(ملقب بہ احکام التبرکات ) ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اس جبہ کے متعلق جو کہ جلال آباد میں ہے اصل چیز جو قابل تحقیق اور قابل غور ہے دوامر ہیں ایک تویہ کہ اس کے ثبوت کا درجہ کیا ہے اورایک یہ کہ اس کے ساتھ معاملہ کیا کرنا چاہئے سواس کو ایک مثال سے سمجھ لیجئے جیسے ایک سیدھا ہو اور اس کے سید ہونے میں اختلاف ہوتواس کا درجہ ثبوت تومحض احتمال ہے اور اس کے ساتھ معاملہ ہرشق میں احتیاط کا کیا جاوے گا مثلا اس کا احترام بھی کیا جاوے گا اور اس کو زکوۃ بھی نہ دی جاوے گی اورجوشخص یہ احتیاط نہ کرے اس سے نزاع بھی نہ کیا جاوے گا ۔ دیکھئے سعد بن وقاص کے بھائی عتبہ نے حضرت سعد کو زمعہ کی لونڈی سے جوان کا لڑکا پیدا ہوا تھا وصیت کی تھی کہ اس پرقبضہ کرلینا وہ میرے نطفہ سے ہے مگرحضور ﷺ نے الولد للفراش کے قاعدہ سے وہ لڑکا ان کو نہیں دیا لیکن اشتباہ کے سبب حضرت سودہ کو اس لڑکے سے پردہ کرنے کاحکم دیا سو اس واقعہ میں حضورﷺ نےاس قدر ضعیف احتمال پر احتجاب کا وہ معاملہ کیا جیسا کہ اصل کے ساتھ یعنی عتبہ سے اس لڑکے کا نسب ثابت ہوتا معاملہ کیا جاتا آج سمجھ میں آیا یہ دونوں باتیں آج ہی سمجھ میں آئیں آپ نے سوسمار نہیں کھایا اس احتمال پرکہ یہ کوئی امت مسموخہ نہ مگر چونکہ اس وقت تک یہ محض احتمال کے درجہ میں تھا اس لئے دوسرون کو منع بھی نہیں کیا دیکھئے آپ نے اپنی ذات کے لئے احتمال کے ساتھ وہ معاملہ کیا جوحقیقت کے ساتھ کیاجاتا مگر دوسروں کو مجبور نہیں کیا اسی طرح یہاں پربھی دوسروں کو اس جبہ سے برکت حاصل کرنے پرمجبورنہ کیا جاوے اور خود اگرچاہے برکت حاصل کرے اورمیں نے ایک اور صاحب کے سوال کے جواب میں یہ بھی لکھا ہے کہ تعزیوں کو اس پرقیاس نہ کیا جاوے کیونکہ وہاں مانع شرعی موجود ہے کہ یہ آلہ ہے شرک اورکفر کا ایک شخص نے حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کو اس طرح خواب میں دیکھا کہ حضرت جلال آباد کا یہی جبہ پہنے ہوئے ہیں حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے تعبیر فرمائی کہ حضرت سنت کے متبع ہیں توحضرت کے ارشاد سے اس کو صحیح سمجھنے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے ۔ حضرت مولانا گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ نے میرے خط کے جواب میں اس کے متعلق تحریر فرمایا تھا کہ اگر منکرات سے خالی موقع مل جائے توزیارت سے ہرگز ہرگز دریغ نہ کریں میں نے اس میں ایک مقدمہ اور ملایا ہے کہ شرعی مخدوم بھی نہ ہوزیارت کرنے میں اس مقدمہ کوملانے کے بعد مطلق زیارت کرنے میں جبکہ منکرات سے پاک ہو کوئی قباحت نہیں رہتی ۔
حضرت شاہ عبدالعزیزصاحب رحمتہ اللہ علیہ نے ایسی چیزوں کے متعلق کسی تحریرمیں جس کی تعیین یاد نہیں فرمایا ہے کہ جب حضور ﷺ کا نام آگیا توہمیں احترام ہی کرنا چاہئے اوراس جبہ کے متعلق بعض اوقات اس کے خدام میں مشہور ہیں مثلا کوئی شخص زیارت کو آیا اورمخلص نہ ہوتو قفل نہیں کھلتا دوسرے وقت کھل جاتا ہےاور ایک برکت توخاص معلوم ہوتی ہے وہ یہ کہ اس کے جوخدام ہیں وہ لالچی نہیں اگر کوئی کچھ بھی نہ دے تو غریب زیارت کراکرچلے جاتے ہیں جوکھانے کو دیا کھالیتے ہیں خود وہ بھی طلب نہیں کرتے ۔ ایک شخص تھے حاجی عبدالرحیم میرے بھائی کے کارندہ وہ بیان کرتے تھے کہ ایک شخص غریب آدمی تھا اس کو کچھ ضرورت ہوئی کہیں سے ادھار نہیں ملا تو اس نے قرآن شریف لے جاکر ایک ہندو سے کہا کہ اس کو رکھ لو اور دو روپیہ دیدو اس نے بڑے ادب واہتما م سے لے لیا اوردو روپیہ دیئے جب اس شخص میں وسعت ہوئی تو یہ اس ہندو کے پاس گیا اور کہا کہ یہ روپیہ لیلو اور قرآن شریف دیدو اس ہندو نے ہاتھ جوڑکر کہا کہ اگر لیجاؤ توتمہارا قرآن ہے لیکن اگرچھوڑدو تو بڑا احسان ہوگا جس روز سے یہ قرآن دکان میں آٰیا ہے بڑی برکت معلوم ہوتی ہے اور اس جبہ میں اورتغریوں میں فرق بیان کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ یہ تو تغریوں کا حکم اصلی ہے باقی بعض عوارض کی وجہ سے یہ بدل بھی جاتا ہے اس کے متعلق ایک واقعہ بیان فرمایا کہ ایک گاؤں ہے کانپور کے ضلع میں گجنیر پورپ میں وہاں کے لوگوں کے متعلق شدھی ہونے کی خبرسنی تھی میں اس گاؤں میں ایک مجمع کے ساتھ گیا اوراس باب میں ان لوگوں سے گفتگو کی ان میں ایک شخص تھا جوذرا چودھری سمجھا جاتا تھا میں نے اس کو بلا کردریافت کیا کہ سنا ہے کہ تم شدھی ہونےکو تیار ہو اگرتم کواسلام میں کچھ شک ہوہم سے تحقیق کرلو اس نے کہا کہ میرے یہاں تعزیہ بنت ہے ( بنتا ہے ) پھرہم ہندو کا ہے کوہونے لگے میں نے اس کو تغریہ کی اجازت دیدی کیونکہ یہاں عارض کے سبب یہ بدعت وقایہ تھی کفرکی اور میری اس اجازت کا ماخذ ایک دوسرا واقعہ تھا کہ اجمیر میں حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے اہل تعزیہ کی نصرت کا فتویٰ دیدیا تھا قصہ یہ تھا کہ مولانا ایک زمانہ میں اجمیر تشریف تشریف رکھتے تھے عشرہ محرم کا زمانہ آیا اور غالبا ایک درخت کے نیچے سے تعزیہ کے گذرنے پرشیعی صاحبان اور ہندوں میں جھگڑا ہوا اب صورت یہ تھی کہ اگرتنہا شیعی صاحبان مقابلہ کریں توغلبہ کی امید نہ تھی اس لئے کہ ان کی جماعت قلیل تھی اورہندوں کی کثیر اس بناء پرشہر اجمیر کے عمائد مسلمان سنیوں نے مقامی علماء سے استفتا کیا کہ یہ صورت ہے ہم کوکیا کرنا چاہئے وہاں کے علماء نےجواب دیا کہ بدعت اور کفر کی باہم لڑائی ہے تم الگ رہنا چاہئے پھراہل شہر جمع ہوکر مولانا کے پاس آئے اورکل واقعہ عرض کیا اور کفر کی لڑائی ہے مگر یہ بھی تودیکھنا ہے کہ کیا ہندواس کو بدعت سمجھ کر مقابلہ کررہے ہیں یا اسلام سمجھ کرمقابلہ کررہے ہیں سویہ بدعت اور کفر کی لڑائی نہیں بلکہ اسلام اور کفر کی لڑائی ہے یہ شیعی صاحبان کی شکست نہیں بلکہ اسلام اور مسلمانوں کی شکست ہے لہذا اہل اتغریہ کی نصرت کرنا چاہئے اسی طرح تعزیہ بدعت ضرورہے لیکن وہاں میں نے اس کووقایہ کفر سمجھ کراجازت دیدی ہمارے بزرگ بحمداللہ جامع بین الاضداد تھے جو محقق کی شان ہوتی ہے ۔
ملفوظات حکیم الامت جلد نمبر 4
(ملفوظ 201)احکام ومسائل میں اپنی رائے دینے کا مرض :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہ مرج آج کل بہت عام ہوگیا ہے کہ احکام اور مسائل میں رائے لگاتے ہیں جس کا مطلب یہ ہوا کہ شریعت مقدسہ کو اپنے تابع بنانا چاہتے ہیں کہتے ہیں ہمارے خیال میں یوں ہونا چاہئے اس بدفہمی کا کیا علاج کہ خالق کے مقرر کردہ احکام میں رائے زنی کرتے ہیں ۔ ارے تم ہو کیا چیز اور تمہارا خیال ہی کیا ہے یہ تو ایسا ہے جیسے ایک دانسشمند انسان کی رائے پرچند بھنگے مل کررائے دیں یا پانی کے اندر جوخرد بین سے کیڑے نظرآتے ہیں وہ کسی دانشمند انسان کی رائے کے مقابلہ میں اپنی رائے پیش کریں اور اپنے خیال کا اظہار کریں سو جونسبت ان کیڑوں کو انسان سے ہوگی بندوں کو حق تعالٰٰی سے اتنی نسبت بھی نہیں ان کی ذات وراءالوراء ہے چہ نسبت خاک رابعالم پاک ہی لوگوں کی نسبت کہا گیا ہے
گربہ میروسگ وزیروموش رادیواں کنند ایں چنیں ارکان دولت ملک راویراں کنند
( بلی کو صدر سلطنت اور کتے کو وزیراعظم اور چوہے کو وزیرمملکت بنادیں توایسے ارکان دولت ملک کوویران کردیں گے )
واقعی بات یہ ہے کہ حق تعالٰی خود اپنے دین کے محافظ ہیں ورنہ نہ معلوم اگران اہل الرائے کے قبضہ میں اسلام اور احکام ہوتے توان کی کیا گت بناتے وہ تو غنیمت ہے ان کے قبضہ میں کچھ ہے نہیں چنانچہ حق تعالٰی فرماتے ہیں انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون ۔ ( ہم نے قرآن کو نازل کیاہے اورہم اس کے محافظ ہیں ۔ 12)
سوجب دین کے وہ خود محافظ ہیں بھلا اس کو کون مٹاسکتے ہے گوان بدفہموں نے تو مٹانے میں کوئی کسراٹھا نہیں رکھی اس لئے کہ ان کا مکراور دام کچھ کم نہیں اسی کو فرماتے ہیں
چراغ راکہ ایزد برفرد زد، ہر آنکس تف زندریشیش بسوزد (جس چراغ کوحق تعالٰی روشن فرمادیں اس کے بجھانے کی جوکوشش کرے گا اس کی داڑھی جل جاوئے گی ۔ 12)
اور فرماتے ہیں
اگر گیستی سراسر بادگیرد چراغ مقبلاں ہر گز نہ میرد
( اگر تمام روئے زمین میں آندھیاں آجاویں تب بھی خاصان خدا کا چراغ گل نہ ہوگا )
15/ ربیع الاول 1351ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم پنجشنبہ
(ملفوظ 200)بدعتی لوگ ہمیشہ دوسروں پراعتراض کرتے ہیں :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بدعتی لوگ ہمیشہ دوسروں ہی اعتراض کرنے میں مشغول رہتے ہیں مگرکوئی مفید بات یا کام کبھی نہیں کرتے ان کے یہاں چند چیزیں ہیں جن کو مایہ ناز سمجھتے ہیں مگر دین ان میں بھی نہیں ہوتا نہ فہم سے کام لیتے ہیں ایک مرتبہ کا نپور میں میں نے وعظ میں گیارھویں کے متعلق بیان کیا اس میں ایک انسپکڑ پولیس بھی شریک تھے بعد وعظ کے مجھ سے کہا کہ ہماری بڑی مشکل ہے فلاں فلاں عالم تو اس کو جائز کہتے ہیں اور تم اس کو بدعت کہتے ہو ہم کیا کریں میں نے کہا کہ اس کا جواب بعد میں دوں گا پہلے یہ بتلایئے کہ آپ کو تردد رفع کرنا ہے یا اعتراض کرنا مقصود ہے کہا کہ تردد رفع کرنا مقصود ہے میں نے دریافت کیا کہ تردد تو دونوں ہی جانب ہونا چاہئے سوجیسے مجھ سے اس وقت کہا گیا ہے کبھی ان مجوزین ( جائز کہنے والوں ) سے بھی اس طرح کہاہے کہ فلاں فلاں منع کرتے ہیں اور آپ اجازت دیتے ہیں ہم کیا کریں ، بس داروغہ جی ختم ہوگئے ۔
(ملفوظ 199) صفائی معاملات میں بڑی راحت ہے :
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ معاملہ کی صفائی بڑی راحت کی چیز ہے مگر لوگ اس سے برا مانتے ہیں یہ سب رسم کی خرابی ہے اور بدمعاملگی سے تکلیف سب کو ہوتی ہے مگر بے حسی ہوگئی ہے ان ہی باتوں کو میں مٹانا چاہتا ہوں اسی بدخلق مشہور کیا جاتا ہوں اب میں اکیلا کہاں تک اصلاح کروں ۔ یک اناروصد بیمار کا مصداق ہورہا ہے مگر پھر بھی بحمد اللہ بہت کام ہوگیا اور گو عمل عام نہ ہوا ہومگر علم تو بہت عام ہوگیا اوراس اصلاح میں میں سب مصلحین کا جو ساکت ہیں وقایہ بن گیا ورنہ سب ہی بدنام ہوتے اب اور حضرات تواپنے اخلاق متعارفہ کی وجہ سے لوگوں کو کچھ کہتے نہیں اور میرے اندر یہ اخلاق متعارفہ بحمداللہ ہیں نہیں اس لئے میں ہی روک ٹوک کرتا ہوں اس لئے مجھ کو ہی بدنام کرتے ہیں مگر مجھ کو اس کی پرواہ نہیں کیا کریں بدنام ہوتا کیا ہے ان کے بدنام کرنے کی وجہ سے میں اپنا مسلک اور اپنا طرز تھوڑا ہی بدل سکتا ہوں جس کو یہ طرز پسند نہ ہو وہ یہاں نہ آئے بلانے کون جاتا ہے بقول غالب
ہاں وہ نہیں وفا پرست جاؤ وہ بے وفا سہی جس کو ہوجان ودل عزیز اسکی گلی میں جائے کیوں
(ملفوظ 198)تحریک کی بدولت ایک صاحب کی بربادی :
فرمایا کہ ایک خط آیا ہے جن صاحب کا یہ خط ہے پہلے سرکاری ملازم تھے
اس تحریک کی بدولت ملازمت سے مستعفیٰ ہوگئے اب ملازمت تلاش کرتے ہیں مگرنہیں ملتی پریشان ہیں دین اور دنیا دونوں برباد ہوئے اوراس کانگریس کی وجہ سے توہر شخص پریشان ہے یہ کانگریس کی نحوست کا اثرہے اور دور تک اس کی نحوست پھیل رہی ہے میں تو کہا کرتا ہوں کہ انگریزوں کو تو خواہ نقصان پہنچا ہو یا نہیں مگر ملک توتباہ برباد ہو گیا جا بجا خونریزی ہورہی ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ سوراج مل جائے گا امن ہوجائے گا میں کہتا ہوں کہ خونریزی اور فساد بڑھے گا امن کو لوگ ترس جائیں گے آثار یہی کہہ رہے ہیں ۔
(ملفوظ 197)تنخواہ دارملازمین سے برتاؤ:
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں عرض کروں دوسروں سے تو میں کیا خدمت لے سکتا ہوں اور کسی کوکیا ستا سکتا ہوں میں نے تو اپنے تنخواہ دارملازموں تک سے کہ رکھا ہے کہ جوکام نہ کرسکو صاف کہدو کہ ہم نہیں کرسکتے مجھ کو اس پرکوئی ناگواری نہ ہوگی چنانچہ بعضے کام سے وہ بے تکلف انکارکردیتے ہیں جس سے مجھ کو بحمداللہ کوئی ناگواری نہیں ہوتی تو جس شخص کا اپنے تنخواہ دار ملازموں کے ساتھ یہ برتاؤ ہو وہ دوسروں سے تو کیا کام اورخدمت لے سکتا ہے اسی لئے میں قریب قریب سب کام اپنے ہاتھ سے کرتا ہوں مجھ کو اس کا بے حد خیال رہتا ہے کہ کسی کو میری وجہ سے تکلیف نہ ہو ۔
(ملفوظ 196)حسن معاشرت کی تعلیم :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل بدفہمی اوربدعقلی کا ایسا بازارگرم ہے کہ اچھے خاصے لکھے پڑھے لوگ ان علتوں میں مبتلا ہورہے ہیں ایک صاحب جویہاں دو تین روز سے مقیم تھے اوریہاں سے ابھی گئے ہیں دوپہر مجھ سے کہتے ہیں کہ فلاں فلاں کام کے لئے ایک تعویذ کی ضرورت ہے اور میں آج ہی چلا جاؤں گا مجھ کو بہت ہی ناگوار ہوا میں نے کہا کہ یہ کیا نامعقول حرکت ہے آخر کئی روز سے تمہارا قیام تھا عین چلنے کے وقت اوروہ بھی بے وقت تعویز کی فرمائش مگر خیر چونکہ نووارد تھے اتنی رعایت میں نے ان کی اب بھی کی کہ یہ کہہ دیا کہ بذریعہ خط تعویذ منگالینا اور ان بیچاروں کی کیا شکایت کی جاوے بعض لوگ یہاں پردس دس پندرہ پندرہ روز رہتے ہیں اورعین چلنے کے وقت دوتعویذ دیدو چارتعویذ دیدو میں کہتا ہوں کہ پہلے سے کیا مرگئے تھے جوچلتے وقت فرمائش کی آخر دوسرے کو بھی کچھ وقت دینا چاہئے اس کے مصالح اوروقت کی بھی تورعایت کرنی چایئے اس لئے کہ بعض وقت کسل ہوتا ہے یازیادہ مشغولی ہوتی ہے افسوس ہے میں توہربات میں سب کے مصالح کی رعایت کروں اوریہ ایسے نواب صاحب ہیں کہ ان کے حکم ہی کے ساتھ تعمیل ہوجاوے ایسی تعمیل توجہاں ہوتی ہوگی یہاں پرتوبجائے تعمیل کے بحمد اللہ تعلیم ہوتی ہے دماغوں میں سے خناس نکالا جاتا ہے بالخصوص یہاں پرمتکبروں کی اچھی طرح خبرلی جاتی ہے میں تواسی حسن معاشرے کی تعلیم پرکہا کرتا ہوں کہ یہاں پرآکردین توسیکھتے ہی ہو یہاں سے دنیا بھی سیکھ جاؤ ۔
(ملفوظ 195)ظاہراورباطن دونوں کی ضرورت:
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اورفنون توسب مشکل ہیں اورحاصل بھی دیر میں ہوتے ہیں مگریہ آج کل کی بزرگی اورصوفیت اوردرویش تواس سہل ہیں کہ ہلدی لگے نہ پھٹکری کچھ کرنا پڑے نہ دھرنا درویش ہوجاتے ہیں ، جہاں گردن جھکائی اورآنکھیں بند کیں اور کپڑے رنگے لٹیں بڑھائیں یا کفنی پہنی تسبیح ہاتھ میں لی بس درویش ہوگئے شاہ صاحب گائے جانے لگے ۔ غالبا حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ دورویشی دوپیسہ میں ملتی ہے ایک پیسہ کا گیرواورایک پیسہ کی تسبیح لیکردرویش ہوگیا آنکھ بند کرنے اورگردن جھکانے پرایک لطیفہ یاد آیا کہ ایک مرتبہ مولانا رفیع الدین صاحب
کے مزار پرگئے اسی سفر میں ایک مقام ہے براس مشہور ہے کہ وہاں بعض قبور انبیاء علیھم السلام کی ہیں وہاں بھی تشریف لے گئے چند طلباء بھی ہمراہ تھے منجملہ اوروں کے میں بھی تھا مولانا ان مزاروں پرپہنچ کرمراقب ہوکر بیٹھ گئے بعضے طالب علم بھی حضرت مولانا کے پیچھے گردن جھکا کر آنکھ بند کرکے بیٹھ گئے میں نے ان سے کہا کہ باطن کی تو پہلے ہی سے آنکھیں چھوٹی ہوئی تھی مگرظاہر کی بھی پھوڑبیٹھے بس آج کل یہی ہورہا ہے یہی چیزیں معراج ترقی ہیں باطن کا منکرنہیں لیکن باطن کے ساتھ ظاہرشریعت بھی تو ہو جس کو آج کل کی درویشی میں بیکار قراردے لیا گیا ہے نہ نرے ظاہرہی سے کچھ بنتا ہے نہ نرے باطن سے دونوں کی ضرورت ہے ۔
(ملفوظ 194) پیٹ کے درد کا دم :
ایک صاحب نے پیٹ کے درد کے لئے تعویذ کی درخواست کی فرمایا تفسیر حسینی میں نقل کیا ہے کہ ایک بزرگ تھے محمدواسع ان کے کہیں درد ہوا خادم کو حکم دیا کہ طبیب کوبلا لاؤ ، طبیب نصرانی تھا خادم اس کو بلانے جارہاتھا راستہ میں حضرت خضرعلیہ السلام ملے دریافت فرمایا کہ کہاں جارہے ہو غرض کیا کہ فلاں بزرگ کے دور ہے طبیب کوبلانے جارہا ہوں فرمایا جاؤ ان بزرگ سے میرا سلام کہو اورکہ دو کہ تم کومناسب نہیں نصرانی طبیب سے رجوع کرنا اور یہ آیت دم کردیں ۔ وبالحق انزلنہ و بالحق نزل وما ارسلنک الا مبشرا ونذیرا (اور ہم نے اس قرآن کو راستی ہی کے ساتھ نازل کیا اوروہ راستی ہی کے ساتھ نازل ہوگیا اور ہم نے آپ کو صرف خوشی سنانے والا ڈرانے والا بناکر بھیجا ہے ۔ 12) پھرفرمایا کہ میں ایسے مواقع کیلئے اکثر یہی آیت اورکبھی کوئی دعاء حدیث شریف کی لکھ کردیتا ہوں میں اس فن سے واقف نہیں یہ ایک مستقل فن ہے نیز ان تعویز گنڈوں سے مجھ کو بڑی ہی وحشت ہوتی ہے مگر حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے ارشاد کی وجہ سے کہ انہوں نے فرمایا تھا کہ جوکوئی اس حاجت کے لئے آیا کرے جوبھی جی میں آئے اللہ کا نام لکھ کردیدیا کرنا کچھ دیدیتا ہوں ورنہ طبعا چیزوں سے مجھ کو مناسبت نہیں ۔
(ملفوظ 193)گناہوں کی بدولت نئی نئی بیماریاں :
ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت آج کل ایسے ایسے امراض پیدا ہو رہے ہیں جن کے سمجھنے سے طبیب بھی قاصر ہیں فرمایا کہ حدیث شریف میں بھی توآیا ہے کہ گناہوں کی بدولت تمہارے اندر ایسے ایسے امراض پیدا ہوں گے جو کبھی تمہارے باپ دادا نے بھی نہ سنے ہوں گے ۔

You must be logged in to post a comment.