فرمایا کہ ایک شخص نے بذریعہ خط دریافت کیا ہے کہ دیہات میں جمعہ جائز ہے یا نہیں میں نے آج عجیب جواب لکا ہے یہ لکھ دیا ہے کہ کون سے امام کے نزدیک اب بڑا گھبراوے گا اگر میں لکھتا کہ جائز نہیں تو چونکہ وہ میرا فتویٰ ہوتا سائل بڑی گڑبڑ کرتا اب ایک امام کا قول نقل کردوں گا اور اب چونکہ اس نے کسی امام کو قول دریافت نہیں کیا اس لئے نہیں لکھا اسی جواب کی نظیر ایک دوسرا جواب یاد آیا ایک شخص نے لکھا تھا کہ یہ چھوٹی قومیں کیوں ذلیل ہیں میں نے لکھا کہ دنیا میں یا آخرت میں پھر خط آیا جس میں لکھا شافی جواب نہ ملا اورکچھ اعتراضا بھی لکھا میں نے لکھ دیا کہ جہاں سے شافی جواب ملے وہاں سے منگا لولوگ اپنا تابع بنانا چاہتے ہیں ہم سے خدمت لینے کا توحق ہے مگر حکومت کرنے کا حق نہیں ۔
ملفوظات حکیم الامت جلد نمبر 4
(ملفوظ 242) اللہ تعالٰی کی تھوڑی محبت بھی بڑی نعمت ہے :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک صاحب لکا تھا کہ مجھ کو اللہ تعالی سے محبت تو ہے مگر اس درجہ کی نہیں جس درجہ آپ سے تعلق رکھنے والوں میں دیکھتا ہوں میں نے لکھا کہ نہ سہی اس درجہ کی مگر ہے تو سہی بلابودے اگرایں ہم نہ بودے ۔ انسان موجود کا شکر نہیں کرتا مفقود پرنظر کر کے ناشکری کرتا ہے اس کی بلکل ایسی مثال ہے کوئی شخص کہے کہ میرے پاس غلہ توہے مگراتنا نہیں جتنا پڑوسی کے یہاں ہے اس میں تو موجود پرشکرنہ ہوا۔
(ملفوظ 241) طریق الاصلاح :
ملقب بہ طریق الاصلاح ) فرمایا ک ایک مولوی صاحب کا خط آیا ہے لکھا ہے کہ میرے کاموں میں نظم نہیں ہے ( یعنی انتظام نہیں ) میں نے لکھ دیا کہ نثر یعنی پراگندی کی وجہ سے مشقت زیادہ ہوتی ہے جس پرزیادہ ثواب کی امید ہے پھر فرمایا کہ نظم اور نثر میں کیا رکھا ہے آدمی کو کام کرنا چاہئے حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رحمتہ اللہ سے ایک شخص نے شکایت کی کہ مجھ سے دوام نہیں ہوتا عجیب جواب فرمایا کہ یہ بھی ایک قسم کا دوام ہے کہ کبھی ہوگیا اور کبھی نہیں اس مجموعہ پرتودوام ہے مگر اس پر ایک طالبعلمانہ شبہ ہوتا ہے وہ یہ کہ جودوام مطلوب ہے ، وہ یہ تو نہیں اس کا جواب یہ ہے تحقیقی نہیں معالجہ کبھی غیرت حقیقت سے بھی ہوتا ہے اور اس کو طبیب ہی سمجھ سکتا ہے کہ مریض کے لئے کونسی تدبیر نافع ہوگی اور ہرشخص کے لئے جدا تدبیر ہوتی ہے معالج مریض کی خصوصیت طبیعت سے سمجھ گئےکہ اس کا علاج اس عنوان سے ہوجاوے گا اوراس مجموعہ کو دوام کہہ دینے سے دوام مطلوب بھی میسر ہوجائےگا یہ ایک طریق ہے طالب کولے کرچلنے کا تاکہ ہمت نہ ہارجائے اوریہ سب باتیں مصلح ہی سمجھ سکتاہے اس ہی لئے میں کہا کرتا ہوں کہ اس فن کی مثال بالکل طب نفع ہوجاتا ہے گواس کا مضمون متحقق نہ ہو یہ مسئلہ حدیث سے ثابت ہے کہ حضورﷺ نے بھی بہت جگہ عنوان سے کام لیا ہے معنون سے قطع نظرکرکے چنانچہ عبداللہ بن ابی کے جنازہ پرنماز پڑھنے کے وقت حضرت عمر نے یہ آیت پیش کرکے شبہ کیا ہے ، استغفرلھم اولا تستغفرلھم ان تستغفرلھم سبعین مرۃ فلن یغفراللہ لھم ( آپ خواہ ان کے لئے استغفار کریں یا ان کےلئے استغفار نہ کریں اگرآپ ان کے لئے ستر بار بھی استغفار کریں گے تب بھی اللہ تعالٰی ان کو نہ بخشے گا ۔12) آپ نے ارشاد فرمایا خیرنی فاخترت اور فرمایا سازید علی السبعین ( مجھ کو اختیار دیا گیا ہے لہذا ایک مشق کو میں نے اختیار کرلیا ) حضور نے یہاں پر محض الفاظ سے تمسک کیا اورمعنی کی طرف التفات نہیں فرمایا بلکہ فرط رحمت کی وجہ سے صرف الفاظ سے تمسک کیا اس سے معلوم ہوا کہ بعض دفعہ مصلحت دینیہ سے محض عنوانات سے کام لینا بھی سنت سے ثابت ہے خلاصہ یہ ہے کہ عنوان کو بعض آثار میں بڑا دخل ہوتا ہے اس کی تائید میں ایک قصہ بیان کرتا ہوں میں ایک مرتبہ سخت بیمارہوگیا ایک طبیب کے پاس قارورہ بھیجا قارورہ دیکھ قارورہ لے جانے والا سے کہا کہ یہ شخص زندہ کیسے ہے اس کی حرارت عزیزیہ توبالکل ختم ہوگئی ہے اس نے آکر مجھ سے کہا مجھ بہت بڑا اثر ہوا میں نے اس سے کا یہ کیا بیہودگی ہے تم نے مجھ سے کیوں کہا اس نے غلطی ہوگئی میں نے کا اس کا تدارک بتاؤ اس نے تدارک پوچھا میں نے کہا واپس جاؤ اور آکر مجھ سے یوں کہو کہ حکیم صاحب نے کہا ہے کہ اس وقت میں نے غور نہیں کیا تھا اچھا خاصہ قارورہ ہے وہ واپس گیا اور آکر میرا سکھایا ہوا مضمون مجھ سے نقل میں نے ہی سکھا کر بھیجا ہے اور میرا ہی مضمون مجھ سے نقل کیا ہے تویہ عنوان ہی کا اثر تھا جو معنون سے بالکل خالی تھا اور ایک واقعہ اس کی تائید میں یاد آیا ۔ ریاست رام پورمیں ایک درویش تھے ان پرایک قبض کا حال طاری ہوا اس سے وہ اپنے کو یون سمجھنے لگے کہ توشیطان ہے اور تومردود ہوچکا اس حالت میں وہ درویش ایک مولوی صاحب کے پاس آئے یہ مولوی صاحب شیخ بھی تھے مولوی صاحب اس وقت درس میں مشغول تھے دریافت کیا کو ن کہا کہ شیطان مولوی صاحب نے بلاکیس خیال کے لاحول ولاقوۃ الا بااللہ العلی العظیم پڑھ دیا یہ سن کروہ دریش چل دیئے اور اپنے حجرہ پرپہنچ کر مرید سے کہا کہ میں مردود ہوں شیطان ہوں میں اپنے کو دنیا سے مٹانا چاہتا ہوں اور صورت یہ ہے کہ میں اپنی گردن الگ کرتا ہوں اگر کچھ کھال الجھی رہ جائے اس کو تو الگ دینا اور اس کے بعد درویش خودکشی کرکے ختم ہوگئے ، ایک مولوی مظہر تھے جوموجز میں میرے ہم سبق تھے انہوں نے یہ واقعہ حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رحمہ اللہ کی خدمت میں بیان کیا حضرت مولانا نے سن کر فرمایا کہ ہم تو ان مولوی صاحب سمجھتے تھے مگر معلوم ہوا کہ کچھ بھی نہیں اگرمیرے ساتھ یہ معاملہ پیش آتا تومیں کہا کہ پھر گھبرانے کی کیا بات ہے شیطان ہی ہوتو کیا ہے شیطان بھی تو انہیں کا ہے تو نسبت تو اب بھی قطع نہیں ہوئی تو اس سے قبض ختم ہوجاتا اس میں یہ سوال ہوتا ہے کہ یہ نسبت جو شیطان کو حاصل ہے کیسی ہے بظاہر ہے کہ تکوینی ہے جو کہ مطلوب نہیں اور وہ نسبت رضا کی نہیں جو کہ مطلوب ہے تواس سے قبض کیسے رفع ہوجاتا ہے تو اس کا حل بھی یہی ہے کہ مولانا کو بصیرت سے معلوم ہوگیا کہ اس عنوان ہی سے علاج ہوجاتا اس ہی لئے اس طریق میں شیخ کامل کی ضروت ہے یہ شان ہمارے حضرات کی تھی بڑے بڑے مایوس العلاج کامیاب ہوکر نکلتے تھے یہ حضرات حکیم تھے اس عنوان پرایک حکایت یاد آئی ایک بادشاہ نے خواب دیکھا کہ میرے سب دانت ٹوٹ گئے کسی معبر کو بلا کرتعبیر دی کہ آپ کا سب خاندان آپ کے سامنے مرجائےگا بادشاہ یہ سن کر برہم ہوا اور معبرکو نکلوادیا اسکے بعد ایک دوسرے معبر کوبلوایا اورخواب بیان کیا تعبیر چاہی انہوں نے ی تعبیردی کہ آپ کی عمر آپ کے سب خاندان سے بڑی ہوگی اس پر بادشاہ خوش ہوا اور یہ کہا کہ بات وہی ہے صرف عنوان کا فرق ہے مگر اس سے طبیعت پرکوئی گرانی نہیں ہوئی اور اس کو خلعت دے کر نہایت عزم واحترام سے رخصت کیا اسی پرایک تفریح کرتا ہوں اگر کسی لڑکے کو کہئے اومرغی ک بچے آگ ہوجائے گا برہمی پیدا ہوجائے گی اور اگریوں کہا جائے کہ او چوزہ خوش ہوجائے گا حالانکہ مرغی کے بچے ہی کو چوزہ کہتے ہیں اور مثال لیجئے ایک عورت کوئیں پر پانی بھررہی ہے تین مسافر آ پہنچے ان میں سے ایک شخص پہنچتا ہے اور کہتا ہے کہ اماں پانی پلادو پانی پلائیگی دعائیں دیگی دوسرا شخص آتا ہے میرے باپ کی جورو پانی پلادے تو گالیاں سنائے گی تیسرے نے کہا اے وہ عورت جومیرے باپ سے ایسا کراتی ہے پانی پلادے یہ سن کراتنا غصہ آوے گا کہ اگر قدرت ہوتو قتل کردے حالانکہ اماں اور باپ کی جورو اورمیرے باپ سے ایساویسا کرانے والی سب کے ایک ہی معنی ہیں صرف عنوان کا فرق ہے پس جولوگ نرے الفاظ پرست ہیں اور حقائق کو نہیں جانتے انکو ان چیزوں کی کیا خبر وہ بجز بزرگوں پراعتراض کرنے کے کیا سمجھ سکتے ہیں ان باتوں کے سمجھنے کے لئے بڑے فہم کی ضرورت ہے اور یہ نصیب ہوتا ہے کسی کی صحبت میں رہنے سے اور اسی کا آج کل قحط ہے حق تعالیٰ فہم سلیم عطاء فرمائیں ۔
(ملفوظ 240)سرکاردوعالم ﷺ کی انوکھی شان :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جناب محمدالرسول اللہ ﷺ چونکہ ہمارے ہیں اس لئے ہم کو حضور کی شان انوکھی نہیں معلوم ہوتی مگر جب دوسرے مذاہب کے آدمی غورکر کے دیکھتے ہیں تو ان کو حضور کے حالات پربڑا تعجب ہوتا ہے اور واقعی ہیں عجیب حالات اورکیسے نہ ہوں آخرمامورمن اللہ ہیں اور خاتم نبوت ہیں عالم کی آفرینش کے سبب آپ ہی ہیں سب کچھ آپ ہی کی ذات مبارک کیلئے پیدا کیا گیا اورآپ ہی کی شان یہ ہے
لا یمکن الثناء کما کان حقہ بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
( جو ثناء آپ کی شان کے لائق ہے وہ توہم سے ممکن ہی نہیں ، بس مختصر طور پرکہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالی کے بعد آپ ہی کا ردجہ ہے ۔ 12)
(ملفوظ 239)آداب معاشرت کو عوام نے دین نہیں سمجھا :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ معاشرت توآج کل لوگوں کی نہایت ہی گندی اور خراب ہے شریعت مقدسہ نے ہمارے ہرمعاملے اور ہرقسم کے فعل وقول کی تعرض کیا ہے آزاد نہیں چھوڑا پرچیز کے متعلق تعلیم ہے اور اس کا مکمل قانون ہے مگر آداب معاشرت کو لوگوں نے دین کی فہرست ہی سے نکال دیا ہے سمجھتے ہیں کہ نماز ورزہ حج زکوۃ ذکروشغل تلاوت قرآن نفلیں ان چیزوں کے متعلق احکام ہیں آگے جوکچھ چاہیں کرتے پھریں جس کے معنی آج کل آزادی ہیں سو خوب یادرکھو کہ تم ہرگزہرگز آزاد نہیں چھوڑا گیا مثل بھینسے اور سانڈ کے جس کے گیہوں چاہیں کھالیں اور جس کے چنے چاہیں کھالیں ہوہم کو ایسا نہیں چھوڑدیا گیا بلکہ شریعت نے ہماری رفتار گفتار نشست وبرخاست لین ودین کھانے پینے وغیرہرچیز سے تعرض کیاہے اوراس کے متعلق شریعت میں مکمل قانون ہے مگراب تویہ ہوگیا ہے کہ ہاتھ میںتسبیح لے لی ٹخنوں سے اونچا پاجانہ اور گھٹنوں سے نیچاکرتا پہن لیا اوراشراق وچاشت اور تہجد کی نفلیں پڑھ لیں بس ہوگئے کامل مکمل مگر کم بل نہ ہوئے ـ( یعنی بل کم نہ ہوئے ) بلکہ زیادہ ہی بل رہے انکسار نہیں عجز افتقار نہیں خلاصہ یہ ہے عبدیت نہ پیدا ہوئی وہی تیلی کے بیل کی طرح تمام دن چلا مگررہا وہیں بڑے بڑے کوئی مولانا ہیں کوئی مقتدانا ہیں کوئی شیخ المشائخ ہیں کوئی صوفی ہیں ایسی مثال ہے کہ جیسے لفافہ پر پتہ توبڑے جلی قلم سے خوشخط عربی میں لکھا ہوا ہے مگر اندرکام کا مضمون ندارد اسی کوایک بزرگ فرماتے ہیں
از بروں چوں گور کافرپرحلل واندروں قہر خدائے عزوجل
از بروں طعنہ زنی بربایزید ورد رونت ننگ می واردیزید
( ظاہری حالت توایسی ہے کہ حضرت بایزید پربھی طعن کرتے ہو اورباطنی حالت ایسی گندی کہ یزید بھی تم سے شرماوے ۔ 12)
17/ ربیع الاول 1351ھ مجلس عبد نماز ظہر یوم شنبہ
(ملفوظ 238) عملیات میں عامل کی قوت خیال کوبڑا دخل ہے :
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ جی ہاں عملیات میں تھوڑا تھوڑا دونوں کا اثرہوتا ہے یعنی خود الفاظ کا بھی اورعامل کے خیال کا بھی مگریہ ممکن ہے کہ ایک کا زیادہ اورایک کا کم ہوتا ہو باقی تجربہ یہ ہے کہ عامل اگربددلی یا بے توجہی سے تعویذ لکھے تواثر نہیں ہوتا عامل کی قوت خیالیہ کو اس میں داخل ہے اور کبھی بدون ان اسباب کے بھی کام چل جاتا ہے چنانچہ میرے ایک دوست ہیں ان کی لڑکی پرآسیب کا اثر ہوا میں نے اطلاع ہونے پربجائے تعویز لکھ کردینے کے ایک مضمون پرچہ پرلکھ دیا کہ اس جن کو یہ مضمون دکھلا دینا اس پرچہ کا مضمون یہ تھا کہ اگر تم مسلمان ہوتو میں تم کو قرآن وحدیث ک وہ عیدیں جو کسی مسلمان کے ستانے پروارد ہیں یاد دلاتا ہوں اوراگرتم کافرہوتو ہم اول صلح کی درخواست کرتے ہیں اوراگرصلح منظور نہیں تو جنگ کی صورت میں گومیرے پاس کوئی سامان مقابلہ کا نہیں مگر بحمداللہ مسلمانوں میں ایسے لوگ موجود ہیں کہ جوتمہاری کافی طرح پرخدمت کریں گے پرچہ پہنچنے پرمعلوم ہوا کہ اس پرچہ کے مضمون کو پڑھ کریہ کہا کہ اب ہم جاتے ہیں اس لئے کہ یہ ایسے شخص کا رقعہ نہیں ہے کہ جس پرخیال نہ کیا جاوے خاموشی سے سلام کرکے رخصت ہوا تو ان میں بھی ہرقسم کی طبائع کے ہوتے ہیں شریف بھی اور شریر بھی یہ بیچارے کوئی شریف ہوں گے ۔
(ملفوظ 237)تعویذ گنڈوں میں عوام کا غلو:
ایک سلسلہ گفتگومیں فرمایا کہ آج کل تعویذگنڈوں کے باب میں عوام عقائد میں بہت غلو ہوگیا ہے خصوص دیہاتی لوگ توہرمرض کو آسیب ہی سمجھتے ہیں اگریہی تعویزوں کی رفتار رہی توشاید آگے چل کرنکاح بھی نہ کیا کریں گے تعویزہی سے اولاد حاصل کرنیکی کوشش کریں گے ایک شخص نے مجھ سے کہا کہ میرے اولاد نہیں ہوتی تو تعویز دیدو میں نے کہا ہیں میں ان تعوہزات گنڈوں سے بڑاگھبراتا ہوں اس قطعا مناسبت نہیں ۔
(ملفوظ 236) فضول تحقیقات کی مثال :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ فضول تحقیقات میں رکھا ہے آدمی کو عام کرنا چاہئے کام کرنے والے کبھی عبث اور فضول چیزوں کو پسند نہیں کرسکتے اور فضول تحقیق کی بالکل ایسی مثال ہے جیسے کوئی شخص کسی کے یہاں مہمان بن کرجائے اوروہ اس کی تحقیق شروع کرے کہ کھانا کہاں پکتا ہے ۔ پکانے والا کون ہے ۔ نمک مرچ گرم مصالحہ گھی آٹا کہاں سے آیا اور کون لایا اور کتنا کتنا آیا ۔ چولہے میں اپلے جلتے ہیں یا لکڑیاں اور جلتے ہیں تو کیسے دھواں کہاں جاتا ہے ارے بندہ خدا تجھے ان بکھیڑوں سے کیا غرض ہے کھانا پک کرسامنے آجاوے گا کھالینا کیوں وقت بیکار کھویا اگرکچھ بھی نہ معلوم ہو مگر کھانا ہواور برف کا پانی ہوہواکے پنکھے ہوں فرش ہواور ایک کمرے میں بٹھلا کرسب چیزیں سامنے رکھدی جائیں بس کھا کرالگ ہویا مثلا کسی نے آم کھانے کودیا اب اس کی تحقیق کرنا کہ اس آم کا کس قدر وزن ہے کتنا لمبائی ہے اس سے ملطلب ہی کیا کہا کیوں نہیں لیتا مثل مشہور ہے کہ آم کھانے سے غرض پیڑ گننے سے کیا کام ، مثلا یہ خبط نہیں تو اور کیا ہے کہ مریخ ستارے کی تحقیق میں سرگرداں ہیں اورجن کے بنائے ہوئے ہیں ان کی کچھ بھی تلاش اورفکر نہیں یہ سب غفلت آخرت کے دن کو کھٹلانے کی بدولت ہے جس کی نسبت حق تعالٰی فرماتے ہیں ۔ ونفخ فی الصور فصعق من فی السموات ومن فی الارض الایۃ ( اورصورتیں پھونک ماری جاویگی سوتمام آسمان اورزمیں والوں کے ہوش اڑجاویں گے ) اورفرماتے ہیں یقول الانسان یومئذ این المفرکلا لا وزرالی ربک یومئذن المستقر ( اس روز انسان کہے گا کہ اب گدہر بھاگو ہرگز نہیں کہیں پناہ کی جگہ نہیں اس دن صرف آپ ہی کے رب کے پاس ٹھکانا ہے ۔12) تو فکر اور تحقیق کی چیز تویہ ہے کہ یہ واقعات ہوں گے پھران واقعات کے متعلق کوئی فضول سوالات کرنے لگے مثلا کوئی موت کی تحقیق کرے کہ کس طرح آئے گی جان کس طرح نکلے گی تواس سے بھی کوئی فائدہ نہیں ارے بھائی ایک دن مروہی گے جب موت آوے گی مرجائیو جب تک زندہ ہوزندہ رہو کس قدرغضب اور ظلم کی بات ہے کہ مریخ کے سفر میں مرجانے کو ترقی اور ہمت س تعبیر کرتے ہیں اور جوخدا کے نام پرجان دے اس کو وحشیانہ حرکت بتلاتے ہیں سمجھنے کی بات ہے کہ ثمرہ اور غایت بھی ہے اس پرجان دینا وحشیانہ حرکت ہے یا مریخ ستارے کی تحقیق پر جان دینا جس کا ثمرہ نہ غایت یہ وحشیانہ حرکت ہے جوچیز کام کی تھی یعنی روحانیات اور علوم ان سے تو یہ لوگ بالکل کورے ہیں صرف مادیات میں ایک درجہ تک کامیاب ہیں کمال اس میں نہیں اور نہ کمال حاصل کرسکیں گے کہ موت آدبائیگی اور بلکل بے سرسامان آخرت میں جاپہنچیں گے یہاں ہی کرلیں جوکچھ کرنا ہے ایسے ہی لوگوں کے حق میں حق تعالیٰ فرماتے ہیں : ربما یودالذین کفروا لوکانو مسلمین ذرھم یاکلوا و یتمتعو ا ویلھھم الامل فسوف یعلمون ( کافرلوگ باربار تمنا کریں گے کہ کیا خوب ہوتا اگر وہ مسلمان ہوتے آپ ان کوان کے حال پر رہنے دیجئے کہ وہ کھالیں اورچین اڑالیں اورخیالی منصوبے انکو غفلت میں ڈالے رکھیں ان کو ابھی حقیقت معلوم ہوئی جاتی ہے ۔ 12) اور بفضلہ تعالٰی ان کی یہ تحقیقات اسلام کے لئے حال میں بھی مضرنہیں بلکہ اکثر میں اسلام کی تائید ہوگئی مثلا جس روز یہ لوگ مریخ ستارے میں پہنچ جائیں گے ہم کہیں گے حدیث میں جوسات زمینیں آئی ہیں ممکن ہے ان میں سے ایک زمیں یہ بھی ہوغرض ہماری نصوص کی گاڑی کہیں نہیں اٹکتی اورمثلا اگر وہاں آبادی کا مشاہدہ ہوجائے توہم اس آیت کی ومن آیاتہ خلق السموات والارض وما بث فیھما من دابۃ ( اور منجملہ اسکی نشانیوں کے پیدا کرنا ہے آسمانوں کا اور زمیں کا اور ان جانداروں کا جواس نے زمیں وآسمان میں پھیلارکھے ہیں ۔ ) کی سہل تفسیر کردیں گے جس میں فیھما اپنے متبادرمعنی پررہے گا فی مجموعہما کی ساتھ تفسیر کی ضرورت نہ رہے گی ۔
(ملفوظ 235)غیرمحقق مشائخ کا حال :
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ آج کل کے غیرمحقق مشائخ وہی مرغے کی ایک ٹانگ متقدمیں کے زمانہ کی تعلیم اور دو مجاہدات کے متعلق طالبوں کودئے چلے جاتے ہیں کچھ خبر نہیں کہ طالب کو فرصت کتنی ہے جسمانی قوت کا کیا حال ہے اور نہ یہ خبر کہ یہ کام کر بھی سکتا ہے اور نہ یہ معلوم کہ اس کی مناسبت کس چیز سے ہے یعنی اس کے لئے ذکروشغل کی کثرت مناسب ہے یا تلاوت قرآن کی کثرت حالانکہ شیخ کو مبصر ہونا چاہئے اس کی تشخیص اور تجویز طبیب حاذق کی طرح ہونا چاہئے مثلا آج کل قویٰ کمزور ہیں اس لیے کم کھانا کم سونا کسی طرح مناسب نہیں اس سے اندیشہ ہے تندرستی خراب ہوجانے کا میرے یہاں بحمداللہ ہرشخص کی حالت لے موافق تعلیم ہوتی ہے شاق تعلیمات پہلے لوگوں کے واسطے ہوتی تھیں وہ قوی تھے ان کے قویٰ اس قسم کے مجاہدات برداشت کرسکتے تھے اب برداشت نہیں کرسکتے نہیں تو ایسی حالت میں آدمی کیوں اس قدرمشقت میں پڑے حق تعالٰی فرماتے ہیں لا یکلف اللہ نفسا الاوسعہا اور فرماتے ہیں کلوا من طیبت مارزقنکم خوف کھاؤ پیو اور نیک کام کرو ۔
(ملفوظ 234)دروحاضرمیں عملیات میں غلو:
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل لوگوں کو عملیات کے باب میں اس قدر غلوہے کہ مجموع العزائم بنے ہوئے ہیں ان چیزوں میں پڑکرمقصود سے بہت زیادہ جا پڑے اس لئے کہ اصل مقصود اصلاح نفس وانسداد رذائل ہے مگر اس کی بلکل پرواہ نہیں محمد غوث گوالیری نے موکل تابع کررکھے تھے ایک بار ان کو حکم دیا کہ شاہ عبدالقدوس صاحب رحمتہ اللہ کو جس حالت میں ہوں لے آؤ ہم زیارت کریں گے شاہ عبدالقدوس صاحب رحمتہ اللہ تہجد سے فارغ ہوکر مراقب بیٹھے تھے افاقہ جوہوا دیکھا کہ موکل سامنے کھڑے ہیں دریافت کیا کہ تم کون ہو عرض کیا کہ موکل ہیں اورمحمد غوث صاحب گوالیری کے بھیجئے ہوئے وہ مشتاق زیارت ہیں اگر اجازت ہو ہم حضرت کو بہت آرام سے وہاں پرلے چلیں فرمایا کہ انہی کویہاں پرلے آؤ ، وہ موکل لوٹ گئے اور محمد غوث صاحب کو پکڑ کرلے آئے ان کو تعجب ہوا کہ قاعدہ سے تابع تو میرے اور اطاعت کی شیخ کی حضرت شاہ عبدالقدوس صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے ان کو نصیحت کی کہ کس خرافات میں مبتلا ہو انہوں نے توبہ کی اور حضرت شیخ سے باطنی تعلق پیدا کیا بس یہ حقیقت ہے ان عملیات کی ایک مرتبہ میں نے طالب علمی کے زمانہ میں حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رحمتہ اللہ سے عرض کیا کہ حضرت کو ئی ایسا بھی عمل ہے کہ جس سے موکل تابع ہوجائیں فرمایا ہے تومگر یہ بتلاؤ کہ تم بندہ بننے کے لئے پید اہوئے ہو یا خدائی کرنے کےلئے بس مولانا کا اتنا کہتا تھا کہ مجھکو بجائے اشتیاق کے ان عملیات سے نفرت ہوگئی حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب گنج مراد آبادی کے ایک مرید کو یہ وسوسہ تھا کہ حضرت عمل پڑھتے ہوں گے جس کی وجہ سے اس قدر معتقدین کا ہجوم ہے آپ کو اس خطرہ پراطلاع ہوگئی فرمایا کہ ارے معلوم بھی ہے کہ ان عملیات سے نسبت باطنی سلب ہوتی ہے قربان جایئے حضوراقدسﷺ کے کہ ان سب فضولیات سے بچاکر ہم کو ضروری چیزوں کی طرف لائے میں نے ان چیزوں کے عاملوں کو دیکھا ہے کہ ان میں کوئی باطنی کمال نہیں ہوتا بلکہ اور ظلمت بڑھتی ہے الحمداللہ مجھے مولانا کے ارشاد کے بعد عملیات سے کبھی مناسبت نہیں ہوئی۔

You must be logged in to post a comment.