ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ علماء کو ضرورت ہے فقراء کی اور فقراء کو ضرورت ہے علماء کی خواہ مخواہ جماعت بندی کر رکھی ہے ـ ان دونوں فرقوں کی ضرورت کی ایک مثال ہے وہ یہ کہ بدون علم ﷽ظاہر کے ایسا ہے کہ جیسے حسین مگر ننگا اور بدون باطن کے ایسا ہے جیسے لکڑی کو قیمتی کپڑے پہنا دیئے جائیں سو دونوں کی ضرورت ہے مگر فقراء سے مراد اہل فن ہیں جو بقدر ضرورت اہل علم بھی ہیں ـ جہلا فقرا مراد نہیں ـ
14 ذی الحجہ 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم پنجشنبہ
