ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ جی ہاں جن کی طبیعتوں میں سلامتی ہوتی ہے ان کوتو ذکر وشغل سے نفع ہوتا ہے عجزوانکساری کی شان پیدا ہوتی ہے ورنہ اسی سے ناز پیدا ہوجاتا ہے کہ اپنے کو ذاکر سمجھنے لگتے ہیں میں اکثر کہا کرتا ہوں کہ دوچیزیں ایسی ہیں جن سے کج طبعوں کو ناز پیدا ہوجاتا ہے ایک ذکروشغل سے اور ایک بڑھاپے سے اس لئے کہ لوگ بوجہ بڑا ہونے کے رعایت کرنے لگتے ہیں یہ اس کو اپنی بڑائی اوربزرگی پرمحمول کرنے لگتا ہے یہ نہیں سمجھتا کہ میں بڑا آدمی ہوگیا ہوں اس لئے لوگ رعایت کرتے ہیں اور حضرت بڑائی اور بزرگی توبڑی دور کی چیز ہے اگر ایمان ہی دنیا سے سلامت چلا جائے یہ ہی غنیمت ہے اسی کو بڑی دولت سمجھنا چاہئے اور یہ مرنے سے پہلے معلوم ہو نہیں سکتا پھرنازکیسا ۔
ملفوظات حکیم الامت جلد نمبر 4
(ملفوظ 211)آج کل کی بڑی بزرگی :
ایک صاحب کی ایک متکبرانہ غلطی پرمواخذہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ آج کل توبڑی بزرگی اورولایت یہ ہے کہ ہاتھ میں تسبیح لیلٰی اور آہستہ آہستہ جھک کرچل لئے کوئی سمجھے گا بڑے کوئی شیخ المشائخ آرہے ہیں یا خضرعلیہ السلام دریا سے نکل کرآگئے ہیں اس کا بلکل ہی ایتمام نہیں کہ ہماری بدتمیزی اور بدتہذیبی کی بھی اصلاح ہوئی یا نہیں تمہاری اس غلطی کا سبب محض تکبرہے شرم نہ آئی کہ اور مسلمانوں کی طرف پیٹھ کرکے بیٹھ گئے گویا یہ ہی سب کے بڑے ہیں آخران میں اور مسلمانوں سے کون سی زائد چیز ہے مجھ کوسب میں زیادہ تکبر سے نفرت ہے تکبر میں اور اس طریق میں توبعدالمشرقین ہے اول قدم اس طریق میں اپنے کو فنا کرنا اورذلیل سمجھنا ہے ہر شخص سے اپنے کوذلیل وخوار سمجھے اگر یہ بات نہ پیدا ہوئی تو وہ محروم رہا اس نے کچھ حاصل نہ کیا اور یہ تو امور طبعی ہیں میرے نزدیک تو یہ سکھلانے کی باتیں نہیں مگر بے حسی کا کسی کے پاس کیا علاج بعض لوگوں کو اپنے کو بزرگ سمجنھے کا مرض ہوجاتا ہے مگرجس کو یہ معلوم نہ ہو کہ میں کس طرح اور کس حال میں مروں گا اس کو تقدس پر کیسا ناز اللہ بچائے جہل سے اورصاحب ناز کسی بات پرہوشاید ساری عمر میں ایک رکعت بھی ایسی یاد نہ آویگی کہ خدا کے حکم کے موافق ادا کی ہو پھریہ ناقص بھی جیسی کچھ ہے ان کا فضل ہے انعام ہے احسان ہے ورنہ ہم تواس کی توفیق کے بھی مستحق نہ تھے ۔
(ملفوظ 210) حق تعالٰی کا اپنے کام میں لگانا بڑی نعمت ہے :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حق تعالیٰ جس کو بھی اپنے کام میں لگالیں اور توفیق عطاء فرمادیں بڑی ہی دولت ہے بڑی ہی نعمت ہے ایسا شخص دنیا کی طرف متوجہ ہونہیں سکتا اورایک وقت میں دوطرفہ توجہ ہوبھی کب سکتی ہے یہ ہی وجہ ہے کہ یہ لوگ اور کاموں کے نہیں رہتے اسی وجہ سے ان کولوگ دیوانہ سمجھتے ہیں دیوانہ تو ضرور ہیں مگر یہ بھی معلوم ہے کہ کس کے دیوانہ ہیں اس دیوانگی کو فرماتےہیں
مااگر قلاش وگردیوانہ ایم مست آں ساقی وآں پیمانہ ایم
( ہم اگرچہ مفلس اور دیوانے ہیں ، مگراس ساقی اورپیمانے کے مست ہیں )
یہ خدا وند جل جلالہ کے دیوانہ ہیں ان کے عاشق ہیں جب کے عشق میں آدمی کسی اورکام کا نہیں رہتا توخالق ک عشق کا کیا پوچھنا اسی کو فرماتے ہیں
عشق مولٰی کے کم از لیلٰے بود گوئے گشتن بہراو اولے بود
( حق تعالٰی کا عشق لیلی سے عشق سے کب کم ہوتا ہے ، حق تعالٰی لے لئے گیند بن جانا زیادہ والیٰ ہے ۔ 12)
اور معترض کا منہ نہیں کہ وہ اس مذاق پراعتراض کرسکے اس لئے کہ وہ خود ہی دیکھ لے کہ ایک فانی چیز کی یعنی دنیا کی طلب میں کیسا کھپا ہوا ہے کہ اپنے خالق اور پیدا کنندہ کو بھی بھول گیا اپنے اپنے محبوب پرسب ہی مٹا کرتے ہیں باوجود اس کے جب طالب دنیا کو کوئی دیوانہ نہیں کہتا تو پھرایسوں کو جولوگ دیوانہ اور پاگل کہیں وہ خود پاگل ہیں۔
(ملفوظ 209)وساوس کا علاج :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک صاحب نے وساوس کی شکایت لکھی تھی میں نے لکھا تھا کہ اس طرف التفات مت کرو اورکثرت سے میرے مواعظ دیکھا کروآج خط آیا ہے لکھا ہے کہ وہ شیطانی وساوس آنے بند ہوگئے ایک آدھ کبھی آتا بھی ہے تو اس طرح جیسے بجلی کوند کرنکل جاتی ہے اس پرفرمایا کہ جب آدمی خلوص س کام کرتا ہے اورطلب صادق ہوتی ہے ضرور نفع ہوتا ہے مگریہ بات لوگوں میں رہی ہی نہیں ۔
(ملفوظ 208)ایک سب جج کی بدسلیقگی :
فرمایا کہ ایک صاحب کاخط آیا ہے یہ ایک مقام پرسب جج ہیں انہوں نے بہشتی زیور کی بہت تعریف لکھی ہے اورلکھاہے کہ ایک مکمل جلد جلد سے جلد روانہ کرادی جائے ۔ میں نے لکھا ہے کہ یہ فرمائش میری گرافی کا سبب ہوئی اول میں تاجر کوتلاش کروں پھر اس سے فرمائش کروں اس کے بعد تکمیل فرمائش کی معلوم کروں اگرآپ کوکسی تاجر کا پتہ نہ معلوم ہوتو اس کا پتہ مجھ سے پوچھ سکتے ہیں اس پر فرمایا کہ اتنا بھی سلیقہ نہیں یہ سب ججی کیا خاک کرتے ہوں گے فیصلے بھی بدون تحقیق کرتے لوگ ہوں گے ۔
(ملفوظ 207)مقصود اصلاح نفس ہے :
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ مقصود تو اصلاح نفس ہے اب اسکی تعبیر چاہے جن الفاط میں کرلی جاوے طریق کا مقصود اورحاصل صرف یہی ہے اوراسی اصلاح کے طرق اور تدابیر کو اصطلاح میں سلوک کہتے ہیں اوریہ طریق بالتخصیص واجب اور فرض نہیں اصلاح فرض ہے خواہ دوسری تدابیر سے ہو اصل مقصود اصلاح نفس ہے اس پربھی اگر معترض اعتراض کرے تو اس بدفہمی کا ہمارے پاس کوئی علاج نہیں آخرطبیب جسمانی بھی تو تدابیر کو اختیار کرتا ہے اس کوکوئی بدعت نہیں کہتا تواس میں اور اس میں کیا فرق ہے البتہ خاص تدابیر کو کوئی قربت مقصود سمجھ جائے تووہ ضرور قابل نکیرہے لیکن کسی محقق کا یہ مسلک نہیں ۔
(ملفوظ 206) متکبرین کا علاج خانقاہ امدادیہ میں :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ان متکبروں کا علاج بحمداللہ یہاں پرآکر بہت اچھی طرح ہوتا ہے ان کے دماغوں کاخناس خوب نکالا جاتا ہے حضرت مولانا محمود حسن صاحب رحمتہ اللہ علیہ دیوبندی ایسے لوگوں سے فریاد کرتے تھے کہ ایسے متکبروں کوتو تھانہ بھون بھیجنا چاہئے وہیں درست ہوتے ہیں حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمتہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ جس کا پیرٹرانہ ہواس مرید کی اصلاح نہیں ہوسکتی ۔
(ملفوظ 205)امام صاحب کے نزدیک گاؤں میں جمعہ جائزنہیں :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل دیہات میں جمعہ کرنے اورکرانے کا لوگوں میں بڑا زور شور ہے حالانکہ امام صاحب کے نزدیک گاؤں میں جمعہ جائزنہیں گاؤں میں جمعہ پڑھ کرظہر ذمہ میں باقی رہتا ہے مگر کچھ پرواہ نہیں احکام کا اتباع تھوڑا ہی مقصود ہے اپنے جی چاہے کا اتباع کرتے ہیں دین تھوڑا ہی مقصود ہے نظر تواس پرہے کہ کوئی ان سے یہ سوال کرے کہ آج کی نماز ظہر کی تم نے نہیں پڑھی تواسکا کیا جواب ، جمعہ پڑھنے سے جہاں پرجمعہ صحیح نہ ہو ظہر سرسے تھوڑا ہی اترسکتا ہے ایک شخص مجھ سے کہنے لگے کہ گاؤں میں جمعہ کیون نہیں ہوتا اس کی کیا وجہ میں نے کہا کہ بمبئی میں حج کیوں نہیں ہوتا اس کی کیا وجہ بس گم ہوگئے پھر کچھ نہیں بولے اپنے ہی اعتراض کا جواب لینا آتا ہے دوسرے کا بھی توجواب دینا چاہئے ۔
(ملفوظ 204 )شرائط سماع ازفوائدالفواد:
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرات صوفیہ کو بدنام کیا جاتا ہے کتنے غضب اورظلم کی بات ہے کہتے ہیں کہ ان کے اعمال سنت کے خلاف تھے یہ بدعتی تھے خود حضرت سلطان جی سے سماع کے لئے بہت شرائط منقول ہیں باقی اگرکسی سے کسی شرط کے کم ہوتے ہوئے صدور ہو گیا ہو تو اس کی وجہ دوسری طرف کاغلبہ ہے جس کو عشاق ہی سمجھ سکتے ہیں پھر کیفیت خاص ان حضرات کی سماع ہی پرموقوف نہ تھی ایک مرتبہ حضرت سلطان جی نے فرمایا کہ کسی قوال کو بلاؤ تلاش کیا اس وقت نہ ملا فرمایا اچھا دیکھو قاضی حمیدالدین ناگوری کا خط آیا ہوا ہے وہ لاؤ لایا گیا فرمایا پڑھ کرسناؤ ایک خادم نے پڑھنا شروع کیا اس کے اول میں یہ عبارت تھی ازخاک پائے درویشاں وگردراہ ایشان بس اسکو سنتے ہی حضرت پروجدطاری ہوگیا تین دن رات یہ ہی کیفیت رہی نماز کے وقت ہوش ہوجاتا اورجہاں نمازسے فراغ ہوا پھراسی کیفیت کا غلبہ ہوجاتا تھا غرض ان کے مغلوب ہونے کی یہ حالت تھی اسی لئے میں کہا کرتا ہوں کہ وہ حضرات معذور تھے ان کو برا کہ کر کیوں اپنی عاقبت خراب کرتے ہو ایک شخص تھے فضل الرحمن مولانا فیض الحسن کے داماد وہ ایک پنجاب کے بزرگ کی حالت بیان کرتے تھے کہ پنکھے کی آواز پرکواڑکی آواز پران کو وجد ہوجاتا تھا اور ان کے وجد کو آج کل کے جہلاء کے سماع ووجد پرقیاس نہیں کرنا چاہئے اب توسماع شہوت اور لذت کے وابطے سنتے ہیں مولانا نصیرالدین چراغ دہلوی حضرت سلطان جی کے خلیفہ ہیں یہ سماع کے خلاف تھے انہوں نے ایک شخص کے اس سوال پرکہ آپ کے شیخ توصاحب سماع ہیں جواب فرمایا تھا کہ شیخ کافعل سنت نہیں ہوتا یہ حضرت کو پہنچایا گیا کہ نصیرالدین آپ کے متعلق ایسا فرماتے ہیں فرمایا کہ نصیرالدین راست می گویند، یہ حالت ہے ان حضرات کی اب اس کے سوا کیا کہا جاسکتا ہے کہ غلبہ حال میں ایسا ہوتا تھا اس لئے وہ حضرات معذور تھے حضرت سلطان نظام الدین صاحب قدس سرہ فوائدالفواد میں سماع کے متعلق چارشرائط فرماتے ہیں سامع مسمع ، مسموع، آلہ سماع اوراس کی اس طرح تفصیل فرماتے ہیں۔ سامع ازاہل دل باشد ازاہل ہواوشہوت نباشد ، مسمع مردتمام باشد کودک وزن نباشد ۔ مسموع مضمون ہزل نباشد ، آلہ سماع چنگ ورباب درمیان نباشد، اسی طرح ایک بزرگ سے ان کے کسی مرید نے اپنے لئے سماع کی اجازت چاہی اورخود ان کے فعل کو سند میں پیش کیا ان بزرگ نے مجلس سماع قائم کراکر اوراس شخص کے ہاتھ میں پانی کا کٹورا بھروا کررکھ دیا اور جلاد سے ظاہر میں کہا کہ اگرایک قطرہ بھی پانی کا زمیں پرگرے فورا اس شخص کی گردن اوڑا دینا اورخفیہ منع فرمادیا وہ کٹورا لئے اسی فکر میں بیٹھا رہا کہ کہیں پانی نہ گرپڑے اورسماع ہوتا رہا آخرجب مجلس ختم ہوگئی بزرگ نے پوچھا کہو کچھ لطف آیا عرض کیا کہ خاک لطف آیا میں تواسی مراقبہ میں رہا کہ اگر ایک قطرہ پانی کا گرا تو وہ میرے خون کا قطرہ ہوگا فرمایا بس تم کو ذراسی مشغولی میں کچھ لطف محسوس نہ ہوا اور یہاں تو چوبیس گھنٹے ارے چلتے ہیں تو ہم کو نفسانی لطف کہاں پھر اپنے کوہمارے ارپر قیاس چہ معنی تویہ لوگ حقیقت میں معذورہیں۔
(ملفوظ 203)ایک جوگی کے حضرت سلطان نظام الدین دہلوی کے مرض سلب کرنے کی حکایت :
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ پہلے مرتا ض لوگ بڑے بڑے طویل زمانہ تک حبس دم کرتے بوجہ ضعف قوی کرنے سے بھی ایسا نہیں ہوتا ، ایک فقیر نے حبس دم کا انتظار کیا تھا نا کامیاب رہا دماغ خراب ہوگیا اب قوی بوجہ کمزوری کے ایسی مشقتوں کی برداشت نہیں کرسکتے پہلے زمانہ میں توہندو بڑی بڑی محنتیں کرتے تھے اب ان میں بھی صاحب اثرنہیں گو ایسا اثر مطلوب نہیں حضرت سلطان نظام الدین قدس سرہ کے زمانہ میں ایک جوگی تھا اس نے یہ مشق کی تھی کہ مریض پرنظرڈال کرمرض سلب کرلیتا تھا ایک مرتبہ حضرت سلطان نظام الدین صاحب قدس سرہ پرایک دورہ پڑا جس میں بے ہوشی جاتی تھی ہوش آجانے پرخدام نے عرض کیا کہ اگر اجازت ہوتو فلاں جوگی کےیہاں جومرض کو سلب کرلیتا ہے حضرت کا پلنگ لے چلیں دورہ ہوگیا اور بہیوشی طاری ہوگئی مریدین کو پیرسے عشق کا درجہ ہوتا ہی بےخلوص ہوتا ہے پیرکی تکلیف برداشت نہیں کرسکتے آپس میں مشورہ کرکے اور پلنگ اٹھا کراس جوگی کے مکان پرجا رکھا اورخلاف کرنے کا تدارک معانی چاہئے سے سوچ لیا اس نے دیکھا کہ اتبا بڑا شخص میرے مکان پرٰآیا پھولا نہیں سمایا فورا سب کام چھوڑا اس طرف متوجہ ہوا اور فورا مرض کو سلب کرلیا حضرت ایک دم اٹھ کربیٹھ گئے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کوئی مرض ہواہی نہ تھا دیکھا کہ جوگی کا مکان ہے سمجھ گئے کہ یہ لوگ محبت کی وجہ سے میرے تکلیف کو برداشت نہیں کرسکے اس لئے کسی کو کچھ نہیں کہا بلکہ اس جوگی کی طرف متوجہ ہوئے اور دریافت فرمایا کہ یہ بتلاؤ کہ یہ تاثیر جوتمہارے اندر ہے یہ کیا ہے اور عمل کی بدولت ہے اس عرض کیا کہ میرے پاس صرف ایک چیز ہے جومیرے گرونے مجھ کو تعلیم کی تھی اور وہ یہ کہ کہ کہا تھا کہ ہمیشہ نفس کے خلاف کرنا مطلب یہ کوئی نفس کا چاہانہ کرنا بس میرے پاس صرف یہی ایک عمل ہے اس کی بدولت یہ تصرف کرتا ہوں اورمرض کوسلب کرلیتا ہوں یہ سن کرحضرت سلطان جی نے دریافت فرمایا اچھا یہ بتلاؤ کہ تمہارا نفس مسلمان ہونے کوچاہتا ہے عرض کیا کہ نہیں فرمایا پھرگرو کی تعلیم پرکہاں عمل رہا ادھر تویہ فرمایا اور ادھر توجہ کی نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے ایک دم کلمہ پڑھ لیا اورمسلمان ہوگیا آپ نے درحقیقت اس پربھی عمل کیا ھل جزاء الاحسان الا الاحسان اس نے آپ کی مرض جسمانی کو سلب کیا تھا آپ نے اس کے مرض باطنی کو یعنی کفر کو سلب فرمایا احسان کا بدلہ احسان ہوگیا ۔

You must be logged in to post a comment.