(ملفوظ 223 )کرایہ کے دو ضروری مسئلے َََِِ: ِ

ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت اکثر کرایہ کے مکان میں درخت ہوتے ہیں امرود کے یا بیری وغیرہ کے ان کو پھل کرایہ دار کو کھانا جائز ہے یا نہیں فرمایا کہ بلااذن جائز نہیں ایک دوسرے سوال کے جواب میں فرمایا کہ گائے کوکوئی دودھ پینے کے لئے کرایہ پرلے لے یہ جائز نہیں اس پرفرمایا کہ فقہ کا باب بھی نہایت ہی ادہم ہے مجھ کوتو فتوی دیتے ہوئے بڑا ہی خوف معلوم ہوتا ہے اور بعض لوگوں کواس بڑی جرات ہے ذرا خوف نہیں کرتے ۔

( ملفوظ222) مشغولی میں تکلیف کا احساس نہیں ہوتا :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا آج جمع ہوۓ استفتوں کا جواب پورا ہو گیا مگر سر میں بھی درد ہو گیا یہ دیکھا ہے کہ جس روز کوئ بڑا کام ختم ہوتا ہے ختم کے بعد تکلیف محسوس ہوتی ہے جیسے منزل پر پینچ کے تکان ہوتا ہے اور درمیان میں مشغولی کی وجہ سے پتا بھی نہیں چلتا ۔

(ملفوظ 221)طالب اصلاح اپنی آؤ بھگت چاہتے ہیں :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل جوطالب کہلاتے ہیں ان کی بھی یہ حالت ہے کہ آتے ہیں اصلاح کی غرض سے اور چاہئے یہ ہیں کہ ہماری آؤ بھگت ہو خاطر تواضع ہو کھانا پینا بھی نفس کےموافق ہو مگر میرے یہاں بحمداللہ کوئی سامان اس قسم کی دلجوئی کا نہیں سب دلشوئی کے سامان ہیں پہلے بزرگوں نے اصلاح کے متعلق طالبوں پربڑی بڑی سختیاں کی ہیں میں تواس قدر سختی کرتا بھی نہیں حضرت شمس الدین ترک پانی پتی رحمتہ اللہ علیہ حضرت مخدوم علاؤ الدین رحمہ اللہ کی خدمت میں مدت دراز تک رہے اوران کے ساتھ برتاؤ کی یہ حالت رہی کہ آنے میں ذرا اوپرہوگئی تواسطرح خطاب ہوتا تھا کہ ارے آیا نہیں کیا ٹانگیں ٹوٹ گئیں مشہور یہ ہے کہ سچ مچ ٹانگوں سے معزور ہوجانے پر فرماتے جلدی چلوٹانگیں ٹھیک ہوجاتیں اوراس سے بھی سخت سخت الفاظ سے پکارا جاتا ہے بڑے دھکے مکے کھا کرآدمی بنتا ہے اب تو بدون پل صراط کوطے کئے ہوئے جنت میں جانا چاہتے ہیں خادمیت سے گھبراتے ہیں اتباع سے عار ہے بس ان کومخدوم بنادو اس زمانہ میں کچھ ایسا زہریلا اثر پھیلا ہے کہ ہرشخص کے اندر الاماشاء اللہ کبربھرا ہوا ہے دماغوں میں گوبر ہے پھر جب طالب ہوکر تمہارا یہ حال ہے تو دوسرا ہی تمہاری کو ن غلامی کرنے لگا وہ بھی آزاد ہے خصوص یہاں تو نرالا ہی رنگ ہے یہ للو پتو اور جگہ ہے یہاں پرتو قدم قدم پرروک ٹوک محاسبہ معاقبہ دار گیر ہوتی ہے بعد میں کہیں جاکر دوسری چیزیں ہیں پہلے میزان عدل ہےپھر پل صراط اس کوطے کرنے کے بعد جنت ہے ۔
16/ربیع الاول 1351ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم جمعہ

(ملفوظ 220)اہل عشق کی شان جدا ہوتی ہے :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اہل عشق کی شان ہی جدا ہوتی ہے یہ حضرات بظاہر اس عالم میں نظر آتے ہیں مگر معنی اس عالم میں نہیں ہوتے ہروقت محبت میں غرق رہتے ہیں نہ ہنسنے کا خیال نہ رونے کا نہ کسی سے ملنے کا شوق نہ کھانے کمانے کی فکر عشق ایسی ہی چیز ہے اور یہ حالت بدون عشق نہیں ہوسکتی یہ عشق ہی کا خاصہ ہے کہ سوائے محبوب کے سبکو فنا کردیتا ہے اسی کومولانا رومی فرماتے ہیں
عشق آن شعلہ است کوچوں برفروخت ہرچہ جزمعشوق باقی جملہ سوخت ،
تیغ لا در قتل غیر حق براند درنگر آخر کہ بعد لاچہ ماند ،
ماند الا اللہ و باقی جملہ رفت مرحبا اے عشق شرکت سو زرفت
گویا اسی کا ترجمہ گلزار ابراہیم میں کیاگیا ہے
عشق کی آتش ہے ایسی بد بلا دے سوا معشوق کے سب کو جلا
اس ہی لئے میں کہا کرتا ہوں کہ یہ حضرات مغلوب ہونے کی وجہ سے معزور ہیں ان کو اپنی ہی خبر نہ تھی ان پرملامت کرکے اپنی عاقبت خراب کرنا ہے کسی کو کیا خبر کہ ان پرکیا گذرتی ہے ۔

(ملفوظ 219)صاحب مقام راسخ ہوتا ہے :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ کوئی قاعدہ کلیہ اس طریق کا نہیں کیونکہ یہ طریق عشق ہے اور عشق کا انضباط ہی کیا مردہ کا کیا انضباط وہ تو زندہ کے ہاتھ میں ہے مردہ بدست زندہ مشہور ہے اسی کو مولانا نے کہاہے
خفتہ از احوال دنیا روز و شب چوں قلم در پنجہ تقلیب رب
( حق تعالیٰ کا عاشق دنیا کے رات دن کے احوال سے بے خبر ہوتا ہے جیسے کہ قلم دوسرے کے ہاتھ میں ہوتا ہے اسی طرح عاشق ) احکام خداوندی کا تابع ہوتا ہے ۔ 12)
البتہ صاحب مقام راسخ ہوتا ہے اس میں انقلاب کم ہوتا ہے بخلاف صاحب حال کے کہ اس کی کیفیا ت میں بکثرت انقلاب ہوتا ہے اور نا واقف لوگ صاحب کیفیات ہی کوزیادہ کامل سمجھتے ہیں حالانکہ کوئ چیز نہیں اصل چیز مقام گومقام بھی ایک اصطلاح میں حال ہی ہے مگر ہے راسخ اوراس درجہ کے شخص کے واردات بھی قابل اتباع ہوتے ہیں گودوسروں کے لیے نہ سہی مگر خود اس کے لئے قابل اتباع ہوتے ہیں حتی کہ اگر وہ ان واردات کا اتباع نہ کرے تواس کو کچھ نہ کچھ بستی میں ایک بزرگ رہتے تھے ایک اور مسافر بزرگ اس بستی میں آئے انہوں نے ان سے ملنے کا ارادہ کیا مگر ان کے قلب پروارد ہوا کہ مت جاؤ یہ نہیں گئے تھوڑی دیر بعد پھرارادہ کیا کہ ملنا چاہئے پھر وارد ہوا کہ مت جاؤ اس پرخیال ہوا کہ وجہ کیا ایک بزرگ اورنیک شخص ہیں معلوم ہوتا ہے کہ خیال بے بنیاد ہے ضرور ملنا چاہئے اٹھ کر چل دیئے تھوڑی چلے تھے ٹھوکر لگی اور گر کرٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی المام ہوا کہ تمیں ملنے سے منع کیا گیا تھا اس منع کی کیوں مخالفت کی بعد میں ممانعت کی معلوم ہوئی کہ وہ بزرگ بدعتی تھے جن کی ملاقات سے منع کیاگیا تھا تو وارد کی عدم اتباع پراس قسم کی تکوینی سزا ہوجاتی ہے مگر اخروی سزا نہیں ہوتی بس یہ ضررہوتا ہے اوروجہ اس کی غور سے کام نہ لینا ہے ملامت اس پرہوتی ہے کہ واقعہ میں تحقیق اوراختیار کیوں نہیں کی اس طریق میں بہت ہی دقیق باتیں پیش آتی ہیں اس واقعہ میں احتیاط یہی تھی کہ نہ ملتے کیونکہ اگر وہ شخص واقع میں بزرگ ہی تھے تب بھی ان سے ملنا کوئی واجب تونہ پھر اصول صحیحہ سے تحقیق کرسکتے ہیں ایسے امور میں خاص سمجھ کی ضرورت ہوتی ہے ۔

(ملفوظ 218)ابن الوقت بننے کی ضرورت ہے :

ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت اس کا پتہ نہیں چلتا کہ مجھ کو مخلوق سے وحشت کیوں فرمایا کہ اس کی تحقیق اورمعلومکرنے کی ضرورت ہی کیا ہے ابن الوقت ہونا چاہئے اگرمعلوم ہوجاوے اس پرراضی رہے اگرمعلوم نہ ہو اس پرراضی رہے ۔
چونکہ برمیخت بہ بندوبستہ باش چوں کشاید چا بک وبرجستہ باش
( جب تجھ کو باندھ دیں توبندھے رہو، اور جب کھول دیں تو ( تعمیل حکم کیلئے ) چست وچالاک رہو غرض راضی برضارہو۔ )
مبتدی کو ان تحقیقات اورفضول میں پڑنا ہی نہیں چاہئے اس سے تشویش ہوتی ہے اور تشویش سے مبتدی کوسخت نقصان پہنچتا ہے اس کو ضرورت ہے یکسوئی کی پھرمزاحا فرمایا پھرچاہے پاس ایک سوئی نہ ہو البتہ منتہی کوان چیزوں سے نقصان نہیں پہنچتا منتہی ان چیزوں پرخود غالب ہوتا ہے اس لئے کہ وہ ابوالوقت ہوتا ہے ۔

(ملفوظ 217)اللہ تعالٰی نے حضرت حکیم الامت سے طریق زندہ کرنے کی خدمت لی :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک مدت سے بہت بڑا حصہ تصوف کا مردہ ہوچکا تھا کام کرنے والوں کو بھی خبرنہ تھی کہ ہم کیا کررہے ہیں اور اس کا کیا انجام ہے بس اندھیری کوٹھڑی میں الاد ہند چلے جارہے تھے کچھ خبر نہ تھی خواہ سرپھوٹے یا ٹانگ ٹوٹے اب بحمداللہ طریق کافی طور پرواضح ہوگیا مدتوں کے بعد یہ طریق زندہ ہوا ہے گواب بھی بدفہم لوگ اس فکر میں ہیں اور چاہتے ہیں کہ اصلاح کا باب بند ہوجائے مگر چاہا ہوا توحق ہوا توحق سبحانہ تعالٰٰی ہی کا ہوتا ہے اور کسی کے چاہے سے ہوتا ہی کیا ہے فرماتے ہیں ۔ مایفتح اللہ للناس من رحمۃ فلا یمسک لہا وما یمسک فلامرسل لہ من بعدہ وھوالعزیزالحکیم اب ان شاءاللہ تعالیٰ صدیوں تک کے لئے طریق بے غبار ہوگیا اور اگر پھربھی کچھ گڑبڑ ہوئی توحق تعالٰی اور کسی کو پیدا فرما دیں گے یہ ان کی رحمت ہے جس سے چاہے اپنا کام لے لیں کسی خاص شخص پرموقوف نہیں ۔

(ملفوظ 216)تکرار فرائض کو فقہاء نے منع کیا ہے :

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اہل طریق پراعراض کرنے والے بدفہم ہیں ورنہ یہ حضرات ہرگز قابل ملامت نہیں مگر مدامت کرنے والوں کو ان کے عذر کی خبر نہیں دیکھئے تکرار فرض کو فقہاء منع کرتے ہیں مگر بوقت وفات حضرت سلطان جی کی یہ حالت تھی کہ باربار غشی سے اٹھتے اور پوچھتے کہ میں نے نماز پڑھی یا نہیں عرض کیا جاتا کہ پڑھ چکے شدت شوق عبادت میں فرماتے لاؤ پھر پڑھ لو نہ معلوم پھر کیا موقع ہے ایسے عاشق لوگوں پرکیا ملامت فقہا بھی اصل سے اس کے مانع نہیں منع کی علت یہ فرماتے ہیں کہ تکرار فرض منسوخ ہوگیا اس سے معلوم ہوا کہ پہلے مشروع تھا سویہ منسوخ ہونا خود مجتہدین میں مختلف فیہ ہوسکتا ہے تو ممکن ہے کہ سلطان ہی کے نزدیک منسوخ نہ ہوا ہو اور کسی ایسے عالم محقق کا مجتہد ہونا غیرمجتہد فیہ ہوسکتا ہے علماء اورمشائخ کے ایسے اختلاف میں ہمارے حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کا یہ فیصلہ تھا کہ اگراعمال ظاہرہ میں اختلاف ہوتو فقہاء کے مسئلہ پرعمل کرتا ہوں اور اگر اعمال باطنہ میں اختلاف ہوتو صوفیہ کے قول پرعمل کرتا ہوں سبحان اللہ کیسا عجیب اور حکیمانہ فیصلہ ہے ۔

(ملفوظ 215)کیا انسان کے بال ناخن کسی کے ملک بن سکتے ہیں :

ایک مولوی صاحب کے جواب میں فرمایا کہ اس مسئلہ کے ملنے کی امید نہیں کہ انسان کے بال ناخن کس کے ملک بن سکتے ہیں یا نہیں اور حر کے متعلق توشبہ ہی نہیں وہ تو ملک ہوہی نہیں سکتے مگر غلام کے متعلق تردد ہے کہ اس کے ناخن بھی کسی کے ملک ہوں گے یا نہیں مگرغالبا یہ جزئیہ بھی نہ ملے گا البتہ قواعد سے یہ ہی معلوم ہوتا ہے کہ ملک نہ ہوگا جدا ہوجانے کے بعد مولیٰ کی ملک سے نکل جاتا ہے ۔

(ملفوظ 214)موضع نجاست کا حکم :

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ جوموقع موضوع ہو، نجاست کے واسطے گواس وقت وہاں نجاست نہ ہو وہاں قرآن مجید نہ پڑھنا چاہئے جب تک اس کا وہ استعمال نہ چھوڑ دیا گیا ہو فلاں صاحب نے نجاست نہ ہونے کے وقت علی الاطلاق جائز کہہ دیا ہے مگریہ جواب جی کو نہیں لگتا آخرقواعد بھی تو کوئی چیز ہیں مگر ان کے جواب میں کوئی قید ہی نہیں غالبا عبارت نا تمام معلوم ہوتی ہے شاید ذہن سے ذہول ہوگیا ہو بہرحال ایسے موقع پرجہاں اہل فتویٰ کے اقوال میں احتیاط ہو وہاں تو ان کا اتباع کرنا چاہئے اور جہاں ان کے یہاں احتیاط نہ ہو وہاں اپنی رائے پرجس میں احتیاط ہو عمل کرے میں تویہی زیادہ تلاش وغیرہ بھی نہیں کرتا ایسے موقع پراحتیاط کا پہلو اختیار کرلیتا ہوں ۔