ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اس کوکوئی اپنی اصطلاح میں خواہ بے غیرتی کہے یا ضعف پر محمول کرے صاف بات یہ ہے کہ ہم اپنے بھائیوں کی ہرامرمیں موافقت اور ہرقسم کی امداد نہیں کرسکتے اور حقیقت میں اس کوامداد ہی کہنا صحیح نہیں کہ حدود سے تجاوز کرکے کسی کی موفقت کر لے کیونکہ حدود شریعت سے گذر کرآدمی جو کام بھی کرے گا اس کا برا ہی حشر ہوگا پھر وہ امداد کیا ہوئی چنانچہ اسی بناء پرہم لوگ کانگریسیوں کی امداد نہیں کرسکتے ہیں بلکہ محض سیاسی جماعت ہے جس میں زیادہ حصہ مذہب کے خلاف ہے اگر خدانخواستہ اس جماعت کا ہندوستان میں غلبہ ہوگیا اور خدا نہ کرے کہ وہ دن آئے تو یہ بھی ہندوستان میں وہی کریں گے جوبالشویک کررہے ہیں۔
ملفوظات حکیم الامت جلد نمبر 4
(ملفوظ 141) بیعت کی غایت اطلاع حالات پرہے :
ایک مہمان بہت دور کے رہنے والے آئے تحقیق کرنے پرمعلوم ہوا کہ کابل سے بھی ایک ماہ کی مسافت پران وطن ہے انہوں نے بیعت کی درخواست کی اس پر فرمایا کہ ہرمطلوب میں مقصود اس کی غایت ہوتی ہے اور اس کا ترغیب عادۃ موقوف ہے اطلاع حالات پراورآپ کے یہاں شاید ڈاک کا انتظام نہ ہوتوایسی حالت میں اگرآپ اپنے حالات کی اطلاع نہ دے سکے تونری بیعت سے کیا فائدہ ان صاحب نے عرض کیا کہ ڈاک کا انتظام کافی ہے برابر وہاں سے ہندوستان میں خطوط کی آمد ورفت رہتی ہے میں ضرور حضرت سے اپنی اصلاح کے متعلق خط وکتابت رکھوں گا فرمایا کہ اگریہ بات ہے تومجھ کو خدمت سے کیا عذرہوسکتا ہے میں تواس کام کے لئے بیٹھا ہی ہوں باقی جوشبہ تھا وہ آپ سے کہہ دیاگیا اوربتلادیا گیا کہ بیعت اصل نہیں اصل دوسری چیز ہے اور آپ کے جواب سے وہ شبہ رفع ہوگیا اب آپ کو ان شاء اللہ تعالٰی بعد نمازمغرب بیعت کرلوں گا آپ یاداشت کے طور پرایک پرچہ لکھ کرمجھ کودیدیں اس میں اپنا نام اورلفظ بیعت لکھ دیں تاکہ مجھ کو یاد رہے ان صاحب نے ایک پرچہ لکھ کرپیش کردیا اور بعد نماز مغرب نفلوں سے فراغ پران صاحب کو بیعت فرما لیا گیا ۔
(ملفوظ 140 ) مسئلہ تصور شیخ کے متعلق حضرت کی رائے :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ تصور شیخ کا مسئلہ کبھی جی کو نہیں لگا اس سے طبیعت الجھتی ہے بلکہ اچٹتی ہے میں حرکت کا فتوی تو نہیں دیتا یہ تو مولانا شہید رحمہ اللہ ہی کا منصب تھا مگرایسا حلال سمجھتا ہوں جیسے اوجھڑئ کو حلال سمجھتا ہوں مگر کھا نہیں سکتا پس اسی درجہ میں سمجھتا ہوں تصور شیخ کو گوحضرت مجدد صاحب نے اس کے نافع اورمحمود ہونے پربڑا زور دیا ہے مگر میں امرفطری کو کیا کروں ۔
12/ربیع الاول 1351ھ مجلس بعد نمازظہریوم دوشنبہ
(ملفوظ 139)آجکل کے غیرمقلدین کی بے انصافی :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل کے غیرمقلدین کی بے انصافی ملاحظہ کیجئے جواپنے اجتہاد سے اصول قائم کئے ہیں کہ وہ بھی منصوص نہیں ان کو تمام دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں اور عمل کرنے پر ترغیب دیتے ہیں اور حنفیہ نے جو اصول قائم کئے ہیں جو اجتہادی ہونے میں ان ہی کے ہم پلہ ہیں ان کو تسلیم نہیں کرتے آخر ان میں اوران میں فرق کیا ہے کہ ان کے قائم کردہ اصول توبدعت نہ ہوں اور حنفیہ کے اصول بدعت ہوں جودلیل ان کی سنیت کی بیان کی جائے گئ وہی جواب اور دلیل ہماری طرف سے ہوگا دیکھیں کیا جواب ملتا ہے۔
(ملفوظ 138 )غفلت کی حد :
ایک سلسلہ گفتگومیں فرمایا کہ تعجب ہے کہ اہل باطل کو تو اجازت ہے کہ وہ اہل حق سے تعصب رکھیں اوراہل حق کو اس کی بھی اجازت نہیں کہ وہ مدافعت بھی کرسکیں کتنے بڑے ظلم اور اندھیر کی بات ہے اور یہ اہل باطل اپنے مسلک کی اشاعت کے لئے اس قدر اہتمام کرتے ہیں کہ اگراس میں ذرا کمی ہوتوان کا زندہ رہنا دشوار ہے اس لیے کہ حق تعالیٰ کی نصرت تو ان کے ساتھ ہے نہیں محض قوت ظاہری اور سامان ظاہری پران کی مذہبی زندگی کا مدار ہے وہ بھی نہ ہوتو بس خاتمہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ اہل باطل ہمیشہ متفق ومشغول تدابیر رہتے ہیں اور اہل حق ہمیشہ اس خیال میں رہتے ہیں کہ اللہ کا دین ہے وہ خود حفاظت کریں گے اس لئے وہ زیادہ اہتمام نہیں کرتے اور فی نفسہ تویہ خیال نہایت صحیح اور مبارک خیال ہے مگر اس میں ایک بہت بڑی غلطی مضمر ہے جس کو میں اس وقت ظاہرکرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اس خیال میں غلو ہوگیا ہے یعنی اس قدر بے پروائی ہوگئی ہے کہ وہ توکل اور استغناٰء کے درجہ سے بڑھ کرغفلت کی حد تک پہنچ گئی اور یہ استغنا ایسا ہے جیسے کوئی شخص یہ دیکھ کر کہ حق تعالٰی فرماتے ہیں ۔ انا نحن نزلناالذکروانا لہ لحافظون ، یعنی ہم قرآن مجید کے محافظ ہیں یہ رائے دے کہ لوگ حفظ کرنا چھوڑ دیں حالانکہ یہ حکم فرمانا کہ تم حفاظت کرو یہ بھی حق تعالٰی ہی کی توحفاظت ہے اور اس حالت میں حق تعالٰی کی حفاظت کا یہ محض اثر ہے کہ تدبیر میں زیادہ اہتمام کی ضرورت نہیں ضروری توجہ اور معتدل سعی کافی ہے ۔
(ملفوظ 137)دورحاضرکے تقویٰ کی مثال :
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ آج کل کا تقدس اور تقوٰٰی طہارت اورزہد بی بی تمیزہ کاسا وضو ہے جونہ جنابت سے ٹوٹتا تھا اورنہ دل بول براز سے مہینوں ایک ہی وضو سے نماز پڑھی اور درمیان میں سب کچھ ہوتا رہا ایسا ہی آج کل کا تقویٰ ہے کہ ایک بار اس رجسٹری ہوجائے پھرکوئی چیز اس میں مخل نہیں ہوتی پھر لطف یہ ہے کہ اگراس بے احتیاطی کا اثر دوسروں تک پہنچے اور کوئی خیرخواہ ان سے کہے کہ حضرت یہ لوگ آپ کے معتقد ہیں آپ کے فعل سے استدلال کرتے ہیں گمراہ ہوتے ہیں آپ کواحتیاط مناسب ہے تواس پر جواب ملتا ہے کہ آپ ذاتیات پرحملہ کرتے ہیں حالانکہ وہ ذاتیات نہیں ہوتے اور اگر بالفرض ذاتیات بھی ہوں تب بھی حیرت ہے کہ تم تو آیات بینات اور دینیات پر حملہ کرو اور کوئی تمہاری ذاتیات کے قلب میں ہوتی تھی اب یہی بات نہیں رہی لوگوں میں اسی کی کمی ہوگئی ۔
(ملفوظ 136 )اہل اللہ اورخاصان کی شان :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اہل اللہ اور خاصان حق کی شان ہی جدا ہوتی ہے ان کی تکالیف ظاہری بھی ان کے لئے موجب راحت باطنی ہوتی ہیں اس لئے ان کی حالت کا دوسروں کو اپنی حالت پرقیاس کرنا بلکل ہی غلط ہے مولانا رومی رحمہ اللہ اسی کو فرماتے ہیں
کارپاکان راقیاس از خود مگیر، گرچہ ماند درنوشتن شیر و شیر
چنانچہ حضرت شیخ عبدالقدوس صاحب گنگوہی رحمہ اللہ پرجب فقرہ وفاقہ ہوتا تو کبھی ان کی بیوی چونکہ ان کے پیر کی بیٹی تھیں کہتیں کہ حضرات اب تو تحمل نہیں کچھ کھانے پینے کا انتظام کرنا چاہئے تو بیوی کے جواب میں فرماتے انتظام ہورہا ہے گھبراؤ مت وہ دریافت کرتیں کہاں ہورہا ہے فرماتے جنت میں ماشاءاللہ وہ بی بی بھی ایسی تھیں کہ جنت کے وعدہ پران کو سکون ہوجاتا تھا اب تویہ حالت ہے کہ ایمان رہے یا جائے آمدنی ہوروپیہ ہو، عیش وعشرت میں کوئی فرق نہ آجائے چاہے اللہ اور رسول کے تعلقات میں کیسا ہی فرق آجائے ۔
(ملفوظ 135)فقہاء کاعلم غیر فقیہہ کی سمجھ سے بالا ہے :
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ فقہاء کی شان اور ان کا علم غیرفقیہ کی سمجھ سے بالاتر ہے اور اس کی ایک غامض وجہ ہے وہ یہ کہ ان میں صرف علم ہی نہیں تھا بلکہ اس سے بڑھ کرایک اور چیز ان میں تھی اوروہ خشیت حق ہے اس کو حقیقت رسی میں خاص دخل ہے ان اسباب سے وہ حضرات اجتہاد کے اہل تھے اوراس وقت کے تواجتہاد میں بھی وہی سوجھتا ہے جو نفس میں ہوتا ہے الاماشاء اللہ مگراکثریت اسی اتباع ہوی ٰ کی ہے اسی لئے اج کل کے غیرمقلدوں کے متعلق قاری عبدالرحمن صاحب پانی پتی فرمایا کرتے تھے کہ یہ عامل بالحدیث توہیں مگرکونسی حدیث اس لئے کہ حدیث کی دو قسمیں ہیں ایک حدیث رسول ﷺ اور ایک حدیث النفس سویہ دوسری قسم کےعامل بالحدیث ہیں اور حضرت سچ تویہ ہے کہ اگر ہم میں علمی اسباب بھی اجتہاد کے ہوتے تب بھی ہم اس قابل نہ تھے کہ ہم کو اجتہاد کی اجازت دی جائے اگر ہم علم میں ذہن میں عقل وفہم میں ان حضرات کے برابر بھی ہوتے تب بھی ہم میں اوران میں جوایک بڑا فرق ہوتا وہ خشیت حق کا ہے ان کے قلوب میں حق سبحانہ تعالٰی کی جوخشیت ہے حتی کہ جس کا قلب خشیت حق سے لبریز ہوتا ہے اسکے کلام تک تک کی شان جدا ہوتی ہے اور یہ شان خاص ہونا ایسی بدہی بات ہے کہ اسکا اندازہ اس زمانہ جہل میں بھی ہوسکتا ہے اہل فہم اس فرق کو معلوم کرسکتے ہیں ۔
(ملفوظ 134)اپنا مقصود طاہرکئے بغیرکیسے اصلاح کی امید ہوسکتی ہے :
ایک صاحب کی غلطی پرمواخذہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ جب آدمی اپنے مقصود ہی کو ظاہر نہیں کرسکتا توآ گے اس سے کیا امید ہوسکتی ہے مجھ کوتو اس کا بھی قلق ہوتا ہے کہ سفر بھی کیا روپیہ بھی صرف ہوا وطن چھوڑا اور پھر محرومی رہی میں یہ کیسے مان لوں کہ گھر سے اتنی دور آگئے اورمقصود کوئی ذہن میں نہ ہوکیا ہونہی دیوانوں کی طرح دھکے کھاتے تھے پھرتے ہیں یا کچھ دماغ میں خلل ہے ایسے ایسے کوڑمغز اور بدفہم میرے حصہ میں آتے ہیں خدا معلوم کیا کوئی خاص مدرسہ ہے بدفہموں کا جہاں یہ لوگ تعلیم پاکر آتے ہیں اب اگر کچھ کہتا ہوں توبدنام ہوتا ہوں اوراگرنہیں کہتا توبت کی طرح بیٹھے ہیں نہ ہاں کچھ نہیں اسکے بعد فرمایا ارے بندہ خدا کچھ تو دوسرے آدمی کو جواب دینا چاہئے اگرکوئی جواب نہیں تویہ ہی کہ دو کہ کوئی جواب نہیں یہ بھی ایک جواب ہے اس پران صاحب نے عرض کیا کہ میں ذرا سوچ کر پھر کسی وقت جواب دوں گا فرمایا ماشاءاللہ ایک بات تو فہم کی کہی اگریہ پہلے ہی سے کہ دیتے تومجھ کو اتنی پریشانی نہ ہوتی اچھا جاؤ اورتنہائی میں بیٹھ کر جواب سوچ لواور جب سمجھ میں آجائے تومجھ کوخود تویادرہے گا نہیں تم خود اطلاع کردینا اوراس میں بھی یہ آزادی ہے اگر تمہارا جی چاہے تواطلاع کرنا اگرنہ چاہے مت کرنا مجھ کو انتظار نہ ہوگا اگراطلاع میں اپنا نفع سمجھو اور مجھے اصلاح کرانا مقصود ہو اطلاع کرنا ورنہ جوارادہ ہواس پرعمل کرلینا میری طرف سے بالکل آزادی ہے ۔
(ملفوظ 133)خدا سے محبت پیدا کرنا تمام تصوف کی جڑ:
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اس راہ میں صرف ایک ہی طریق ہے کامیابی کا وہ یہ کہ خدا سے محبت پیدا کرو بس یہی جڑ ہے تمام تصوف کی بدوں اس کے اس راہ میں کامیابی مشکل ہے اب رہا یہ کہ محبت پیدا کرنے کا کیا طریق ہے سووہ طریق یہ ہے کہ اہل محبت کے پاس بیٹھو ان کی صحبت اختیار کرواس کی برکت سے یہ چیز نصیب ہوجائےگی اور یہ چیز نہ پیرکی توجہ پرموقوف ہے اور نہ کسی تعویذ گنڈوں پریہ خود اپنی طلب پرموقوف ہے اب جس کوبھی عطا ہوجائے مگرطلب ضرور شرط ہے ۔

You must be logged in to post a comment.