدر کنج وکاونہ کروں تو یہ قلعی ان کی کس طرح کھلے اوریہ چورکس طرح پکڑے جائیں مادہ تو تھا ہی کسی اور کو نکلتا اس مادہ کی ایسی مثال ہے کہ کسی حوض کی تہیہ میں کیچڑ اور گارا ہے اگرزور سے ڈھیلا مارا جائے تو سب پانی گدلا ہوجاتا ہے بات یہ ہے کہ واقع میں خلوص نہیں ہوتا دھوکہ ہوجاتا ہے جیسا مدینہ شریف میں رہ کرمیل کچیک والا نہیں رہ سکتا آخر میں کہاں تک رعایت اور سامح کروں اگر ایسا برتاؤ نہ کروں تو پتہ چلے مخلص اور غیر مخلص کا دیکھئے ادنی ادنیٰ صنعتون کو لوگ نہیں سکھاتے جب تک طلب اورخلوص پراطمینان نہیں ہوجاتا اسی طرح جب تک ثبات ورسوخ محقق نہ ہوجائے اس وقت تک بیعت کرنا اور ہونا چاہئے ہی نہیں اور اسی طرح جب تک خلوص پراطمینان نہ ہوجائے اس وقت تک ہدیہ لینا بھی نہیں چاہے میرے یہاں بہت سے تجربون کے بعد اصول اور قواعد مرتب ہوئے ہیں جن پرلوگ خفا ہیں ۔
(ملفوظ 337)اولاد کا ہونا اور نہ ہونا دونوں نعمت ہیں :
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ جیسے اولاد کا ہونا نعمت ہے ایسے ہی نہ ہونا بھی نعمت ہے میں تو اللہ کا شکرادا کرتا ہوں کہ مجھ کو اس سے محفوظ رکھا بچوں کی تربیت بڑی مشکل چیز ہے مجھ کو تو بڑی الجھن ہوتی ایک دق لگ جاتی بچوں کی تربیت کے لئے بڑے ہی حکیم کی ضرورت ہے ۔
17 شوال المکرم 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم پنج شنبہ
(ملفوظ 336)بیعت میں عجلت نہ کرنے میں حکمت
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں جو خطوط کے جواب میں لوگوں کی بے ہودگیوں پر متنبہ کرتا ہوں تو بعضے خفا ہوکر ایسے جواب لکھتے ہیں کہ میں اس جواب کا اظہار نہیں کرتا دوستوں کو رنج ہوگا بلکہ پھاڑ کرردی میں ڈال دیتا ہوں ان ہی وجود سے میں بیعت کرنے میں عجلت کو مناسب نہیں سمجھتا سخت ضرورت ہے اس کی کہ جس سے تعلق پیدا کرے اس کے عقائد کی اعمال کی اخلاق کو خوب دیکھ بھال لے ممکن ہے کہ کل کوکوئی کھٹک پیدا ہوتو اس کا پہلے ہی معلوم ہوجانا ضروری ہے ۔
(ملفوظ 335)اصلاح نفس کے لئے خود علاج تجویز کرنا بھدا پن ہے
ایک خط کے سلسلہ میں فرمایا کہ یہ لکھا ہے کہ میرے نفس کی اصلاح کے لئے ذکر وشغل بھی تعلیم فرمایا جاوے فرمایا کہ کیا بھدا پن ہے یہ لکھنا چاہئے تھا کہ میرے نفس کی اصلاح کے لئے جومناسب ہو تعلیم فرمادیں میں نے جواب میں لکھ دیا ہے کہ جب خود علاج تجویز کرتے ہوء تو پھر دوسرے کی کیا ضرورت ہے جوجی چاہے وہ پڑھ لیا کرو کیا بے ہودگی ہے اب اگر اس کے جواب میں کچھ ذکر وشغل لکھ دیتا تو یہ شخص ہمیشہ کے لیے جہل میں مبتلا رہتا اوریہ سمجھتا کہ ذکرشغل سے اصلاح ہوجاتی ہے ۔
(ملفوظ 334)آمادہ اور آمادہ ( لطیفہ )
ایک مولوی صاحب تین بجے والی گاڑی سے حاضر ہوئےحضرت والا کے دریافت کرنے پرعرض کیا کہ ایک مناظرہ کے سلسلہ میں دہلی جانا ہوا تھا وہاں سے واپس ارہا ہوں دریافت فرمایا کہ کیا مناظرہ تھا مناظرہ آریوں سے تھا عرض کیا کہ غیرمقلدوں سے پوچھا پھرکیا ہوا عرض کیا کہ وہ آمادہ ہی نہیں ہوئے مزاحا فرمایا کہ آپ کو اعلان کردینا تھا کہ آمادہ نر آگیا پھر فرمایا کہ کچھ نہیں اہل حق کو دق کرنا ہے سجمھتے ہیں مگر صرف ہٹ اور ضد ہے ۔
(ملفوظ 333)عورت کے خط پرشوہر کے دستخط ضروری ہیں
فرمایا کہ ایک بی بی کا پہلے خط آیا تھا اس ان کی شوہر کے دستخط نہ تھے اس لئے واپس کردیا گیا پھر دستخط ہوکر آئے تو پتہ نا محرم سے لکھوایا ان نا محرم کے خط کو میں پہچانتا تھا اور ان کا رشتہ بھی ان بی بی سے مجھ کو معلوم تھا میں میں نے تنبیہ کی تو پھر بیٹے کے ہاتھ سے پتہ لکھوایا اس تنبیہ سے ان بی بی نے بھی ملتوی کیا بلکہ اپنے شوہر کے ساتھ آنے کا قصد کررہی ہیں دوران تحریرمیں ان بی بی نے یہ بھی لکھا تھا کہ زیارت جوش محبت میں ایسا قصد کیا تھا حضرت والا نے اس لفظ پر بھی تنبیہ فرمائی کہ یہ لفظ بازاری ہے بجائے محبت کے تمنا کا لفظ عورت کو ایسے موقع پراستعمال کرنا چاہئے جو ایک متین لفظ ہے ایسا لفظ مرد مرد کو کہے تو مضائقہ نہیں جامع عرض کرتا ہے کہ سبحان اللہ کیسے کیسے دقائق پرنظر ہے اور کس قدر لطیف اورمؤثر طرز تربیت ہے ۔
(ملفوظ 332)ایک خط میں چارتعویذوں کی درخواست گراں ہے
فرمایا کہ تعویذوں کے متعلق ایک خط آیا ہے اکٹھے ہی چار تعویذ مانگے ہیں اگردس خط ہوں اور سب میں ایک ایک تعویذ کی فرمائش ہو یہ تو آسان ہے مگر چار تعویذوں کی فرمائش ایک خط میں یہ گران ہے ایک تعویذ لکھ کربھیج دوں گا اور لکھ دوں گا کہ جتنی ضرورت ہوکسی سے نقل کرا لینا پھر فرمایا کہ میں نے لکھ دیا ہے کہ اتنی فرصت کس کو لکھ دیا ہے باقی نقل کرالینا ۔
(ملفوظ 331)لوگوں کی بے فکری اور غفلت کی حد
فرمایا کہ کئی روز ہوئے ہیں ایک منی آرڈر آیا تھا کوپن میں کچھ نہ لکھا تھا کہ کس مد کا روپیہ ہے میں نے یہی لکھ کر واپس کردیا آج پھر دوبارہ آیا وہی کوپن پرکچھ نہیں باوجودیکہ غلطی پرمتنبہ کردیا مگر پھروہی حرکت آج پھر واپس کیا یہ حالت ہے لوگوں کی بے فکری اور غفلت کی اب کیسے ان کا کوئی غلام بن جائے آدمی بتلادینے پرتو سمجھ جائے ایسے ایسے عقلمند میرے حصہ میں آگئے میں تو کہا کرتا ہوں کہ اور جگہ بزرگی بٹتی ہے اگر آدمی بننا ہوتو میں خادم موجود ہوں اگر بزرگی لینا ہوتو اور بہت جگہ ہیں گو آدمیت کا بزرگی سے ادنی درجہ ہے مگر بزرگی کے شرائط میں سے ہے میں اس کے ادنی ہونے پرتفریح کے طور پر یہ بھی کہا کرتا ہوں کہ میں قاعدہ بغداد کا مکتب کھول رکھا ہے اوردوسری جگہوں میں ہدایہ درمختار کا مکتب ہے ختم کرنے کی شرط یہی قاعدہ بغدادی ہے کہ ایسا قاعدہ بغدادی ہے کہ ایسا قاعدہ بغدادی ہے جیسے ایک شاعرہ کہتا ہے
زاہد شدی وشیخ شدی دانشمند ایں جملہ شدی ولے مسلمان نہ شدی
مگر میں نے اس نسخہ کو پسند نہیں کیا اس لئے اس کو اس طرح بدل دیا ہے :
زاہد شدی وشیخ شدی دانشمند ایں جملہ شدی ولیکن انسان نہ شدی
میں نے بڑے بڑے مشائخ کے خاص مریدوں سے جہنوں نے یہاں آکر تعلیم کا سلسلہ جاری کرنا چاہا پوچھا کہ تم کو شیخ نے کیا بتلایا تھا جہاں جہاں اورجس جس سےتحقیق کیا بس اور ادو ظائف ہی کی تعلیم معلوم ہوئی اصلاح کا پتہ نہیں حضرت میں نے علماء کو دیکھا بعضے ان میں مشائخ کی طرف سے صاحب اجازت بھی ہیں مگر غلطیوں میں مبتلا ہیں آج کل یہ غلطی عام ہوگئی ہے یہ سمجھتے ہیں کہ صرف ذکر مقصود ہے حالانکہ یہ معین مقصود ہے اس ہی وجہ سے یہ طریق بدنام ہو ا کہ مقصود کو غیر مقصود سمجھ رکھا ہے لوگ فن کی حقیقت سے بالکل بے خبر ہیں کودنے پھاندنے کو جوش وخروش کو ضحک اور بکاء کو حق ہو کر اصل سمجھتے ہیں انتہائی کمال ان لوگون کے نزدیک یہ ہی چیزیں ہیں خدا بچائے جہل سے ایسوں نے لوگوں کو گمراہ کردیا کیفیات نفسانیہ کو طریق سمجھ بیٹھے حالانکہ یہ چیزیں کچھ بھی کمال نہیں بعضوں نے برسوں مجاہدے کیئے ، خدمتیں کیں محنتیں کیں عیش وراحت کو چھوڑا شب شب بھرجاگے مگر حقیقت سے بے خبری سبب تیلی کے بیل کی طرح وہیں کے وہیں رہے صوفی بننا آسان نہیں فرماتے ہیں :
صوفی نشود ؟ صافی تا درنکشد جامے بسیار سفر باید تا پختہ شود جامے
یہ چیزیں کمال کی نہیں کہ رولئے کپڑے پھاڑ لئے جنگلوں میں دیوانہ وار نکل پڑے اسی
کے متعلق کہا گیا ہے کہ :
عرفی اگر بہ گریا میسر شدے وصال صد سال میتواں بہ تمنا گریستن

You must be logged in to post a comment.