ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ طالب علمی کے زمانہ میں میں نے انسان کی (مراد مومن ہے ) بجائے حیوان ناطق کے دوسری تعریف کی تھی جومومن کے ساتھ خاص ہے حیوان عاشق یہ عشق ہی ہے کہ ملائکہ تک پراس کو شرف حاصل ہے ۔
ملفوظات حکیم الامت جلد نمبر 4
ملفوظ (232) عدم مناسبت سے اصلاح نہیں ہوسکتی :
ایک نووارد صاحب سے حضرت والا نے دریافت فرمایا کہ کچھ کہنا ہے عرض کیا کہ اس وقت توکچھ کہنا نہیں کوئی تنہائی کا وقت مل جائے تو اس وقت عرض کروں گا فرمایا کہ تنہائی کا وقت میرے پاس نہیں نہ اتنی فرصت اس کی دوسری صورت یہ ہے کہ مجھ کوایک پرچہ لکھ کر دیدو اس کو میں ہی پڑھوں گا یہ بھی تنہائی ہی ہے عرض کیا کہ لکھ کربکس میں ڈال دوں فرمایا تم کواختیار ہے میں نے ایک صورت سہل تم کوبتلادی ہے یہ فرما کردریافت فرمایا کہ میں نے تم کو پہچانا نہیں اور نہ تم نے خود ہی کوئی تعارف کرایا عرض کیا کہ میں سہارنپور کے قریب ایک گاؤں ہے وہاں کا رہنے والا ہوں ۔ دریافت فرمایا کہ اس کا کچھ نام نہیں یہ گول مول اور ادھوری باتیں کیوں کرتے ہو کیا اس سے اذیت نہیں ہوتی کیا بدفہمی کا کوئی خاص مدرسہ ہے کہ تم لوگ وہاں تعلیم پاکر آتے ہو اور یہ بتلاؤ کہ اس آنے سے قبل کبھی خط وکتابت بھی تم نے مجھ سے کی یا نہیں ۔ عرض کیا کہ ایک خط بھیجا تھا اس کا جواب مجھ کو ملا وہ مکان پر بھول آیا۔ فرمایا کہ تمہاری طلب کا حال تو اسی سے معلوم ہوگیا معلوم ہوتا ہے کہ تم میں بے فکری کا بھی مرض ہے عرض کیا کہ راستے میں آکر یاد آیا فرمایا کہ اگر فکر ہوتی تولوٹ کرجاتے اورلیکر آتے عرض کیا کہ اس خیال سے نہیں لوٹا کہ نہ معلوم پھرکب جانا ہو ، فرمایا کہ اب یہ سوال ہے کہ گھرس لے کر کیوں نہیں چلتے تھے کیا اچھا عزر ہے کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ غسل خانہ میں نہانے گئے ہوا اور پاجامہ بھول آئے ہو اور ننگے آکھڑے ہوئے ہو ہم توجب جانیں کہ کوئی ملازمت کو جائے اور سرٹیفیکٹ گھر بھول آئے اس تمام بے فکری کی مشق دین ہی پرہوتی ہے پھر دریافت فرمایا کہ اور آئے کب تھے عرض کیا گیارہ بجے والی گاڑی فرمایا کہ اس وقت ملے تھے عرض کیا کہ نہیں دریافت فرمایا کہ کیوں عرض کیا کہ یہ خیال ہوا کہ شاید سونے کا وقت ہو فرمایا کہ ملنے میں کتنی دیر لگتی ہے عرض کیا کہ تھوڑی سی ، فرمایا کہ اس سے تمہاری آدمیت کا پتہ چلتا ہے تم مجھ سے بلکل مناسبت نہیں اب میں کہتا ہوں کہ تم پرچہ بھی نہ ڈالنا جواب نہ ملے گا عرض کیا کہ غلطی ہوئی فرمایا کہ غلطی ہی کا درجہ بتلارہا ہوں خدانخواستہ انتقام تھوڑا ہی لے رہاہوں میں تم کو کسی مصلح کا پتہ بتلادوں اگا اگر پوچھو گے یہ اس وجہ سے کہ اصلاح فرض ہے اور مجھ سے تمہاری اصلاح ہونہیں سکتی جس وجہ سے عدم مناسبت ہے چنانچہ اسی تھوڑی سی دیر میں تین باتیں ثابت ہوئیں ۔ طلب کی حقیقت بے فکری ۔ آدمیت اس لئے تم کو دوسری طرف رجوع کرنا چاہئے جس سے مناسبت ہو پھر فرمایا کہ میں جودوسرے کے سپرد کرنے کو کہتا ہو تو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ عتاب اور اس کا اثر ہے حالانکہ نہ عتاب ہے ، نہ اس کا اثر تو صرف یہ ہے کہ زبان سے شکایت کرلیتا ہوں اور باقی سپرد کردینا یہ مصلحت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اس طریق میں معلوم کا انقباض سد عظیم ( بڑی رکاوٹ) ہے انقباض کی حالت میں کوئی نفع نہیں ہوسکتا اور اس کا سبب عدم مناسبت ہے جب تناسب نہیں خاک نفع نہیں ہوسکتا جب نفع نہیں تو کیوں میں اس کو مجبور کروں اور کیوں خود پریشانی اور کلفٹن اٹھاؤں اٹھاؤں ہوتو ان چیزوں کو بھی برداشت کروں اس لئے دوسروں کے سپرد کردیتا ہوں جہاں انقباض نہ ہو۔
(ملفوظ 231 )اعتدال مطلوب ہے :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جی یوں چاہتا ہے کہ کوئی چیز اپنی حد سے نہ بڑھے اہل تحریکات کی طرح اپنی غرض پورا کرنے کے لئے احکام کو خدانخواستہ بدلنا تھوڑا ہی گوارا ہوسکتا ہے مجھ کو تو دوسروں کی ایسی حرکتیں سن کر غیرت آتی ہے خود توکیا ایسی باتیں کرتا جیسے بعضے فرمائش کرتے ہیں ۔
16/ ربیع الاول 1351ھ مجلس بعد نماز جمعہ
(ملفوظ 230)کسی مدرسہ کے مہتمم کے اختیارات محدود کرنا مضرتوں کا پیش خیمہ ہے :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ فلاں مدرسہ کے مہتمم کے اختیارات کو محدود کرنا بڑا ہی زبردست مضرتوں کا پیش کا خیمہ ہے جس کا نتیجہ آگے چل کر معلوم ہوگا میں نے ایک صاحب سے مدرسہ کے انتظام کے متعلق کہا تھا کہ اگر مجھ کو کامل اختیارات ہوتے تو میں اول کیا کرتا مہتمم صاحب کے ذریعہ سے واقعات معلوم کرتا اور بعد جو انتظام خود اپنی سمجھ میں آتا وہ کرتا اور اگر تردد رہتا تو سارے ہندوستان میں اشتہار دیکر علماء و عقلاء سے مشورہ لیتا اس صورت میں تمام لوگوں مدرسہ سے عشق ہوجاتا اوریہ سمجھتے کہ یہ جمہوریت صحابہ جیسی ہے کہ رائے سب کی اور حکومت ایک کی تدابیر تو سب ذہن میں مگر کوئی کرنے بھی دے اور اب تو کچھ ایسا انقلاب ہو ہے کہ پرانے لوگوں میں بھی جدید باتوں کا زہریلا اثرپیدا ہوگیا ہے نیچریت کا غلبہ ہے اس لئے کوئی مفید تحریک نہیں چلتی ۔
(ملفوظ 229)انگریزوں نے ہم سے تہذیب سکھی ہے :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں تو کہا کرتا ہوں کہ انگریزوں نے ہم سے تہذیب سیکھی ہے یا ہم نے ان سے بعض لوگ کہا کرتے ہیں کہ تمہارے مزاج میں تو انگریزوں کا سا انتظام ہے یوں مت کہوکہ ہم میں ان کا سا انتظام ہے کیونکہ وہ چیزیں کہاں سے لائے یہ چیزیں توہمارے گھر کی ہیں جن کو مسلمانوں نے چھوڑدیا کا اور دوسروی قوم نے اختیار کرلیا اس غفلت اور بے خبری کی کوئی حد ہے کہ اپنی چیزوں کو دوسروں کی سمجھتے ہیں۔
(ملفوظ 228)شیون اہل حق :
( ملقب بہ شیون اہل الحق ) ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ فلاں مدرسہ کی سرپرستی میرے سر زبردستی تھوپی گئی کرتے کراتے سب کچھ خود ہیں میرا تو محض نام ہی نام ہے کیا فائدہ ایسی سرپرستی سے مجھے خدمت سے انکار نہیں علماء کو میں اپنا بھائی سمجھتا ہوں اور طلبہ کو مثل فرزند کے سمجھتا ہوں مگر ضرورت اس کی ہے کہ خدمت طریقہ کے ساتھ لی جائے یہ تومحض بے ڈھنگا پن ہے کہ نہ اصول ہیں نہ قواعد مجھے آج تک یہی معلوم نہیں کہ میرے فرائض ہیں کیا اور یہ فساد کرنے والے اورمدرسہ سے مخالف کرنیوالے تو خود اغراض میں مبتلا ہیں الاماشاء اللہ شکایت توخود مجھ کو بھی کارکنان مدرسہ سے ہے مگر شکایت کا یہ طریقہ نہیں ، جو ان مخالف لوگوں نے اختیار کر رکھا ہے انہوں نے تو مدرسہ ہی کو بیخ بنیاد سے اکھاڑ دینے کا انتظام کردیا مجھ کو مدرسہ والوں کے ساتھ تو صرف طریقہ کا سے اختلاف ہے اور مخالفین کے ساتھ ان باتوں سے اختلاف ہے جو بدون تحقیق کا رکنان مدرسہ کے سرتھوپی گئیں آخردین بھی کوئی چیز ہے دشمنی میں بھی حدود سے تجاوز ہونا چاہئے دوسرے یہ کہ اگران کو دشمنی بھی ہے تو کارکنان مدرسہ سے نہ مدرسہ سے تو ایسی حرکت کرنا یا وہ طریقہ اختیا رکرنا جس سے مدرسہ کو نقصان پہنچے یہ کس درجہ عقل کی بات ہے اور خاص اغراض پورا کرنے کی وجہ سے چالاکیاں اور پالیسی اختیار کرنا کون سی کمال کی بات ہے ایسی پالیسی تو ہم بھی جانتے ہیں مگر استعمال سے نفرت ہے میں نے اس کی مثال میں ایک صاحب سے کہا تھا کہ گوہ کھانا کون نہیں جانتا سب جانتے ہیں ہاتھ میں لے کر منہ میں رکھ کرنگل جاوئے مگر دیکھنا یہ ہے کہ اس کا کھانا کیسا ہے کوئی شریف آدمی سلیم الطبع کبھی ایسی باتوں کو گوارہ نہیں کرسکتا اور نہ اختیار کرسکتا ہے طالب علموں میں جیسے غربت مسکنت انکساروغیرہ کی شان ہونا اوروں سے زیادہ احسن ہے ویسی ہی ان میں اس کے مقابل دوسری شان جیسے غرض پرستی پالیسی وغیرہ کا ہونا اوروں سے زیادہ اقبح ہے اللہ ان رذائل سے بچائے میں تو اس کی ایک مثال بیان کیا کرتا ہوں کہ خشک روٹی اگر بس بھی جائے آدمی کھاسکتا ہے لیکن زردہ پلاؤ بریانی قورمہ متنجن اگر خواب ہوگا تو گھر والوں کو توکیا پڑوسیوں تک کو محلہ میں نہ ٹھہرنے دے گا اس میں اس قدر بدبو تعفن ہوگا اسی طرح عوام کے عیوب سے علماء کے عیوب نہایت اقبح واشنع ہیں مگر افسوس ہے کہ آج کل ہم اہل علم نے دنیا کے جھگڑوں قصوں میں پڑکر درس تدریس سب ہی کچھ برباد کیا ورنہ اگر یہ اطاعت واخلاص اختیار کرتے تو بدون ان وسائط کے اللہ تعالیٰ ان کو ہرطرح کی کامیابی عطا فرماتا موسی ٰ علیہ السلام کے پاس کون سا سامان تھا حتی کہ جب ان کو تبلیغ کا حکم دیا گیا تو انہوں نے بے سامانی کو دیکھ کر یہ دعاء کی تھی ۔ ( رب انی قتلت منھم نفسا فاخاف ان یقتلون ) اے میرے رب میں ان میں سے ایک آدمی کا خون کردیا تھا ، سو مجھ کو اندیشہ ہے کہ وہ لوگ مجھ کو قتل کردیں ) اور جواب میں بجائے سامان عطا ہونے کے یہ ارشاد ہواتھا یجعل لکما سلطانا فلایصلون الیکما ( اور ہم تم دونوں کو ایک خاص شوکت عطا کرتے ہیں جس سے ان لوگوں کو تم پردستری نہ ہوگی ۔ 12) یہی صفت اللہ والوں کو عطاء فرماتے تھے یعنی ہیبت اور شوکت پس ان کا خداد اور رعب ہوتا ہے اسی کو مولانا رومی رحمتہ اللہ فرماتے ہیں ۔
ہیبت حق ست این از خلق نیست ہیبت ایں مرد صاحب دلق نیست
مجدد صاحب کو جہانگیر بادشاہ نے بلایا تھا اور تخت کے سامنے ایک عارضی کھڑکی لگوائی جس میں داخل ہونے والا بدون سرجکائے داخل نہ ہوسکے اوراس کھڑکی میں سے آپ کو آنے کا حکم ہوا مقصود یہ تھا داخل ہونے کے وقت تخت کے سامنے آپ کا سرجھکے گا آپ نے یہ لطیفہ کیا کہ اس کھڑی میں پہلے پیرداخل کئے تو اس صورت میں بادشاہ کی طرف پیرہوئے اس پربادشاہ پرہم ہوا اور مجدد صاحب کے قتل کا حکم دیا مگر دربار میں ایک مولوی صاحب تھے ولایتی انہوں نے سفارش کی تب قتل کا حکم قید سے مبدل ہوا اور گوالیار کے قلعہ میں قید کئے گئے ان حضرات پر کسی کا اثر نہیں ہوتا سوائے ایک ذات کے اوروہ حق سبحانہ تعالیٰ کی ذات ہے میں نے بڑے بڑے اہل جاہ کو کہتے سنا ہے کہ حضرت مولانا رشید احمد صاحب رحمتہ اللہ کے سامنے بولانہ جاتا تھا اور حالانکہ حضرت کی حالت یہ تھی کہ آواز بھی کبھی بلند نہ ہوتی تھی ملا محمود صاحب نہایت سادہ بزرگ تھے ایک مرتبہ سبق میں ایک طالب علم کے گھونسہ مارا وہ ہٹ گیا تو گھونسہ زمین پرلگا اور غصہ بھڑک گیا جوتہ پھینک کرمارا وہ اس کی زد سے بھی بچ گیا اور بھی غصہ بھڑک گیا بڑا شوروغل مچا میں ان کی درسگاہ سے ایک طرف کو جارہا تھا اس طرف حضرت مولانا قاسم صاحب رحمتہ اللہ تشریف رکھتے تھے مجھ کو بلایا اور واقعہ پوچھا باوجود یہ کہ نہایت سفقت فرماتے تھے مگر جواب دینے کی اہمت نہ ہوئی بات نہ کی جاتی تھی حتی گھونسہ کا لغت بھول گیا یہ ہیبت ان حضرات کو خدا داد عطاء ہوتی ہے ۔ انتھت رسالۃ شیون اھل الحق ۔
(ملفوظ 227)طریق سے اجنبیت کا عجیب حال:
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ طریق سے لوگوں کو اس قدر اجنبیت ہوچکی ہے کہ عوام توعوام خواص اور شیوخ تک اس کا مضحکہ اڑاتے ہیں یہ طریق سے عدم مناسبت کا پتہ دیتی ہے اور عدم واقفیت پردال ہے اپنی جماعت کے بہت لوگوں کی یہ حالت ہے دوسروں کی کیا شکایت ۔
(ملفوظ 226)قوت حافظہ میں کمی کے باوجود کام :
(ملفوظ 226) ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اجی حضرت میرے اندر کمال توکیا ہوتا جس زمانہ میں مدرسہ میں پڑھا کرتا تھا اسوقت بھی استعداد وغیرہ کبھی نہیں ہوئی اس لئے کہ میں نے توجہ سے پڑھا ہی نہیں اور نہ کبھی ذہن ایسا ہوا البتہ حافظہ میرا مدرسہ میں مشہور تھا اساتذہ میں بھی اور طلبہ میں بھی اور اب تویہ بھی یاد نہیں رہتا کہ مناجات مقبول کی منزل بھی پڑھی ہے یا نہیں باوجود اس نقص کے پھر جو کچھ کام ہوا یہ سب فضل خداوندی ہے اور یہ کو ئی فخر کی بات نہیں ہے وہ جس سے چاہیں اپنا کام لے لیں ہاں تحدیث بالنعمتہ کی صورت میں مسرت ضرور ہے ۔
(ملفوظ 225)ذہانت بھی خدا تعالٰی کی بہت بڑی نعمت ہے:
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ذہانت بھی خدا کی ایک بڑی نعمت ہے مولوی غوث علی صاحب پانی پتی سیاحت میں ایک مقام پرپہنچے وہاں معلوم ہوا کہ ایک شیعی وصیت کر مراہے کہ میرے دونوں بیٹیوں کی شادی حضرت امام مہندی علیہ السلام کے کی جائے اب وہ لڑکیاں بلکل جوان ہیں مگر حضرت امام کے انتظار میں ان کی شادی نہیں کی جاتی مولوی صاحب بڑے ہی دانشمند اور ذہین تھے کہا کہ ظاہرہے کہ حضرت امام تومتبع شریعت ہوں گے وہ دونوں بہنوں کوکیسے جمع کرلیں گے سوایک کا تونکاح کردینا چاہئے چنانچہ ایسا کردیا گیا پھرفرمایا کہ یہ بے انصافی ہے کہ ایک کی شادی ہودوسری کی نہ ہو دوسری کی بھی کردو اور وصیت پراس طرح عمل کیا جاوے کہ ایک یاداشت لکھ کرخاندان میں محفوظ کردو کہ حضرت امام کے وقت میں ان لڑکیوں کی نسل میں جولڑکی ہواس کو حضرت کے نکاح میں دیدیں چنانچہ سب نے پسند کرکے ایسا ہی کیا ۔
(ملفوظ 224)مسلمان ظلم کے سبب تباہ ہوئے :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مسلمان ظلم کے سبب تباہ ہوئے اب ہندوؤں نے ظلم شروع کیا ہے ان شاءاللہ یہ بھی تباہ ہوں گے ہنود کے پاس روپیہ ہے قانون دان ہیں مسلمانوں کے پاس کوئی سامان نہیں مگر ان کو کسی مادی سامان کی ضرورت بھی نہ تھی اگر یہ حق تعالٰی کو راضی رکھتے تمام پریشانیوں کی جڑ خدا تعالٰی سے صحیح تعلق کا نہ رکھنا ہے اور یہ مسلمانوں کی انتہائی بدفہمی ہے غیر قوموں کی بغلوں میں جاکر گھستے ہیں ان کواپنا دوست سمجھتے ہیں حق تعالٰی فرماتے ہیں انما ولیکم اللہ ورسولہ والذین امنوا حصر کے ساتھ فرماتے ہیں کہ تمہارا کوئی بھی دوست نہیں سوائےاللہ اور رسول اورمومنین کے۔

You must be logged in to post a comment.