(ملفوظ 18) علماء کافر بتاتے ہیں ، بناتے نہیں ہیں

آج کل علماء پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ علماء لوگوں کو کافر بناتے ہیں ۔ میں کہا کرتا ہوں کہ ایک نقطہ تم نے کم کر دیا ہے ۔ اگر ایک نقطہ اور بڑھا دو تو کلام صحیح ہو جائے وہ یہ کہ وہ کافر بتاتے ہیں ( بالتاء) بناتے نہیں ( بالنون ) بنانے کے معنی کی تحقیق کر لو ، وہ اس طرح آسان ہے کہ یہ دیکھ لو کہ مسلمان بنانا کس کو کہتے ہیں اسی کو تو کہتے ہیں کہ یہ تم نے کسی مسلمان کو اول دیکھا کہ علماء اس کو یہ کہہ رہے ہوں کہ تو کافر ہو جا ۔ البتہ جو شخص خود کفر کرے اس کو علماء کافر بتا دیتے ہیں یعنی یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ کافر ہو گیا ۔
ترغیب دی جائے کہ تو مسلمان ہو جا تو اسی قیاس پر کافر بنانے کے معنی کفر کی تعلیم و ترغیب ہوں گے تو کیا